حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اللہ پاک کے آخری نبی ہیں اور تمام جہانوں کے لیے رحمت اللعالمین ہے حضور  ﷺ کی رحمت عالمینی کے نظارے جس طرح اخرت میں دیکھنے کو ملے گا اسی طرح دنیا میں بھی میں یہ پہلو آپنے جلوے دکھا رہا ہے ان میں سے ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اقا علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی تعلیمات میں مقروض پر نرمی اور آسانی کرنے کی نصیحت فرمائی آئیے ہم بھی اس کے متعلق چند احادیث پڑھنے کی سعادت کرتے ہیں:

(1)اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی

عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی ’’یارسولَ اللہ ﷺ وہ میں ہوں ،اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘ (فیضان ریاض الصالحین جلد 3 صفحہ 366 حدیث نمبر 250)

(2) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو اپنے قرض دار کو مہلت دے یا قرض معاف کر دے وہ قیامت کے دن عرش کے سایہ کے نیچے ہوگا ۔ (جامع الحدیث جلد 3 صفحہ نمبر 333 حدیث نمبر 1713 )

(3) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا "اگلی امتوں میں ایک گنہگار شخص تھا جو لوگوں کے قرض معاف کر دیا کرتا تھا جب اس کا انتقال ہوا تو اللہ تعالی نے اس کو بخش دیا اور پروردگار عالم نے فرمایا جب وہ معاف کر دیا کرتا تھا تو میں اس سے زیادہ حقدار ہوں ۔ (جامع الحدیث جلد 3 صفحہ نمبر 334 حدیث نمبر 1714)

(4) نبی کریم علیہ الصلوۃ و السَّلام کاارشاد ہے: تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قَبْض کرنے فِرِشْتہ آیا تو اُس سے کہا گیا کہ کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔ اس سے کہا گیا:غور تو کر ۔ اس نے کہا: اس کے سِوا اور کچھ نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو مُعافی ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں داخل فرما دیا ۔ (صحیح البخاری جلد 2 صفحہ 460 حدیث نمبر 3451)

(5) حضرت سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے تاجدار رسالت شہنشاہ نبوت صلی

اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جس نے تنگدست کو مہلت دی یا آپنا قرض اس پر صدقہ کر دیا اللہ عزوجل قیامت کے دن اسے آپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا ۔ (مجمع الزوائد کتاب البیوع باب فی من فرج عن معسر٫جلد 4 ٫صفحہ نمبر 241 ٫حدیث نمبر 6671)

ہمارے معاشرے میں مقروض افراد کے ساتھ بحث مباحثہ اور ظلم و ستم اور ان کی عزت کو اچھالا جاتا ہے جو کہ بالکل درست نہیں اور نبی پاک ﷺ کی تربیت کے خلاف ہے ہمیں بھی اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ اس میں سلوک اور ان پر قرضے کے معاملے میں نرمی کرنے اور ہو سکے تو معاف ہی کر دینے کی کوشش کرنی چاہیے اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں مقروض پر نرمی کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ خاتم النبیین وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔ 


اسلامی تعلیمات کا حسن یہ ہے کہ وہ زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتی ہیں، خواہ وہ عبادات ہوں یا معاملات ۔  مالی لین دین، خصوصاً قرض کے حوالے سے، شریعت نے قرض خواہ کو ایک عظیم اخلاقی فریضہ سونپا ہے: تنگ دست مقروض کے ساتھ نرمی اور شفقت کا برتاؤ ۔ یہ تعلیمات محض مالی انتظام نہیں بلکہ اسلامی معاشرت کی بنیادی اقدار،ہمدردی، باہمی تعاون، اور اخروی نجات کی فکرکا عملی مظہر ہیں ۔

نبوی تعلیمات میں اس عمل کو "تيسير على المعسر" (تنگ دست پر آسانی) کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کے دنیاوی اور اخروی دونوں فوائد ہیں ۔ مہلت یا معافی کا اختیاراس موضوع پر قرآن مجید کا سب سے واضح اور بنیادی حکم سورۃ البقرہ کی آیت 280 میں موجود ہے، جو قرض خواہ کو ایک لازمی ہدایت اور ایک اختیاری فضیلت کا راستہ دکھاتی ہے:

