"مقروض پر نرمی" ایک نہایت خوبصورت اور اخلاقی تصور ہے جو قرآن و سنت میں بار بار تاکید کے ساتھ بیان ہوا ہے ۔  اس کا مطلب ہے کہ جس شخص پر قرض ہے ، اگر وہ ادائیگی میں تنگی یا مجبوری کا شکار ہے ، تو اس کے ساتھ سختی نہ کی جائے بلکہ نرمی، مہلت اور ہمدردی سے پیش آیا جائے ۔

(1)غریب کو قرض معاف کر دینے کی فضیلت: نبیِّ کریم علیہ الصلوۃ و السَّلام کاارشاد ہے: تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قَبْض کرنے فِرِشْتہ آیا تو اُس سے کہا گیاکہ کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔ اس سے کہا گیا:غور تو کر ۔ اس نے کہا: اس کے سِوا اور کچھ نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو مُعافی ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں داخل فرما دیا ۔ (بخاری،ج2،ص460،حدیث:3451)

(2)دنیا اور آخرت میں بھلائی:فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم جو کسی تنگدست (مقروض) پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخِرت میں اس پر آسانی فرمائے گا ۔ (ابن ماجہ،ج 3،ص147، حديث: 2417)

(3)قیامت کے دن سختیوں سے نجات :حضرت عبد اللہ بن ابی قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اپنے مقروض کو طلب کیاتو(قرض کی ادائیگی پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے)وہ چھپ گیا،پھر بعد میں انہوں نے اسے پالیا(اور اس سے چھپ جانے کی وجہ پوچھی )تو اس نے کہا:میں تنگ دست ہوں،حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا:خدا کی قسم(ایساہی ہے)؟اس نے کہا:خدا کی قسم(ایسا ہی ہے)،اس پر حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اللہ تعالی اسے قیامت کے دن کی سختیوں سے نجات دےتو اسے چاہیے کہ وہ(قرض کی ادائیگی میں ) تنگ دست(مقروض) کو مہلت دے یا اس کا(پورا یاکچھ)قرض معاف کردے (صحيح مسلم، كتاب المساقاة، باب فضل إنظار المعسر، 3/1196، رقم:1563، ط: دار إحياء التراث العربی بيروت)

(4)عرش کے سائے میں رکھے گا :حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا :جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر الخ، 3 / 52، الحدیث: 1310)

(5)قیامت کے دن تکلیفوں سے نجات :حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص845 الحدیث: 32(1563)