ہم وہ خوش نصیب امت ہیں جن تک حضور ﷺ کی محبت اور اصحاب بیعت رضوان کی محبت ہم تک سینہ بہ سینہ منتقل ہوئی اور تاقیامت رہے گی اور یہ سلسلہ تاقیامت منتقل ہوتا رہے گا۔ حضور کو اصحاب بیعت رضوان سے بہت محبت تھی۔

ان عظیم ہستیوں کے بارے میں قرآن پاک میں بھی چند جگہ ان کے متعلق آیتیں ہیں آئیے ہم بھی کچھ آیتیں سنتے ہیں کہ اس سے ہمارے دلوں میں ان کی عقیدت مزید اجاگر ہو۔

چنانچہ پارہ 11 سورۂ توبہ کی آیت نمبر 100 میں ارشاد ہوتا ہے: رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰)ترجمہ کنز الایمان: اللہ اُن سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔

اس آیت میں کس قدر شان بیان کی گئی ہے اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی اور ان کے اعمال کو قبول فرما کر ان کو دائمی رضا اور جنت کی بشارت دی ہے۔ جن میں ان صحابہ کرام کی شان اور ان کا مقام اور دیگر خوبیاں اور کمالات بیان کیے گئے ہیں۔

صحابہ کرام کی عظمت پر فرامین مصطفیٰ:

1۔ ارشاد فرمایا: جس نے میرے اصحاب کے متعلق بری بات کہی تووہ میرے طریقے سے ہٹ گیااس کا ٹھکانا آگ ہے۔ (ریاض النضرۃ، 1/ 22)

2۔ روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم ﷺ نے کہ میرے صحابہ کو برا نہ کہو کیونکہ اگر تم میں کوئی احد(پہاڑ)بھر سونا خیرات کرے تو ان کے ایک کے نہ مد کو پہنچے نہ آدھے کو۔ (ترمذی، 5/462، حدیث: 3887)

ان احادیث میں صحابہ کرام کی شان بیان کی گئی ہے اور ان سے بغض رکھنے والوں کے لیے قیامت کے دن عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ان کے بغض سے صحابہ کرام کی شان میں کوئی کمی نہیں ہوئی بلکہ ان کی تو مزید شان بڑھی ہے۔اور کیوں نہ ہو یہ صحابہ کرام حضور کے محافظ تھے اور بعض صحابہ اکرام کو جنت کی بشارت دنیا ہی میں دے دی۔

اس دور میں ان کی عزت وناموس کا پہرہ دینے کیلئے علمائے کی بڑی تعداد موجود ہے۔ اور اللہ کے فضل سے یہ تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ اور آج اس پرفتن دور میں بھی یہ ذمہ داری امیر اہلسنّت مولانا ابو بلال الیاس قادری دامت برکاتہم العالیہ سرانجام دے رہے ہیں۔ ان سب کے دلوں کے اندر حضور اکرم ﷺ کی محبت اس قدر جاگزیں ہوگئی ہے کہ ان کے دلوں کے ٹکڑے بھی کردیئے جائیں پھر بھی یہ محبت ختم نہیں ہوتی بلکہ یہ اس قدر بس چکی ہیں کہ ان کے دل کے ٹکڑوں سے بھی اصحاب واہلِ بیت کی محبت کی خوشبو آئے گی۔

اسی لیے تو مرشد کہتے ہیں:

آسرا عطار کا، اصحاب و اہل بیت ہیں

یہ وہ مبارک ہستیاں ہیں جن کی ان تھک محنت سے دین اسلام کی تبلیغ ہوئی اور اپنا تن من دھن سب قربان کردیا۔اور ان مبارک ہستیوں نے ابتدائے اسلام کے مشکل ماحول میں بھوک پیاس برداشت کرکے،پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے قریبی رشتہ داروں سے دشمنیاں مول لے لی اور اسلام کا پرچم بلند کیا۔اور یہ ان کی قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ہم ان اصحاب کے نام لیوا ہیں اور ہمیں اللہ کی عبادت سے روکنے والی کوئی چیز حائل نہیں ہے یہ سب ان کی قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے اور ہم ان ہستیوں کا جتنا شکر کریں کم ہیں۔ بندہ مومن کیلئے لازمی ہے کہ وہ صحابہ و اہل بیت اطہار سے بھی محبت رکھے اور ساتھ اہل بیت کا خادم ہوں۔اور حبیب خدا مکی مدنی مصطفی ﷺ سے محبت کا اظہار کرنے کےلیے ہمیں بھی اپنے دل میں صحابہ و اہل بیت کی محبت رکھنی چاہیے سیدوں سے بھی محبت رکھنی چاہیے کیونکہ یہ جنت میں لے جانے کا سبب ہے اور عشق رسول کا تقاضا ہے۔

دو عالم نہ کیوں ہو نثارِ صحابہ کہ ہے عرش منزل وقار ِصحابہ

امیں ہیں یہ قرآن و دِین ِ خدا کے مدارِ ہدیٰ اعتبارِ صحابہ

خلافت، امامت، ولایت، کرامت

ہر اک فضل پر اقتدارِ صحابہ