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)

ترجمہ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔ (سورۃ البقرہ، آیت 280)

یہ آیت قرض خواہ کے لیے دو راستے متعین کرتی ہے:1،مہلت دینا (انظار): اگر مقروض اپنی مالی تنگی (عسرت) کی وجہ سے قرض ادا کرنے سے قاصر ہے، تو قرض خواہ پر واجب ہے کہ وہ اسے اس وقت تک مہلت دے جب تک اس کی مالی حالت آسانی (میسرہ) میں تبدیل نہ ہو جائے ۔ اس دوران قرض خواہ کو کسی بھی قسم کی سختی یا دباؤ ڈالنے کی اجازت نہیں ہے ۔

(2)معاف کر دینا (تصدق): آیت کا دوسرا حصہ قرض معاف کر دینے کو بہتر اور افضل قرار دیتا ہے ۔ یہ عمل نہ صرف مقروض کی مشکل کو مکمل طور پر حل کر دیتا ہے بلکہ قرض خواہ کے لیے صدقہ کا درجہ بھی رکھتا

ہے، جس کا اجر اللہ کے ہاں بہت بڑا ہے ۔

نبوی تعلیمات: فضائل اور اخروی انعام نبی اکرم ﷺ نے تنگ دست مقروض پر نرمی برتنے کے عظیم فضائل بیان فرمائے ہیں، جو اس عمل کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتے ہیں ۔ یہ فضائل بنیادی طور پر قیامت کے دن کی سختیوں سے نجات پر مرکوز ہیں ۔

(1) قیامت کی سختیوں سے نجات: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ، أَوْ يَضَعْ عَنْهُ "ترجمہ: جسے یہ پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کی سختیوں (کرب) سے نجات دے، تو اسے چاہیے کہ وہ کسی تنگ دست (مقروض) کی تنگی دور کرے، یا اس کا قرض معاف کر دے ۔ ( صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ، حدیث: 1563)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ دنیا میں کسی انسان کی تنگی دور کرنا، آخرت میں اللہ کی طرف سے نجات اور آسانی کا سبب بنے گا ۔

(2)عرش الٰہی کا سایہ :ایک اور حدیث میں اس عمل پر ملنے والے عظیم انعام کا ذکر ہے:" مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِراً أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ الله يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّه ۔ ترجمہ: "جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا، تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے تلے جگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (سنن ترمذی، کتاب البیوع، حدیث: 1306 )

(3) اللہ کی طرف سے درگزر:نبی اکرم ﷺ نے سابقہ امت کے ایک تاجر کا واقعہ بیان فرمایا جو مقروضوں کے ساتھ نرمی برتتا تھا، اور اسی عمل کی بدولت اللہ نے اس سے درگزر فرمایا: كَانَ تَاجِرٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا رَأَى مُعْسِرًا قَالَ لِفِتْيَانِهِ: تَجَاوَزُوا عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا، فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْه ترجمہ: ایک تاجر لوگوں کو قرض دیتا تھا جب وہ کسی تنگ دست کو دیکھتا تو اپنے کارندوں سے کہتااسے معاف کر دو شاید اللہ ہم سے درگزر فرمائےتو اللہ تعالیٰ نے اس سے درگزر فرما لیا ۔ (صحیح بخاری، کتاب البیوع، حدیث: 2078)

یہ واقعہ اس بات کی عملی مثال ہے کہ انسانوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ، اللہ کی رحمت اور مغفرت کا سبب بنتا ہے ۔ نبوی تعلیمات میں مقروض پر نرمی کا حکم دراصل رحم دلی اور احسان کے اسلامی تصور کو اجاگر کرتا ہے ۔ یہ تعلیمات قرض خواہ کو یہ موقع فراہم کرتی ہیں کہ وہ اپنے مالی حق کو انسانی ہمدردی اور اخروی نجات کے لیے استعمال کرے ۔ تنگ دست مقروض کو مہلت دینا یا اس کا قرض معاف کر دینا، ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف معاشرے میں باہمی اعتماد اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے، بلکہ قیامت کے دن عرش الٰہی کے سائے اور اللہ کی مغفرت کا ضامن بھی ہے ۔ یہ تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ معاملات میں سختی کی بجائے نرمی، اور انتقام کی بجائے احسان کو ترجیح دی جائے ۔ 


میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا گیا ہے کہ آج کل لوگ مجبور وتنگدست قرض دار کے ساتھ بھی بہت ہی برا سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ نرمی کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے ، وہ جہاں مل جائے اُس کی عزت پامال کرکے رکھ دیتے ہیں ، آئے دن اُس کے گھر کے چکر لگاتے ، دروازہ بجاتے ، گھر کے باہر کھڑے ہوکر اُسے باتیں سناتے ، بلکہ بعض بے باک لوگ تو گالیاں تک بَک جاتے اور اُس بے چارے ، لاچار ، غریب اور بے بس شخص کی عزت کا جنازہ نکالتے نظر آتے ہیں  ۔ حالانکہ احادیث مبارکہ میں تنگدست ومجبور قرض دار کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے چنانچہ میں اس ضمن میں چند احادیث پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں :

(1)قرض دار کو مہلت دینا:حضرت ابوقتادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ میں نے رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص قرض دار کو مہلت دے یا قرض معاف کردے تواللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی سختیوں سے محفوظ رکھے گا ۔ (انوار الحدیث ص 273 مکتبہ شبیر برادرز )

(2)پیارے آقا نے صلح کروادی: اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟‘‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !وہ میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘

عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں قرض دار کے ساتھ نرمی برتنے ، اچھا سلوک کرنے اور قرضے میں کمی کرنے پر اُبھارا گیا ہے ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر :250 )

(3)ہر دن کے عوض کا ثواب :حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کا کسی شخص پر کوئی حق ہو وہ اسے مہلت دے تو اسے ہر دن کے عوض صدقہ کا ثواب ملے گا ۔ (انوار الحدیث ص 263 مکتبہ شبیر برادرز)

(4) تکلیفوں سے نجات :حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳))

(5)عرش کا سایہ :حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)


اس  سے مراد وہ ہے جس میں قرض دار کو قرض کی ادائیگی کے لیے مہلت دی جاتی ہے ۔ یہ اصطلاح عام طور پر مالی لین دین سے متعلق مقدمات میں استعمال ہوتی ہے، جہاں ایک فریق (قرض خواہ) دوسرے فریق (مقروض) کو کچھ وقت کا اضافی موقع دیتا ہے تاکہ وہ اپنا قرض ادا کر سکے ۔

جیساکہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)

ترجمہ کنز العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (البقرۃ:280)

تفسیر صراط الجنان:وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر مقروض تنگدست ہو ۔ یعنی تمہارے قرض داروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو ۔ اور تمہارا تنگدست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کر دینا تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو، کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔

(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: 280، 1 / 218)

قرض دار کو مہلت دینے اور قرض معاف کرنے کے فضائل:اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرض دار اگر تنگدست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یا قرض کا کچھ حصہ یا پورا قرض معاف کر دینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔

احادیث میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں، چنانچہ اس کے پانچ فضائل درج ذیل ہیں:

(1) حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے، وہ کسی مفلس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے ۔ (مسلم، کتاب المساقاة والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص 845، الحدیث: 32 (1563)

(2) حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے روایت ہےنبی اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: جس نے تنگدست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا، جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر، 3 / 52، الحدیث: 1310)

(3) حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے روایت ہےحضورِ اقدس صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے، خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحۃ فی الشراء والبیع، 2 / 12، الحدیث: 2076)

(4) حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فرماتے ہیں حضور اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو اس سے پوچھا: کیا تجھے اپنا کوئی اچھا عمل یاد ہے؟اس نے کہا: میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں کہا گیا: غور کر کے بتااس نے کہا: میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو دے دیتا، اور تنگدست سے درگزر کرتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ‘تم اس سے درگزر کرو ۔ ’”

(مسند احمد، حدیث حذیفہ بن الیمان، 9 / 98، الحدیث: 23413 ۔ مسلم، کتاب المساقاة والمزارعۃ، ص 843، الحدیث: 26 (1560)

(5)اور صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا: میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم، کتاب المساقاة والمزارعة، ص 844، الحدیث: 29 (1560)

امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اور مجوسی قرض دار:امام فخرالدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں :منقول ہے کہ ایک مجوسی پر امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کا کچھ مال قرض تھا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اپنے قرض کی وصولی کے لیے اس مجوسی کے گھر گئے ۔ جب اس کے دروازے پر پہنچے تو اتفاقاً آپ کے جوتے پر نجاست لگ گئی ۔ آپ نے جوتے کو جھاڑا تو کچھ نجاست اڑ کر مجوسی کی دیوار پر لگ گئی ۔ یہ دیکھ کر آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا: اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس مجوسی کی دیوار خراب ہوگی، اور اگر اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی اکھڑے گی ۔ اسی پریشانی میں آپ نے دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک لونڈی باہر نکلی ۔ آپ نے فرمایا:اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ دروازے پر موجود ہیں ۔ وہ مجوسی آیا اور گمان کیا کہ آپ قرض کا مطالبہ کریں گے، اس لیے ٹال مٹول کرنے لگا ۔ امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے فرمایا: مجھے یہاں قرض سے بھی بڑا معاملہ درپیش ہے ۔ پھر آپ نے دیوار پر نجاست لگنے کا واقعہ بیان کیا اور پوچھا: اب دیوار صاف کرنے کی کیا صورت ہے؟یہ سن کر مجوسی نے کہا: “میں صفائی کی ابتدا اپنے آپ کو پاک کرنے سے کرتا ہوں ۔ اور اسی وقت وہ اسلام لے آیا ۔

(تفسیر کبیر، الفصل الرابع فی تفسیر قولہ: مالک یوم الدین، 1 / 204)

قرض کی ادائیگی کے لیے دعا:حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیم سے روایت ہے:ایک مکاتب غلام آپ کے پاس آیا اور عرض کی: میں اپنی کتابت (کا مال) ادا کرنے سے عاجز آگیا ہوں، میری مدد فرمائیں ۔ آپ نے فرمایا: کیا میں تجھے وہ کلمات نہ سکھاؤں جو مجھے رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے سکھائے تھے؟ اگر تجھ پر پہاڑ برابر قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے ادا کرا دے گا ۔ تم یہ دعا پڑھا کرو: اللّٰهُمَّ اكْفِنِيْ بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِيْ بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَیعنی: اے اللہ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے

کفایت دے، اور اپنی مہربانی سے اپنے سوا سب سے بے نیاز کر دے ۔ (ترمذی، الحدیث: 3574)


اللہ تبارک و تعالی نے دین اسلام کو قیامت تک کے لیے آنے والی  نوع بشر کے لیے رہنمائی اور ہدایت کا حتمی ذریعہ بنایا کہ یہ ایک ایسا جامع اور مکمل دین ہے جو زندگی کے ہر ہر شعبے کے متعلق کامل رہنمائی فراہم کرتا ہے جس پر قرآن پاک کی آیات بینات اور مصطفی کی روشن تعلیمات شاہد عدل ہیں نوع انسانی کا کوئی بھی شخص کسی بھی مسئلے میں دین اسلام کی رہنمائیوں سے نور حاصل کر سکتا ہے چاہے وہ معاشی ہو سیاسی ہو اقتصادی ہو یا مذہبی ہو حتی کہ دین اسلام کا ایک طرہ امتیاز یہ ہے کہ یہ تمام شعبہ ہائے زندگی کے وابستہ ہر افراد کے متعلق حقوق پہ ازحد زور دیتا ہے چاہے وہ حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد مجموعی اعتبار سے ہوں یا انفرادی اعتبار سے حتی کہ قرضدار پر نرمی کرنے کے اعتبار سے ہماری شریعت بیضاء میں روشن تعلیمات مہک رہی ہیں جیسا کہ اللہ تبارک و تعالی اپنی کتاب لاریب میں ارشاد فرماتا ہے ۔

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)

ترجمۂ کنز العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (پ3، البقرۃ،آیت،280)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یا قرض کا کچھ حصہ یا پورا قرض معاف کر دینا اجر عظیم کا سبب ہے نیز قرض خواہ پر نرمی کرنے کے بارے میں تعلیمات نبویہ بھی روشن قندیلوں کی طرح جلوہ فگن ہیں جن میں ہر امتی کے لیے درس اقتدا اور اتباع موجود ہے ۔

