اللہ پاک نے اپنے آخری نبی، مکی مدنی مصطفیٰ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کا ہر پہلو ہدایت و محبت سے بھرا ہوا ہے۔ انہی مبارک پہلوؤں میں سے ایک روشن باب اصحابِ بیعتِ رضوان سے محبت بھی ہے۔ یہ وہ خوش نصیب صحابۂ کرام ہیں جنہوں نے حدیبیہ کے مقام پر درخت کے نیچے حضور ﷺ کے دستِ اقدس پر جان نثاری کی بیعت کی۔

سن 6 ہجری میں جب نبیِّ کریم ﷺ عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ کے قریب حدیبیہ تشریف لائے تو بعض حالات کی بنا پر یہ خبر مشہور ہوئی کہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے ہیں۔ اس پر حضور ﷺ نے صحابۂ کرام سے جہاد اور ثابت قدمی پر بیعت لی۔ تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے جانثاری کے جذبے سے بیعت کی۔

اللہ تعالیٰ نے اس عظیم بیعت کا ذکر قرآنِ پاک میں یوں فرمایا: لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ (پ26، الفتح:18) ترجمۂ کنز الایمان: بیشک اللہ راضی ہوا مسلمانوں سے جب وہ اس درخت کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔

اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ یہ صحابۂ کرام اللہ پاک کے محبوب بندے اور اس کی رضا پانے والے ہیں۔

حضور نبیِّ کریم ﷺ کو ان صحابہ سے بے حد محبت تھی۔ آپ ﷺ نے ان کی وفاداری، اخلاص اور قربانی کو سراہا۔ حدیثِ پاک میں ہے: جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی، ان میں سے کوئی جہنم میں داخل نہ ہوگا۔ (ترمذی، 5/462، حديث: 3886)

یہ حضور ﷺ کی اپنے ان جاں نثار صحابہ سے محبت اور ان کے حق میں بشارتِ عظمیٰ ہے۔

صحابۂ کرام سے محبت ایمان کی علامت اور ان سے بغض ہلاکت کا سبب ہے۔ اہلِ سنت و جماعت کا عقیدہ ہے کہ تمام صحابۂ کرام عادل، نیک اور قابلِ احترام ہیں۔ خصوصاً اصحابِ بیعتِ رضوان کو عظیم فضیلت حاصل ہے کہ اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں ان سے اپنی رضا کا اعلان فرمایا۔

آج ہمیں چاہیے کہ ہم صحابۂ کرام کی سیرت پڑھیں، ان کی اطاعت، وفاداری اور عشقِ رسول سے سبق حاصل کریں۔ ان مقدس ہستیوں کا ادب کریں اور دلوں میں ان کی محبت بسائیں۔

اللہ پاک ہمیں صحابۂ کرام خصوصاً اصحابِ بیعتِ رضوان کی سچی محبت نصیب فرمائے۔