تنویر احمد (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ
کراچی، پاکستان)
اسلام میں
قرض کے حوالے سے بے شمار ہدایات دی گئی ہیں، اور خاص طور پر مقروض پر نرمی کی تعلیمات
پر زور دیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اور اس
کے پیغمبر ﷺ نے ہمیں قرض دار کے ساتھ حسن سلوک، مہلت دینے
اور قرض معاف کرنے کی ترغیب دی ہے تاکہ ہم دنیا اور آخرت میں ثواب حاصل کرسکیں
۔ یہ تعلیمات نہ صرف انسانیت کی خدمت کرتی
ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور مدد کے اصولوں کو بھی فروغ دیتی ہیں ۔
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمہ کنز
الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل
چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔
تفسیر صراط
الجنان:وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ: اور اگر
مقروض تنگدست ہو:یعنی تمہارے قرضداروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا
قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو ۔
اور تمہارا
تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر
تم یہ بات جان لو، کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے
اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: 280، 1/ 218)
قرضدار کو مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے
فضائل:اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا
یا قرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔
احادیث میں
بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ۔ جو درجِ ذیل ہیں:
(1) لین دین
میں نرمی پر رحمت:حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ
اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے
اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، 2 / 12، الحدیث:
2076)
(2) معاف
کرنے والے کے لیے مغفرت:اور صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ
اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس
معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’
میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر
کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار
المعسر، ص844، الحدیث: 29(1560)
حضور ﷺ کا
طرزِ عمل:علامہ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَۃُاللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں جب حضور
اقدس ص ﷺ کسی محتاج کو ملاحظہ فرماتے تو اپنا
کھاناپینا تک اٹھا کر عنایت فرما دیتے حالانکہ ا س کی آپ کو بھی ضرورت ہوتی،آپ کی
عطا مختلف قسم کی ہوتی جیسے کسی کو تحفہ دیتے، کسی کو کوئی حق عطا فرماتے،کسی سے
قرض کا بوجھ ا تار دیتے،کسی کو صدقہ عنایت فرماتے، کبھی کپڑ اخریدتے اور ا س کی قیمت
ادا کر کے اس کپڑے والے کو وہی کپڑ ابخش دیتے،کبھی قرض لیتے اور (اپنی طرف سے) اس
کی مقدار سے زیادہ عطا فرما دیتے،کبھی کپڑ اخرید کراس کی قیمت سے زیادہ رقم عنایت
فرما دیتے اور کبھی ہدیہ قبول فرماتے اور اس سے کئی گُنا زیادہ انعام میں عطا فرما دیتے ۔ ( مدارج النبوہ، باب دوم در بیان
اخلاق وصفا، وصل در جود وسخاوت، 1 / 49)
قرآن و حدیث
میں مسلمانوں کو جو احکام دیے گئے ہیں ان میں ثواب کے اعتبار سے فرق ہے ۔ تنگدست
مقروض کو مہلت دینا اور قرض معاف کرنا دونوں بہتر ہیں،لیکن قرض معاف کر دینا مہلت
دینے سے زیادہ بہتر ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
آج کل دیکھا گیا ہے کہ لوگ تنگدست قرض دار کے ساتھ سختی
کرتے ہیں،حالانکہ نبی ﷺ نے فرمایا:
(1)جو دنیا میں تنگدست کو آسانی فراہم کرے گا، اللہ دنیا
و آخرت میں اس کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے گا ۔(فیضانِ ریاض الصالحین، جلد 3، حدیث
250)
(2)جس نے تنگدست کو مہلت دی یا قرض میں کمی کی، اللہ قیامت
کے دن اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا ۔ (فیضانِ ریاض الصالحین، جلد 3، حدیث 250)
(3) جس نے تنگدست کو مہلت دی، اسے روزانہ قرض کی مثل
صدقہ کا ثواب ملے گا ۔ (فیضانِ ریاض الصالحین، جلد 3، حدیث 250)
اسلام میں قرضدار پر نرمی کرنے، قرض کو معاف کرنے، اور
تنگدست کو مہلت دینے کی بہت اہمیت ہے ۔ حضور ﷺ کی تعلیمات کے مطابق، یہ عمل نہ صرف دنیا میں
لوگوں کی دعاؤں کا باعث بنتا ہے بلکہ قیامت کے دن بھی اس کا انعام عظیم ہو گا
۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حبیب ﷺ کی
تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے ۔ آمین
بجاہِ النبی الامین ﷺ
Dawateislami