محمد اسماعیل(درجہ خامسہ جامعۃ
المدينہ فیضان مدینہ ،فیصل آباد ،پاکستان)
واٹس ایپ نمبر: 03363361817
اللہ عزوجل نے مسلمانوں کی ہدایت کے لیے انبیاء کرام کو
مبعوث فرمایا اور سب سے آخر میں سب سے اولی و اعلی نبی ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ کی
سیرت انسانوں کے لیے قیامت تک کے لیے ہدایت اور روشنی ہے۔ آپ ﷺ کی حیات مبارکہ کو
سیرت کہا جاتا ہے جس میں آپ کی پیدائش، معاملات، اخلاق، عبادات وغیرہ سب شامل ہے۔
مطالعہ سیرت اس لیے بھی ضروری ہے کہ اللہ ﷻ نے فرمایا: لَقَدْ
كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا
اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ(۲۱)
ترجمہ کنز
العرفان: بیشک تمہارے لئے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ موجود ہے اس کے لیے
جو الله اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہے اور الله کو بہت یاد کرتا ہے۔ (سورۃ
الاحزاب، آیت 21)
اللہ عزوجل نے
حضور ﷺ کی سیرت کو "اسوہ حسنہ" قرار دے کر مسلمانوں پر اس کی پیروی
کو لازم قرار دے دیا۔اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
تیری
خلق کو رب نے جمیل کیا تیرے خُلق کو رب نے عظیم کہا
کوئی
تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا شہا تیرے خالق حسن و ادا کی قسم
حضرت انس رضی الله عنہ فرماتے ہیں: " خَدَمْتُ
النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي
أُفٍّ وَلَا لِمَ صَنَعْتَ وَلَا أَلَّا صَنَعْتَ"
ترجمہ: میں نے نبی ﷺ کی دس سال خدمت کی، کبھی مجھ سے اف نہ فرمایا اور نہ یہ کہ تم
نے یہ کیوں کیا اور نہ یہ کہ کیوں نہ کیا۔ (صحیح البخاری، کتاب الادب، باب حسن
الخُلُق والسخاءِ وما یُکرَہ من البخل، حدیث 6048، صفحہ 1513، دار ابن کثیر)
حضور ﷺ کی سیرت دنیا میں سب سے بہترین سیرت ہے اور کیوں
نہ ہو کہ آپ ﷺ سے کامل و اکمل دنیا نے کبھی دیکھا ہی نہیں۔ جو شخص بھی زندگی میں
آپ کی سیرت کی پیروی کرے اس کی دنیا و آخرت میں کامیابی یقینی ہے۔
مطالعہ سیرت کے چند فوائد:
(1)عملی زندگی گزارنے کا نمونہ: سرکار ﷺ
کی زندگی میں دنیا کے ہر شخص کے لیے رہنمائی موجود ہے گھر کے معاملات ہوں، تجارت
کے معاملات ہوں، رشتہ داروں کے معاملات ہوں یا دوستی کے معاملات ہوں۔ الغرض زندگی
کا کوئی بھی شعبہ اٹھا کر دیکھ لیں کسی نہ کسی طرح حضور ﷺ کی زندگی سے ہمیں رہنمائی
مل جاتی ہے۔
(2) اخلاق اور کردار کو بہتر بنانا: حضور
ﷺ کے اخلاق کو رب تعالی نے عظیم فرمایا ارشاد فرمایا: "وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ"
ترجمہ کنز العرفان: اور بیشک تم یقینا عظیم اخلاق پر ہو۔ (سورة القلم، آیت 4)
(3) صبر، برداشت اور ثابت قدمی کا درس ملتا ہے:
حضور ﷺ کی پوری زندگی میں ہی بالخصوص مکی زندگی میں اور سفر طائف میں صبر، برداشت
اور ثابت قدمی کا درس ملتا ہے۔
(4) دین کی دعوت دینے کا درست طریقہ معلوم ہوتا ہے:
حضورﷺ کی زندگی ،مبلغین کے لیے بھی دین کی دعوت دینے کا اور اس راہ میں مشکلات
برداشت کرنے کا بھی بہترین سبق ہے۔
(5)قرآن مجید کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے: حضور
صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال بے شک قرآن مجید کی تفسیر ہے۔ جیسے کہ قرآن
میں نماز کا ذکر ہے مگر کس وقت پڑھنی ہے کتنی پڑھنی ہے کیسے پڑھنی ہے یہ سب حضور کی
زندگی سے پتہ چلتا ہے۔
(6)عشق رسول ﷺ میں اضافہ ہوتا ہے: حضور ﷺ
کے اوصاف کو جتنا پڑھا جائے اتنا ہی عشق میں اضافہ ہوتا جاتا ہے تو ہمیں چاہیے کہ
ہم سیرت کو پڑھتے جائیں اور اپنے عشق میں اضافہ کرتے جائیں۔
(7)مثالی معاشرہ بنانے کی رہنمائی ملتی ہے:
حضور ﷺ ایسے معاشرے میں مبعوث فرمائے گئے جہاں ہر قسم کی خرابیاں پائی جاتی تھیں
مگر آمد حضور کے بعد وہی معاشرہ مثالی معاشرہ بن گیا اور دنیا کا بہترین معاشرہ بن
گیا۔ آج ہم اپنے معاشرے میں بڑھتی ہوئی برائیوں کو باآسانی ختم کر سکتے ہیں اگر ہم
سیرت حضور کے مطابق زندگی گزاریں۔
اللہ ﷻ ہمیں پیارے نبی ﷺ کی پیاری سیرت کا مطالعہ کرنے
اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
Dawateislami