پیارے اسلامی بھائیو! آئیے نبی رحمت کے مبارک تعلیمات سے اپنی سماعتوں کو محذوذ فرمائیے ، دلوں کو منور کیجئے اور آنکھوں کو جلا بخشئے:

(1) حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالی اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مفلس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے ۔ (مسلم ،کتاب المساقاۃوالمزارعۃ،باب فضل انظارالمعسر ،ص٨٤٥،الحدیث :٣٢ (١٥٦٣)

اس سے معلوم ہوا دنیا میں مفلس کو مہلت دینے والے کو اللہ تعالی قیامت کہ اس دن میں کہ جب ماں کا خون جگر بھی بے پرواہ ہوگا باپ کا سایہ عاطفت بھی پس پشت ہوگا اس کی وحشتوں ہولناکیوں ہلاکت خیزیوں سے مہلت عطا فرمائے گا ۔

(2): حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالی قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ (ترمذی ،کتاب البیوع،باب ماجاء فی انظار المعسر ،الحدیث(١٣١٠)

اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں قرضدار کو مہلت دینے والے کو رب رحیم قیامت کے اس ہولناک دن میں کہ سورج سوا نیزے سے آگیں برسا رہا ہوگا زمین تانبے سے زیادہ گرم ہوگی جب سایہ عرش خدا کے سوا اور کوئی پناہ گاہ جلوہ فگن نہ ہوگی تب بھی رب اپنی رحمت کے پردوں سے ڈھانپ دے گا ۔

(3) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری ،کتاب البیوع ،باب السھولۃوالسماحہ فی الشراءوالبیع،١٢/٢،الحدیث:٢٠٧٦)

اس مبارک حدیث میں اس نبی مستجاب الدعوات نے دعا ارشاد فرمائی ہے کہ جو چاہے تو اللہ کی عطا سے اپنے امتیوں کو مستجاب الدعوات کی منزلت پر فائض فرما دے لہذا یہ قرینہ ہے کہ ضرور مفلس پر نرمی کرنے والا رب کی رحمتوں کے سمندروں سے سیراب ہوگا ۔

(4) حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ،حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے ؟اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا اس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش اتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگ دست سے درگزر کرتا یعنی معاف کردیتا تھااللہ تعالی نے ( فرشتے سے) فرمایا:تم اس سے درگزر کرو ۔ (مسند امام احمد ،حدیث حذیفہ بن الیمان ،٩٨/٩، الحدیث: ٢٣٤١٣،مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ،باب فضل انظار المعسر ،ص٨٤٣الحدیث:٢٦ (١٥٦٠) ) اس سے معلوم ہوا کہ موت کا وہ سخت وقت کہ جس کی شدت 70 تلواروں کے زخم سے زیادہ گہرا اثر رکھتی ہو اس وقت میں بھی رب تعالی مفلس پر نرمی کرنے والے کو اپنی دامن رحمت میں جگہ عطا فرمائے گا اور اس کو عفو و رحمت کے سائے سے وحشت وآلام کی بے چینیوں سے قرار عطا فرمائے گا ۔

(5): صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی بارگاہ میں حاضر اس معاف کرنے والے مالدار پر آسانی کرنے اور تنگ دست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ،اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم ،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ،باب فضل انظار المعسر ،ص٨٤٤،الحدیث:٢٩(١٥٦٠) )

یہ حدیث مبارکہ بھی اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ مفلس کو معاف کرنے والے پر رب تعالی کی رحمت چھما چھم برستی ہے اور اس کے بحار مغفرت کی تلا تم خیز موجوں کا حقدار بناتی ہے ۔

