واٹس ایپ نمبر: 03049803321
خوفِ خدا وہ بنیادی صفت ہے جو مومن کے کردار کو جلا بخشتی
ہے۔ نبی کریم ﷺ نے امت کو اللہ کی خشیت اختیار کرنے کی بارہا تاکید فرمائی۔ آپ ﷺ
نے اسے تمام بھلائیوں کی جڑ قرار دیا ہے۔
(1) تنہائی میں اللہ کا ذکر اور گریہ زاری:نبی کریم ﷺ
نے ان لوگوں کو قیامت کے دن اللہ کے سائے کی نوید سنائی جو تنہائی میں اللہ سے
ڈرتے ہیں۔ ارشادِ نبوی ہے:وَرَجُلٌ ذَكَرَ
اللَّهَ خَالِيًا، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ"اور وہ شخص جس نے تنہائی میں
اللہ کو یاد کیا، پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔" (صحیح بخاری: 660، صحیح
مسلم: 1031)
(2) جہنم سے نجات کی ضمانت:اللہ
کے خوف سے نکلنے والا ایک آنسو بھی جہنم کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کافی ہے۔ رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا:"لاَ يَلِجُ النَّارَ
رَجُلٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ"ترجمہ:وہ
شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا جو اللہ کے خوف سے رو پڑا، یہاں تک کہ دودھ (دوبارہ)
تھن میں واپس لوٹ جائے (یعنی ناممکن ہے)۔" (جامع ترمذی: 1633، امام ترمذی نے
اسے حسن صحیح کہا )
(3) خشیتِ الٰہی اور نبی کریم ﷺ کا مقام:آپ
ﷺ کائنات میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنی امت کو اللہ کی
عظمت کا احساس دلاتے ہوئے فرمایا:"لَوْ
تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا"اگر
تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ (صحیح بخاری:
6485)
(4) اللہ کے خوف کا بدلہ:اللہ
تعالیٰ اپنے ان بندوں کو جو اس سے ڈرتے ہیں، کبھی مایوس نہیں کرتا۔ حدیث قدسی میں
نبی کریم ﷺ نے اللہ کا یہ ارشاد نقل فرمایا:"وَعِزَّتِي
لَا أَجْمَعُ عَلَى عَبْدِي خَوْفَيْنِ وَلَا أَجْمَعُ
لَهُ أَمْنَيْنِ، إِذَا
أَمِنَنِي فِي الدُّنْيَا أَخَفْتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِذَا خَافَنِي فِي
الدُّنْيَا أَمَّنْتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِترجمہ:
میری عزت کی قسم! میں اپنے بندے پر دو خوف اور دو امن جمع نہیں کروں گا۔ اگر وہ دنیا
میں مجھ سے بے خوف رہا تو میں اسے قیامت کے دن خوف زدہ کروں گا، اور اگر وہ دنیا میں
مجھ سے ڈرتا رہا تو میں اسے قیامت کے دن امن دوں گا۔(صحیح ابن حبان: 640)
(5) جامع نبوی دعا:آپ ﷺ
اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے تاکہ امت کو اس کی اہمیت کا اندازہ ہو:"اللَّهُمَّ
اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا تَحُولُ بِهِ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ"ترجمہ:اے
اللہ! ہمیں اپنا اتنا خوف عطا کر جو ہمارے اور تیری نافرمانی کے درمیان رکاوٹ بن
جائے۔" (جامع ترمذی: 3502)
مذکورہ بالا احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ خوفِ خدا محض ایک
جذبہ نہیں بلکہ ایک عمل ہے جو انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے۔ اللہ کا ڈر رکھنے والا
انسان معاشرے کے لیے بہترین نمونہ بن جاتا ہے کیونکہ اسے ہر وقت یہ احساس رہتا ہے
کہ وہ اپنے رب کے سامنے جوابدہ ہے۔
Dawateislami