اسلامی
معاشرت کا حسن باہمی تعاون، ہمدردی اور ایک دوسرے کے ساتھ نرمی برتنے میں پنہاں ہے
۔ یہ وہ بنیادی اصول ہیں جن کی تعلیم
ہمارے پیارے نبی، حضرت محمد ﷺ نے دی، اور انہی میں سے ایک اہم پہلو مقروض پر
نرمی کا معاملہ ہے ۔ قرض لینا ایک انسانی
مجبوری ہو سکتی ہے اور اسلام نے قرض دینے والے کو جہاں اجر کی بشارت دی ہے، وہیں
وصولی کے وقت مقروض کی حالت کا خاص خیال رکھنے کا حکم بھی دیا ہے ۔ یہ ایک ایسا علمی انداز ہے جو عام فہم ہونے کے
ساتھ ساتھ انسانیت کی بہترین عکاسی کرتا ہے ۔
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمہ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا
ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے
اگر جانو ۔ (البقرۃ:280)
اس آیت سے
پتا چلتا ہے کہ اگر کوئی انسان تنگدست ونادار وغریب ہےتو اسکو کچھ قرض معاف
کرنا یا اس کو مہلت دینا یا پورا قرض ھی معاف کر دینا بڑے اجر و ثواب کا باعث ہے ۔
احادیث
میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ ا س کے5فضائل درجِ ذیل ہیں :
(1)حضرت
ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ َ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو
کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو
مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار
المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳)
(2)حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ َ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ
دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے
میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء
فی انظار المعسرالخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)
(3)حضرت
جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ َ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ
اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی
الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )
(4) حضرت
حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ َ نے ارشاد فرمایا:’’
گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا
کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں
ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں
سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت
مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا
۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم
اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، ۹ / ۹۸، الحدیث: ۲۳۴۱۳،
مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۳، الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰))
(5) اور صحیح
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس
معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’
میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر
کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ
والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۴، الحدیث: ۲۹(۱۵۶۰))
امامِ اعظم
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور مجوسی قرضدار: امام فخر
الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’منقول ہے کہ ایک مجوسی
پر امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ مال قرض تھا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قرض کی
وصولی کے لئے ا س مجوسی کے گھر کی طرف گئے ۔ جب اس کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) آپ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جوتے پر نجاست لگ گئی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے (نجاست چھڑانے کی غرض سے) اپنے جوتے
کو جھاڑا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ا س عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اڑ
کر مجوسی کی دیوار کو لگ گئی ۔ یہ دیکھ کر
آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا کہ اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس
مجوسی کی دیوار خراب ہو رہی ہے اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی
اکھڑے گی ۔ اسی پریشانی کے عالم میں آپ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ نے دروازہ بجایا تو ایک لونڈی باہر نکلی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
نے اس سے فرمایا: اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ دروازے پر موجود ہے ۔ وہ مجوسی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے
پاس آیا اور ا س نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنے قرض کا مطالبہ کریں گے، اس لئے اس نے
آتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دی ۔ امام
ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں تو قرض سے بھی
بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیوار پر نجاست
لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی کیا صورت ہے؟ (یہ سن کر)
اس مجوسی نے عرض کی :میں (دیوارکی صفائی کرنے کی) ابتداء اپنے آپ کو پاک کرنے سے کرتا
ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا ۔ (تفسیر کبیر، الفصل الرابع فی تفسیر قولہ: مالک یوم الدین، ۱ / ۲۰۴)
مقروض پر
نرمی کا نبوی حکم:تحریر کا مرکزی خیال یہ ہے کہ مقروض کے ساتھ نرمی
برتنا اسلامی معاشرت کا بنیادی اصول اور دین کا تقاضا ہے ۔ قرآن و حدیث دونوں نے
اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر قرض لینے والا واقعی تنگدست اور پریشان ہو تو قرض دینے
والا اسے مہلت دے یا قرض معاف کردے ۔
نبی
اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق، مقروض پر نرمی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن
عرش کا سایہ عطا فرمائےگا ، اور یہ عمل گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بنتا ہے ۔ یہاں تک کہ مہلت دینے پر ہر دن صدقے کا ثواب بھی
ملتا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ ہمیں تقاضا کرتے وقت ہمیشہ آسانی،
شائستگی اور شفقت کا راستہ اپنانا چاہیے، کیونکہ اللہ کی رحمت بھی اسی شخص پر ہوتی
ہے جو اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے ۔
Dawateislami