شہباز رفیق (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
اسلام ایک
ایسا دین ہے جو انسانیت ،رحم،ہمدردی اور بھائی چارے کا درس دیتا ہےنبی کریم ﷺ کی
تعلیمات میں کمزور اورحاجت مند افراد کے ساتھ نرمی و شفقت کا خاص حکم دیا گیا ہے
جن میں مقروض یعنی قرض دار بھی شامل ہے ۔ قرآن و حدیث میں مسلمانوں کو جو احکام دئیے گئے ہیں ان میں ثواب کے اعتبار سے فرق ہے ، یوں بعض اعمال بعض سے بہتر ہیں ،جیسے تنگدست مقروض کو آسانی آنے تک مہلت دینا
اور قرض معاف کر دینا دونوں بہتر ہیں لیکن قرض معاف کردینا مہلت دینے سے زیادہ بہتر
ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ
تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنز العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور
تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (البقرۃ:280)
اس آیت سے
معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ
یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔ اسی طرح پیارے آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی تعلیم بھی ہمیں مقروض کے ساتھ نیکی
کرنے کا درس دیتی ہے ۔
چنانچہ عمرة بنت عبد الرحمن فرماتی ہے میں نے
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو فرماتے سنا کہ حضور نبی
کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی جن میں سے ایک دوسرے سے
قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی
کہہ رہا تھا کہ اللہ کی قسم! میں ایسا نہیں
کروں گا ۔ ‘‘ آپ ﷺ اُن
کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا
ہے کہ وہ نیکی نہیں کرے گا؟‘‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !وہ
میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ (صحيح مسلم ،كتاب:المساقاة
،باب:استحباب الوضع من الدين،647/1،حديث:3983 )
نیک کام سے
کیا مراد ہے؟دلیل الفالحین میں ہے : ’’ اِن میں سے ایک شخص دوسرے سے قرض میں کچھ کمی
کرنے اور اس سے اس معاملے میں نرمی اختیار کرنےکا کہہ رہا تھاتو دوسرے شخص نے کہا
کہ خدا کی قسم! میں کوئی کمی نہیں کروں گا ۔ ابن حبان کی روایت میں ہے کہ اس نے یہ بات تین دفعہ کہی تو رسولُ اللہ ﷺ اُن کے درمیان صلح کروانے کے لیے تشریف لائے اور استفسار فرمایا : “ کہاں
ہے وہ شخص جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیک کام نہیں کروں
گا؟ “ نیک کام سے مراد اپنے بھائی کے ساتھ نرمی والا معاملہ اور قرض میں کمی کرنا
۔ (دليل الفالحين لعلان صديق،باب:اصلاح بین
الناس 49/3،حديث2503:المطبوعہ، دار المعرفۃ للطباعۃ،والنشر و التوزيع بيروت-
لبنان)
قرض دار کے
ساتھ نرمی کرنے کا حکم:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں قرض دار کے ساتھ
نرمی برتنے ، اچھا سلوک کرنے اور قرضے میں کمی کرنے پر اُبھارا گیا ہے ۔ (شرح صحیح بخاری لابن بطال،کتاب الشہادت،باب هل
يشير الأمام بالصلح، دار النشر: مکتبہ الرشد ـالسعودیہ 98/8حديث14)
تنگ دست
قرض دار کو مہلت دینے کی فضیلت:پیارے پیارے اسلامی بھائیو! دیکھا گیا ہے کہ آج کل
لوگ مجبور وتنگدست قرض دار کے ساتھ بھی بہت ہی ناجائز سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ
نرمی کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے ، وہ جہاں مل جائے اُس کی عزت پامال کرکے
رکھ دیتے ہیں ، آئے دن اُس کے گھر کے چکر لگاتے ، دروازہ بجاتے ، گھر کے باہر کھڑے
ہوکر اُسے باتیں سناتے ، بلکہ بعض بے باک لوگ تو گالیاں تک بَک جاتے اور اُس بے
چارے ، لاچار ، غریب اور بے بس شخص کی عزت کا جنازہ نکالتے نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ احادیث مبارکہ میں تنگدست ومجبور قرض دار کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب
دلائی گئی ہے ۔ چنانچہ اِس ضمن میں ایک
فرامین مصطفےٰ ﷺ ملاحظہ کیجئے :
حضرت حذیفہ
سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک آدمی کا انتقال
ہوا اور جنت میں داخل ہوا تو اس سے پوچھا گیا تو کونسا عمل کیا کرتا تھا؟اسے یاد آیا،
یا یاد کرایا گیا تو اس نے کہا میں لوگوں کو مال فروخت کرتا تھا اور تنگ دست کو مہلت
دیتا اور سکوں کے پر کھنے یا نقد میں درگزر کرتا تھا تو اس کی مغفرت کردی گئی حضرت
ابومسعود نے فرمایا میں نے بھی یہ رسول
اللہ ﷺ سے سنا ۔ (صحيح مسلم كتاب:المساقاة،باب، استحباب الوضع من الدین ،فصل انظار
المعسر :650/1،حديث:3995 المطبوعة: دار
الكتاب العربي بيروت لبنان )
پیارے آقا
علیہ الصلاۃ والسلام کی تعلیمات میں ہمیں نہ صرف مقروض کی مدد کرنے کی ترغیب
ملتی ہیں بلکہ ان کے ساتھ قرض میں نرمی، مہلت اور درگزر کرنے کے بے شمار مدنی پھول
ملتے ہیں ۔ یہ رحمت للعالمین ﷺ کا
سچا پیغام ہے جو آج کے مالیاتی نظام میں بھی انسانیت، عدل اور شفقت کی مثال بن
سکتا ہے ۔
Dawateislami