بچوں
کی موبائل سے جان کیسے چھڑائیں؟ از بنتِ سکندر خاور،جامعۃ المدینہ لطیف آباد نمبر
8 حیدر آباد
ہمارا
دینِ اسلام بچوں کی پرورش۔ان کی اخلاقی تربیت اور اُن کی ذہنی حفاظت کے لئے نہایت
واضح اصول بیان کرتا ہے،لیکن آج کے دور میں بچوں کے لیے سب سے بڑا فتنہ موبائل فون
کی صورت میں نکلا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ موبائل فون علم و ہنر کے لیے بھی استعمال ہو سکتا
ہے اور گناہوں،وقت کو برباد کرنے اور ذہنی
بیماریوں کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔آج کے دور میں موبائل ایک ضرورت بھی ہے
اور ایک آزمائش بھی۔بڑے تو پھر بھی کسی حد تک قابو کر لیتے ہوں گے مگر بچوں کے لیے
یہ ایک کھلونا۔مشغلہ اور عادت بن گیا ہے۔ہمارے معصوم بچے اس کے اسیر ہو چکے ہیں جیسے
کسی پرندے کو پنجرے میں قید کر دیا جائے اس کی بچوں کا ذہن اور دل اسکرین کے اندر قید ہوگیا ہے۔یہ ہی
وجہ ہے کہ بچے ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور نظر آتے ہیں اور اس کے اثرات بچوں کے
کردار۔ان کی شخصیت۔مہارتوں اور صلاحیتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔کچھ تحقیقات کے
مطابق موبائل فون کے اثرات خاص کر بچوں پر اس طرح پڑ رہے ہیں:
موبائل کے اثرات:
نیند کی کمی،موبائل کی روشنی آنکھوں اور دماغ کو
متحرک رکھتی ہے،غصہ،ذہنی دباؤ،توجہ کی کمی،گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ میل جول
کم ہو جاتا ہے،بات چیت کم ہوتی ہے،پڑھائی پر دھیان نہیں ہوتا،کمزور بدن،چڑچڑےپن کے
اثرات بڑھ جاتے ہیں، وزن بڑھانا،آنکھوں کی کمزوری ،موبائل ایک ایسی بیماری ہے جس کی
کوئی آواز نہیں مگر آنکھوں کی روشنی اور دماغی صحت کو بہت متاثر کر رہی ہے۔
اب
والدین پریشان رہتے ہیں کہ بچے پڑھائی اور دیگر سرگرمیوں کے بجائے موبائل میں زیادہ
مشغول رہتے ہیں اور زیادہ وقت ضائع کرتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ بچوں کو موبائل فون
کے استعمال سے کیسے اور کس طرح روکنا چاہیے؟وہ
بھی اس طرح کہ ان کی ضد نہ بڑھے اور خوشی اور اطمینان کے ساتھ اس کی ضرورت سے زیادہ استعمال سے رک جائیں۔
بچوں
کو موبائل فون کے استعمال سے روکنے کے لئے مندرجہ ذیل طریقے کار اور تدابیر کو اختیار
کیا جائے تو ممکن ہے کہ بچوں کو موبائل کے استعمال سے روکنے میں کامیاب ہو جائیں۔
موبائل سے دور رکھنے
کے طریقے
1-پریکٹیکل:
بچے وہی
کرتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں۔لہٰذا اگر والدین خود موبائل زیادہ استعمال کرتے ہیں تو
خود موبائل کا استعمال کم سے کم کریں۔کیونک بچے عمل سے زیادہ سیکھتے ہیں نہ کہ نصیحت
ہے۔
2- موبائل کے بجائے دلچسپ مشغلے:
جب بھی
بچے موبائل کا مطالبہ کریں آپ انہیں کھلونے،تخلیقی کام،رنگ بھرنا، ڈرائنگ بنانا وغیرہ
اور اس جیسی دیگر سرگرمیاں جیسے سائیکلنگ،گھر میں موجود پالتو جانوروں سے کھیلنا،پودے
لگانا وغیرہ میں مشغول کرنے کی کوشش کیجیے۔
3- وقت کی پابندی:
بچوں
کے لئے اسکرین ٹائم شیڈول بنائیے مثلاً:صرف آدھا یا ایک گھنٹہ موبائل فون دیا جائے اور اس میں بھی کوشش کی جائے کہ
اسلامک کارٹونز یا کچھ اچھی و مثبت چیزیں ہی دیکھے اور ٹائم مکمل ہوتے ہی موبائل
لے لیا جائے۔
4- خاص انداز اپنائیے:
بچوں سے سیدھا یہ نہ کہیے کہ موبائل کا استعمال
نہ کرو بلکہ انہیں کہانی یا مثال کے ذریعے سمجھائیے،مثلاً:ایک بچہ موبائل زیادہ
استعمال کرتا تھا وہ بیمار ہوگیا۔دوسرا بچہ موبائل کم استعمال کرتا تھا وہ اچھا
بچہ بن گیا اورصحت مند ہو گیا وغیرہ۔
5- شرائط مقرر کیجیے:
مثلاً:اگر
آپ اپنا کام مکمل کریں گے،نمازیں پڑھیں گے،سبق یاد کریں گے تو آپ کو موبائل دیا
جائے گا۔
6- توجہ رکھیے:
اکثر
بچے توجہ نہ دینے کے سبب موبائل وغیرہ پر زیادہ مشغول رہتے ہیں۔لہٰذا روز کم از کم
15-20 منٹ ان سے باتیں کیجیے،ان کی باتیں سنیے،انہیں کچھ نیا سکھائیے اور اگلے دن
ان سے پوچھیے ۔
7-اصول بنائیے:
گھر میں
کوئی خاص جگہ یا کوئی ٹیبل وغیرہ مختص کیجئے جہاں تمام گھر کے افراد کے موبائل
مخصوص وقت (مثلاً:
کھانا،نماز یا فیملی ٹائم) کے دوران جمع کیے جائیں۔
خلاصہ:
یاد
رکھیے! بچوں کو موبائل سے بچانا اور ان کی جان چھڑانا یہ صرف عادت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ان کی صحت،علم
اور مستقبل کا سوال ہے۔اگر آج ہم نے توجہ نہ دی تو آنے والی نسلیں کمزور دماغ،کمزور
اخلاق اور کمزور کردار کی شخصیت کی مالک ہوں گی۔اللہ کریم ہمیں اور ہماری نسلوں کو
نیک و صالح بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
Dawateislami