اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے جو نہ صرف انسان کے خالق سے تعلق کو مضبوط کرتا ہے، بلکہ
لوگوں کے درمیان معاملات میں بھی اخلاقیات
اور حسنِ سلوک کی اعلیٰ ترین مثالیں قائم کرتا ہے ۔ مالی معاملات اور قرض کے لین دین کے حوالے سے
بھی ہمارے پیارے نبی، حضرت محمد ﷺ نے ایسی روشن اور خوبصورت تعلیمات دی ہیں جو
دلوں میں نرمی پیدا کرتی ہیں اور معاشرے کو محبت و بھائی چارے کا گہوارہ بناتی ہیں
۔ آئیے، آج ہم انہی نبوی تعلیمات کو آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں جن کا بنیادی مقصد
مقروض (قرض لینے والے) پر سختی کرنے کے بجائے نرمی، آسانی اور ہمدردی کا رویہ اپنانا
ہے ۔
(1)نادار
قرضدار کو مہلت دینا یا معاف کر دینا:اسلام میں قرض کی ادائیگی کو بہت زیادہ اہمیت دی
گئی ہے، مگر اس کے ساتھ ہی نبی کریم ﷺ نے مقروض کے ساتھ نرمی اور رحم
دلی کا حکم فرمایا ہے ۔
قرآن مجید
کی ایک واضح آیت اس اصول کی بنیاد فراہم کرتی ہے: ترجمہ کنز الایمان:اور اگر
قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا
تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔ (سورۃ
البقرہ، آیت ۲۸۰)
اس آیت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اگر کوئی
قرضدار تنگ دست یا نادار ہو تو اسے ادائیگی کے لیے مہلت دینا، یا پھر قرض کا کچھ
حصہ یا پورا قرض معاف کر دینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑے اجر کا سبب ہے ۔
احادیث کی
روشنی میں فضائل:نبی اکرم ﷺ نے قرضدار پر آسانی کرنے کے جو فضائل بیان
فرمائے ہیں، وہ صاحبِ ثروت لوگوں کو دل کھول کر نیک کام کرنے کی ترغیب دیتے ہیں:
قیامت کی سختیوں سے نجات: حضور
اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کی تکلیفوں سے
نجات دے، وہ کسی نادار کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے ۔
(مسلم،کتاب
المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳))
عرش کا سایہ: ایک اور جگہ آپ ﷺ نے
ارشاد فرمایا: "جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا، اللہ
تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو
گا ۔ " (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر الخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)
اللہ کی رحمت: آپ ﷺ نے
دعا فرمائی: "اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے، خریدنے اور اپنا حق
تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ " (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی
الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )
اللہ کی درگزر: ایک سبق آموز واقعہ
ہے کہ گزشتہ زمانے کے ایک تاجر کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو اس سے اس کے نیک
عمل کے بارے میں پوچھا گیا ۔ تاجر نے کہا
کہ اسے صرف اتنا یاد ہے کہ وہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور مالی اعتبار
سے تنگ دست لوگوں کو مہلت دیتا تھا اور ناداروں سے درگزر کرتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے) فرمایا: تم بھی اس
سے درگزر کرو ۔
(مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار
المعسر، ص۸۴۴، الحدیث: ۲۹(۱۵۶۰)
(2)قرض کا
مطالبہ نرمی اور اچھے طریقے سے کرنا (حسنِ تقاضا):اسلام صرف مقروض کو ہی
ذمہ دار نہیں ٹھہراتا بلکہ قرض دینے والے کو بھی یہ سکھاتا ہے کہ جب وہ اپنا حق
مانگے تو بہترین اخلاق اور نرمی کے ساتھ مانگے ۔ نبی ﷺ نے سختی اور تلخ لہجے میں مطالبہ کرنے سے منع
فرمایا ہے ۔
نبوی تعلیم: حضور اکرم ﷺ خود
بھی ہمیشہ معاملات میں نرمی فرماتے تھے ۔ آپ نے ان لوگوں کی تعریف فرمائی جو اپنا حق ادا کرتے وقت بھی نرمی برتتے ہیں
اور اپنا حق طلب کرتے وقت بھی نرمی سے کام لیتے ہیں ۔
اخلاقی ذمہ داری: اس کا مطلب یہ ہے کہ
اگرچہ آپ کا مال واپس لینا آپ کا حق ہے، لیکن مقروض کی غربت، پریشانی اور مجبوری
کا خیال رکھنا آپ کی اخلاقی ذمہ داری ہے ۔ نرم اور دھیمے لہجے میں بات کرنا دلوں کو جیتنے کا سبب بنتا ہے ۔
انسانیت کا
درس:نبی اکرم ﷺ کی یہ تعلیمات دراصل انسانیت، ایثار اور ہمدردی
کا درس ہیں ۔ یہ ہمیں سکھاتی ہیں کہ ہمارا
معاشرہ لالچ اور خود غرضی کی بجائے محبت اور بھائی چارے کی بنیاد پر کھڑا ہو ۔ اگر
ہم ان تعلیمات پر عمل کریں، تو ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے نرمی پیدا ہو گی،
غربت و افلاس کی وجہ سے قرض کے بوجھ تلے دبے لوگوں کو سہارا ملے گا، اور ہمیں دنیا
میں بھی سکون میسر آئے گا اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں جگہ
نصیب ہو گی ۔
عملی ہدایات
نبوی ﷺ کی روشنی میں:
مہلت دیں: اگر مقروض ادائیگی کی صلاحیت نہ
رکھتا ہو تو اسے وقت دیں ۔
سختی نہ کریں: قرض کی واپسی کے لیے دباؤ، دھمکی
یا ذلت آمیز رویہ اختیار کرنا اخلاقی طور پر سخت ناپسندیدہ ہے ۔
معاف کریں: جہاں ممکن ہو، خاص طور پر غریب یا
مجبور قرضداروں کو معاف کر دیں ۔
آئیے! ہم
عہد کریں کہ جب بھی ہم کسی مالی معاملے میں ہوں گے، ہم اپنے نبی ﷺ کی
سنت پر عمل کرتے ہوئے مقروض پر سختی کی بجائے نرمی، آسانی اور محبت کا برتاؤ کریں
گے ۔ یہ بہترین صدقہ اور ایمان کا تقاضا
ہے ۔
Dawateislami