مذکورہ بالا تعلیمات قرآنیہ اور ارشادات نبویہ نے اس بات کو روز روشن کی طرح واضح کر دیا کہ اسلام ایک جامع مذہب ہونے کے ساتھ ساتھ ادیان عالم میں وہ واحد مذہب ہے کہ جو حقوق العباد پر پوری آب و تاب سے ایسا زور دیتا ہے کہ ہر انسانیت کا داعی شخص جس کی حقانیت کی صدا پکار اٹھتا ہے تو لہذا تعلیمات نبویہ اس بات پر آفتاب عالم تاب ہیں کہ قرضدار پر نرمی کرنے والا شخص رب تعالی کے انعام و اکرام کے بحار سے لامتناہی موجوں میں طغیانی کرتا ہے اور اس کی مغفرت کے غیر محدود باغوں سے نہایت لذیذثمرات پاتا ہے نیز قیامت کے دن کی ہولناکیوں اور موت کے وقت کی سختیوں میں رب تعالی کی رحمت اس کی ایسی شریک سفر ہوتی ہے کہ وہ ہر طرح کی وحشت و گھبراہٹ سے ابدی قرار دینے والی ذات کی پناہ لطف و انعام سے معمور ہوتا ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم تعلیمات نبویہ کو اپنا نصب العین بناتے ہوئے ہمیشہ قرضدار پر نرمی شفقت کر کے دنیا و اخرت کی سعادت ابدیہ سرمدیہ سے حصہ پائیں امین بجاہ نبی الامین ۔ 


ہر انسان پر وقت ایک سا نہیں رہتا، تنگی و آسانی زندگی کا حصہ ہیں آج اگر کوئی مقروض ہے تو کل ہم بھی آزمائش میں ہو سکتے ہیں  دینِ اسلام نے مقروض کے ساتھ نرمی کو نیکی، بلکہ عبادت قرار دیا ہے ۔ قرض کا تقاضا کرتے وقت نرمی اختیار کرنا دلوں کو جوڑتا ہے اور رحمتوں کا ذریعہ بنتا ہے ہمیں چاہیے کہ ہم ایسے لوگوں کے لیے آسانی پیدا کریں، جن پر بوجھ ہے، تاکہ اللہ ہمارے لیے آسانی فرمائے ۔ دنیا کی اصل خوبصورتی حسنِ اخلاق اور نرمی میں پوشیدہ ہے نرمی برتنا سنتِ نبوی ﷺ ہے، جس سے برکت اور آسانی پیدا ہوتی ہے جو دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، اللہ اس کے لیے آسانیاں پیدا فرماتا ہے معاملات میں شفقت، تحمل اور گنجائش انسان کی اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے ۔

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)

ترجمہ کنز العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (پارہ 3 سورہ البقرہ آیت 280)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یا قرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہےحضور جان عالم ﷺ نے بھی اپنے اقوال و افعال و کردار سے نرمی برتنی کی تعلیم دی چند احادیث کریمہ ملاحظہ ہوں:

(1)اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ ‘‘ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟‘‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !وہ میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:250)

عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں قرض دار کے ساتھ نرمی برتنے ، اچھا سلوک کرنے اور قرضے میں کمی کرنے پر اُبھارا گیا ہے ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا گیا ہے کہ آج کل لوگ مجبور وتنگدست قرض دار کے ساتھ بھی بہت ہی نارَوا سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ نرمی کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے ، وہ جہاں مل جائے اُس کی عزت پامال کرکے رکھ دیتے ہیں ، آئے دن اُس کے گھر کے چکر لگاتے ، دروازہ بجاتے ، گھر کے باہر کھڑے ہوکر اُسے باتیں سناتے ، بلکہ بعض بے باک لوگ تو گالیاں تک بَک جاتے اور اُس بے چارے ، لاچار ، غریب اور بے بس شخص کی عزت کا جنازہ نکالتے نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ احادیث مبارکہ میں تنگدست ومجبور قرض دار کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔

(2) حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳))

(3)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)

(4)حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )


اسلام ایک ایسا کامل اور جامع دین ہے جو نہ صرف عبادات کا درس دیتا ہے بلکہ معاشرت، معیشت، اخلاقیات اور انسانی ہمدردی کے تمام پہلوؤں کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔  نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات میں معاشرے کے کمزور، بے سہارا، ضرورت مند اور خاص طور پر مقروض افراد کے ساتھ حسن سلوک اور نرمی برتنے پر بہت زور دیا گیا ہے ۔ ایک مقروض شخص نہ صرف مالی بوجھ تلے دبا ہوتا ہے بلکہ اس کی ذہنی، جسمانی اور معاشرتی حالت بھی متاثر ہوتی ہے ۔ ایسے میں اس کے ساتھ سختی برتنا، اس کی تذلیل کرنا یا اس پر دباؤ ڈالنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ یہی وہ تعلیمات ہیں جو ہمیں نہ صرف مقروض کے ساتھ نرمی، ہمدردی اور مہربانی کی طرف بلاتی ہیں، بلکہ ایک مثالی اسلامی معاشرہ تشکیل دینے کی راہ بھی دکھاتی ہیں ۔ اس تمہید کے بعد ہم ان نبوی تعلیمات کا تفصیلی جائزہ لیں گے جن میں مقروضوں کے ساتھ نرم رویہ اپنانے کی تلقین کی گئی ہے ۔ آئیے چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں ۔

