بیعت
رضوان کا واقعہ: حضرت
عثمان غنی مکہ پہنچے اور قریش کے سرداروں کو یقین دلانے لگے لیکن وہ ٹس سے مس نہ
ہوئے انہوں نے حضرت عثمان کو پیش کش کی کہ اپ خود طواف کر لیں دوسروں کی بات مت
کریں مگر حضرت عثمان غنی نے فرمایا اللہ کی قسم میں ہرگز اس گھر کا طواف نہ کروں
گا جب تک کہ رسول اللہ ﷺ اس کا طواف نہ فرما لیں بات بڑھ گئی اور ان کا قیام وہاں
طول پکڑ گیا، ایسے میں یہ افواہ سرگرم ہوگئی کہ حضرت عثمان کو قریش نے شہید کر دیا
ہے مصطفی جان رحمت ﷺ تک جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ عثمان کے خون کا بدلہ
لینا فرض ہے یہ فرما کر آپ ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے اور صحابہ کرام سے فرمایا کہ
تم سب لوگ میرے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کرو کہ آخری دم تک تم لوگ میرے وفادار رہو
گے تمام صحابہ نے یہ عہد لے کر آپ کی بیعت کی یہی وہ بیعت ہے جس کا نام تاریخ
اسلام میں بیعت الرضوان ہے اس درخت اور اس کے نیچے ہونے والی بیعت کا ذکر قرآن پاک
میں دو مقامات سورۂ مائدہ اور سورۂ فتح کی کئی آیات میں آیا ہے۔ بیعت الرضوان 6 ہجری
میں صلح حدیبیہ کے موقع پر ہوئی اور اس بیعت میں تقریبا 1400 صحابہ کرام نے شرکت
کی۔
یہ بیعت ہو
جانے کے بعد معلوم ہوا کہ حضرت عثمان غنی کی شہادت کی خبر غلط تھی وہ حیات تھے اور
ٹھیک تھے۔
اللہ تعالی نے
ان سےراضی ہونے کا اعلان فرمایا: لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ
یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ (پ26،
الفتح:18) ترجمۂ کنز الایمان: بیشک اللہ راضی ہوا مسلمانوں سے جب وہ اس درخت کے
نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔
حضور
کی ان سے محبت کی جھلکیاں:
حضور ﷺ نے
اصحاب بیعت الرضوان سے بہت محبت کی اور انہیں جنت کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا: جو
شخص بیعتِ رضوان میں شریک تھا وہ جنت میں جائے گا۔ (ترمذی، 5/463، حديث: 3889)
حضور اکرم ﷺ نے
اصحاب بیعت الرضوان کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔
حضور اکرم ﷺ نے
اصحاب بیعت الرضوان کے لیے دعا کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ انہیں بخش دے اور ان پر
رحم کرے۔
حضور اکرم ﷺ نے
اصحاب بیعت الرضوان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ تم دنیا کے بہترین لوگ ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں سے کوئی جہنم میں نہیں جائے گا۔
بیعت
الرضوان میں شریک چند اصحاب کے نام:
1 حضرت ابوبکر
صدیق رضی اللہ عنہ 2حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ 3حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ 4حضرت
علی المرتضی رضی اللہ عنہ 5حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ 6حضرت سعد بن عبادہ رضی
اللہ عنہ۔
اصحاب
بیعت الرضوان سے محبت:
حضور ﷺ نے ان
کی قربانی کو سراہا اور انہیں جنت کی بشارت دی یہ صحابی حضور ﷺ کے ساتھ ہر میدان
میں شامل رہے اور اسلام کی ترویج کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا حضور ﷺ کو
اصحاب بیعت الرضوان سے بہت محبت تھی۔
Dawateislami