بیعتِ رضوان کا واقعہ ہجرت کے چھٹے سال پیش آیا۔ ذو القعدۃ 6 ہجری میں حضور ﷺ 1400 صحابہ کرام کے ہمراہ عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ معظمہ کیلئے روانہ ہوئے لیکن کفار مکہ نے مسلمانوں کو عمرہ کی ادائیگی نہ کرنے دی۔ حضور ﷺ نے حضرت عثمان کو مسلمانوں کی جانب سے سفیر بنا کر بھیجا کہ وہ قریش کو یہ خبر دیں کہ ہم جنگ کیلئے نہیں آئے صرف زیارت کے قصد سے آئے ہیں۔ حضرت عثمان کے مکہ پہنچنے کے بعد یہ خبر پھیلا دی گئی کہ آپ کو قریش نے شہید کر دیا ہے اس پر قصاص عثمان کیلئے حضور نے مسلمانوں سے ایک بیعت لی حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ہم سے مرنے پر حضور نے بیعت نہ لی بلکہ اس بات پر بیعت لی کہ ہم جنگ سے نہ بھاگیں۔ (سیرت ابن ہشام، 3/104) چونکہ یہ بیعت رضائے الہی پر مبنی تھی اس لئے اس بیعت کو بیعت رضوان اور اس کے صاحبین کو اصحابِ بیعتِ رضوان کہا جاتا ہے۔ روایات کے مطابق ان کی تعداد 1400 یا 1500 تھی ان صحابہ کے بے شمار فضائل ہیں اور حضور ﷺ کو ان صحابہ سے بے حد محبت تھی۔ محبت کے چند واقعات درج ذیل ہیں۔

عثمان غنی کا ہاتھ اپنا ہاتھ قرار دینا: بیعت رضوان میں حضور نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے دائیں ہاتھ پر رکھ کر ارشاد فرمایا: یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔ بخاری شریف میں ہے نبی کریم ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ عثمان کی بیعت ہے پھر اسے بائیں ہاتھ پر مارا۔(ترمذی، 5/395، حدیث: 3726) یہ محبت اور اعتماد کا اعلیٰ ترین اظہار تھا کہ آپ علیہ الصلوٰۃ السلام نے حضرت عثمان کے ہاتھ کو اپنا دست مبارک قرار دیا۔

جنت کی بشارت: حضرت جابر سے روایت ہے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:جن لوگوں نےدرخت کے نیچے بیعت کی تھی ان میں سے کوئی بھی دوزخ میں داخل نہ ہوگا۔ (ترمذی، 5/462، حديث: 3886)

خدا کی رضا کا اعلان: ان اصحاب سے محبت مصطفیٰ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں اللہ پاک نے ان سے اپنی رضا کا اعلان فرمایا: لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ (پ26، الفتح:18) ترجمۂ کنز الایمان: بیشک اللہ راضی ہوا مسلمانوں سے جب وہ اس درخت کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔

انگلیوں سے پانی کا جاری فرمانا: حدیبیہ کے مقام پر جب پانی کی قلت تھی اس موقع پر ان اصحاب کیلئے آپ علیہ السلام نے اپنی انگلیوں کے درمیان سے پانی کے چشمہ جاری فرمائے چنانچہ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حدیبیہ کے موقع پر سارا ہی لشکر پیاسا ہوچکا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک چھاگل تھا، اس کے پانی سے آپ نے وضو کیا۔ پھر صحابہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ صحابہ بولے کہ یا رسول اللہ! ہمارے پاس اب پانی نہیں رہا، نہ وضو کرنے کے لیے اور نہ پینے کے لیے سوا اس پانی کے جو آپ کے برتن میں موجود ہے پھر نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ اس برتن میں رکھا اور پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے چشمے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر ابلنے لگا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ہم نے پانی پیا بھی اور وضو بھی کیا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھاگیا کہ آپ لوگ کتنی تعداد میں تھے؟ انہوں نے بتایا کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو بھی وہ پانی کافی ہوجاتا۔ ویسے اس وقت ہماری تعداد پندرہ سو تھی۔ (بخاری، 2/493، حدیث: 3576)

انگلیاں پائیں وہ پیاری پیاری، جن سے دریائے کرم ہے جاری

جوش پر آتی ہےجب غم خواری تشنے سیراب ہوا کرتے ہیں

مختصراً اصحاب بیعت رضوان کی قربانیوں اور خلوص کوحضور ﷺ نے سراہا اور انہیں اپنی خاص نوازشات سے نوازا رب کریم ان اصحاب کے صدقے سے ہمیں بھی عشق رسول ﷺ کی لازوال دولت سے مالا مال فرمائے۔ آمین