وقار حسین عطاری (درجہ خامسہ جامعۃالمدینہ
فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور ،پاکستان)
نمبر: 03246535883
سیرت کے لغوی معنی طریقہ اور اندازِ زندگی کے ہیں، جبکہ
اصطلاح میں اس سے مراد حضور نبی کریم صلى الله علیہ وسلم کی مکمل حیاتِ مبارکہ ہے۔
آپ صلى الله علیہ وسلم کی ولادت، بعثت، مکی و مدنی زندگی، اخلاق، عبادات، معاملات
اور معاشرت سب سیرت کا حصہ ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے سیرت کا مطالعہ محض تاریخ پڑھنا
نہیں بلکہ اپنی زندگی کو سنتِ نبوی کے مطابق ڈھالنے کا ذریعہ ہے۔
قرآنِ کریم کی روشنی میں اہمیت:اللہ
تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ
رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی
بہتر ہے۔ (سورۃ الاحزاب، آیت21)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی
ذاتِ اقدس ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
زندگی کو نمونہ قرار دے رہا ہے تو سیرت کا مطالعہ ہر مسلمان پر ضروری ہو جاتا ہے
تاکہ وہ اپنی زندگی کو اسی نمونے کے مطابق بنا سکے۔
محبتِ رسول ﷺ اور ایمان:ایمان کی تکمیل
محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر ممکن نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے
والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔(صحیح بخاری، کتاب الایمان،
باب حب الرسول من الایمان، حدیث نمبر 15، مکتبۃ المدینہ کراچی)
سیرت کا مطالعہ دل میں حضور صَلَّی الله علیہ وسلم کی سچی
محبت پیدا کرتا ہے اور یہی محبت ایمان کو مضبوط کرتی ہے۔
اصلاحِ اخلاق کا ذریعہ:حضور
صلی اللہ علیہ وسلم اخلاقِ حسنہ کا اعلیٰ نمونہ تھے سیرت پڑھنے سے انسان میں صبر،
حلم، عفو و درگزر، سچائی اور امانت داری پیدا ہوتی ہے۔ آج کے دور میں جب معاشرہ
اخلاقی بحران کا شکار ہے، سیرت کا مطالعہ کردار سازی کا بہترین ذریعہ ہے۔
عبادات میں رہنمائی:عبادات
کا صحیح طریقہ سیرتِ نبوی سے معلوم ہوتا ہے۔ بغیر
سیرت جانے انسان عبادات کی روح کو نہیں پا سکتا۔
موجودہ دور میں ضرورت:آج کا
دور فتنوں اور گمراہیوں کا دور ہے۔ نوجوان مختلف قسم کے فکری اور اخلاقی مسائل میں
مبتلا ہیں۔ ایسے حالات میں سیرتِ طیبہ ہدایت کا چراغ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم
مکہ کے سخت حالات میں صبر اور استقامت کا مظاہرہ فرمایا اور فتحِ مکہ کے موقع پر
عام معافی دے کر عفو و درگزر کی مثال قائم کی۔ یہ واقعات آج بھی ہمارے لیے مشعلِ
راہ ہیں۔
اکابرِ اہلِ سنت کی تعلیمات:اہلِ سنت و جماعت کے علماء
نے ہمیشہ سیرت کے مطالعہ پر زور دیا ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی نے اپنی
تصانیف میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اتباعِ سنت کو نجات کا راستہ قرار دیا
ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ مطالعۂ سیرت ہر مسلمان کی بنیادی ضرورت
ہے۔ یہ ایمان کو مضبوط کرتا ہے، محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اضافہ کرتا ہے،
اخلاق کو سنوارتا ہے اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے۔ اگر ہم اپنی
زندگی کو کامیاب بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں سیرتِ طیبہ کا باقاعدہ مطالعہ کر کے اسے
اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
Dawateislami