اللہ پاک
قرآن کریم میں سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 280 میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمۂ کنز
الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل
چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بھلا ہے اگر جانو ۔
اس آیت
مبارکہ کے تحت مفتی محمد قاسم عطاری نقل فرماتے ہیں :وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر مقروض تنگدست ہو: یعنی تمہارے قرضداروں میں
سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور
ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا
تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں
لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۰، ۱ / ۲۱۸)
اس سے ثابت
ہوا قرض دار پر شفقت کرنی چاہیے کیونکہ رب عزوجل نے قرآن مجید میں نرمی کرنے کی
ترغیب دلائی ہے قرض دار ،مقروض پر نرمی کے بارے میں کئی احادیث وارد ہوئی ہیں اس
کو مہلت دینا بھی نرمی میں داخل ہے اور اسکو معاف کر دینا بھی نرمی میں داخل ہے آئیں
ہم آپ کو نبی پاک ﷺ کے فرمان مبارک مقروض پر نرمی کے فضائل سنتے ہے:
مُسلِم شریف
کی حدیث ہے: سیِّدِعالم ﷺ َ نے فرمایا : جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرضہ معاف کیا اللہ تَعَالٰی اس کو اپنا
سایۂ رحمت عطا فرمائے گا جس روز اس کے سایہ کے سِوا کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ “
اسی طرح
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور جگہ ارشاد فرمایا :سرکارِمدینۂ
منوَّرہ، سردارِ مکۂ مکرَّمہ ﷺ َ کافرمانِ عالیشان ہے : جس شخص کو یہ بات پسند
ہو کہ اللہ تَعَالٰی اسے قیامت کے دن غم سے بچائے، تو اُسے چاہیے کہ تنگدست قرضدار
کومُہْلَت دے یا قر ض کا بوجھ اس کے اُوپر سے اُتاردے(یعنی معاف کردے) ۔ (
مُسْلِم، کتاب المساقاة، باب فضل اِنظار المعسر، ص۸۴۵، حدیث : ۱۵۶۳)
اسی طرح
موجودہ زمانے میں دیکھا جائے جب ہر تیسرا شخص حالات کے ہاتھوں پریشان ہے تو ہمیں
بھی پیارے آقا کی سنتوں کواپنا کر اپنے مقروضوں نرمی والا معاملہ کرنا چاہیے اور
ان احادیث پرعمل کرنا چاہیے آج کے دور میں غریب تو ہے لیکن سرمائے دار بھی پریشان
نظر آتے ہیں قرض دار کو مہلت و نرمی والا معاملہ کرنا چاہیے حدیث پاک میں ہے ۔
حضرت حذیفہ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نے نبی پاک ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ
آپ ﷺ نے
فرمایا کہ ایک شخص کا انتقال ہوا ( قبر میں ) اس سے سوال ہوا، تمہارے پا س کوئی نیکی
ہے؟ اس نے کہا کہ میں لوگوں سے خرید و فروخت کرتا تھا ۔ ( اور جب کسی پر میرا قرض ہوتا ) تو میں
مالداروں کو مہلت دیا کرتاتھا اور تنگ دستوں کے قرض کو معاف کر دیا کرتا تھا اس پر
اس کی بخشش ہو گئی ۔
(صحيح
البخاری ،کتاب فی الِاسْتِقْرَاضِ
وَأَدَاءِ الدُّيُونِ ،حدیث 2391)
نبی کریم ﷺ
نے مقروض کی تنگدستی کے وقت اس پر سختی کرنے سے منع فرمایا اور قرض خواہ کو ترغیب
دی کہ وہ یا تو اسے مہلت دے، یا اگر ممکن ہو تو معاف ہی کر دے ۔ اس عمل میں اللہ کی رضا اور آخرت کی سختیوں سے
نجات کا وعدہ ہے ۔
Dawateislami