بابر شہزاد عطاری (درجۂ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان
مدینہ کراچی، پاکستان)
اللہ تعالیٰ
کا بے پایاں احسان ہے کہ اس نے ہمیں دینِ اسلام جیسے معتدل اور متوازن دین عطاء
فرمایا ایسا دین جو ہر قسم کی افراط و تفریط
سے پاک، انسان کی فطرت کے عین مطابق اور زندگی کے ہر پہلو کے لیے مکمل ضابطۂ حیات
ہے ۔ اسلام نے ہمیں نہ صرف عبادات کے اصول سکھائے بلکہ معاشرتی، معاملات اور مالی
لین دین کے آداب بھی سکھائے ہیں ۔ جب کوئی شخص قرض کے بوجھ تلے دب جائے تو اسلام
ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ایسے مقروض کے ساتھ سختی نہیں بلکہ نرمی، ہمدردی اور آسانی
کا معاملہ کیا جائے ۔
قرآن کریم
میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَإِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلٰى مَيْسَرَةٍ
ترجمہ
کنزالایمان:اگر قرضدار تنگ دست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو ۔ (سورۃ البقرۃ: 280)
یہ آیت
مبارکہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر کوئی شخص واقعی مالی تنگی میں مبتلا ہے تو اسے وقت دیا
جائے، دباؤ نہ ڈالا جائے، بلکہ ممکن ہو تو معافی اور رعآیت سے کام لیا جائے ۔ اسی
نرمی کی تعلیم ہمیں نبیِ آخرالزماں ﷺ کی سیرتِ طیبہ سے بھی ملتی ہے ۔
حضرت ابو
قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جس شخص نے کسی
مقروض کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا،تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے آپنے
عرش کے سایہ میں جگہ عطا فرمائے گا ۔ (مسند احمد: جلد دوم، صفحہ 359)
اسی طرح
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:جس شخص نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اس
کا قرض معاف کر دیا،اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی تپش سے محفوظ رکھے گا ۔ (الدر
المنثور: جلد 1، صفحہ 389)
ان احادیث
سے معلوم ہوتا ہے کہ قرضدار کے ساتھ نرمی کرنا محض اخلاقی خوبی نہیں، بلکہ ایمان
داروں کے لیے جنت کا ذریعہ اور جہنم کی آگ سے حفاظت کا سبب ہے ۔
نبی پاک صلی
اللّہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق اسلام رحم، عدل اور ہمدردی جیسی خوبصورت صفات
پر قائم ہے ۔ جو شخص تنگ دست مقروض کے ساتھ نرمی اور مہلت کا
برتاؤ کرتا ہے، دراصل وہ اللہ کی رحمت کو دعوت دیتا ہے ۔ ایسا شخص دنیا میں سکون
پاتا ہے اور آخرت میں عرشِ الٰہی کے سایہ میں جگہ پاتا ہے ۔
پس ہمیں
چاہیے کہ جب بھی کوئی شخص تنگی میں ہو، تو اس کے ساتھ نبی پاک صلی اللّہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ کے مطابق آسانی، فراخ دلی
اور خیرخواہی کا سلوک کریں، تاکہ ہم بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہو جائیں جنہیں
اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا ۔
Dawateislami