(1) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ: إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا، قَالَ: فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ

ترجمہ:روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوکر کو اسے اس نے کہہ رکھا تھا کہ جب تو کسی تنگ دست کے پاس تقاضا کو جائے تو اسے معاف کر دے ہو سکتا ہے کہ اللہ ہم کو معافی دے دے فرمایا کہ وہ اللہ سے ملا تو رب نے اس سے در گزر فرمائی ۔ (مسلم ، بخاری)

(2) عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةٍ أَصْوَاتُهُمَا، وَإِذَا أَحَدُهُمَا يَسْتَوْضِعُ الآخَرَ، وَيَسْتَرْفِقُهُ فِي شَيْءٍ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لاَ أَفْعَلُ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَيْنَ المُتَأَلِّي عَلَى اللَّهِ، لاَ يَفْعَلُ المَعْرُوفَ؟»، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَهُ أَيُّ ذَلِكَ أَحَبَّ

ترجمہ :أم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا ۔ “ آپ صلی اللہ تَعَالٰی عَلیہ وَالِہ وَسَلَّم اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”کون ہے جو اللہ عزو جل کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟“ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ” یار سول اللہ صلی اللہ تَعَالٰی عَلیہ وَآلِہ وسلم ! وہ میں ہوں، اور اب اس ( مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ “

اسلام نے انسانیت کے ہر پہلو کو سنوارنے کے لیے جامع تعلیمات عطا کی ہیں، اور مقروض کے ساتھ نرمی اور ہمدردی ان میں سے ایک روشن مثال ہے ۔ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک مقروض کی مدد نہ صرف دینی فریضہ ہے بلکہ یہ معاشرتی فلاح و بہبود کا ذریعہ بھی ہے ۔ ایسے افراد کے لیے آسانی پیدا کرنا دراصل اللہ کی رحمت کو دعوت دینا ہے ۔ آج کے دور میں جب مالی مشکلات عام ہو چکی ہیں، ہمیں زیادہ سے زیادہ ان نبوی ہدایات پر عمل پیرا ہونا چاہیے تاکہ ایک رحم دل، پرامن اور باہمی تعاون پر مبنی معاشرہ تشکیل پا سکے ۔ الله ہمیں ان تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین ﷺ 


انسانی معاشرہ باہمی تعاون، ہمدردی اور خیر خواہی کے جذبے سے قائم رہتا ہے ۔  ہر انسان کی زندگی میں فراخی کے ساتھ کبھی تنگی کا وقت بھی آتا ہے، اور ایسے وقت میں قرض لینا بعض اوقات مجبوری بن جاتا ہے ۔ شریعتِ مطہرہ نے جہاں قرض کی ادائیگی کو لازم قرار دیا ہے، وہیں مقروض کے ساتھ نرمی، مہلت اور شفقت برتنے کی بارہا تاکید بھی فرمائی ہے ۔ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ محتاجوں، مقروضوں اور مجبوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے، ان پر سختی نہ کی جائے، بلکہ ان کی آسانی کے لیے مہلت دینا، معاف کرنا یا سہولت فراہم کرنا باعثِ اجر ہے ۔ ایسے اخلاقی اصول اسلامی تعلیمات کی روشن مثال ہیں جو ایک پرامن، رحم دل اور فلاحی معاشرے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں ۔

اس ضمن میں چند احادیث کریمہ ملاحظہ ہوں جس میں تاجدارِ رسالت ﷺ نے بھی اپنے اقوال و افعال و کردار سے نرمی برتنی کی تعلیم دی چانچہ:

(1)اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ ‘‘ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟‘‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !وہ میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:250)

عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں قرض دار کے ساتھ نرمی برتنے ، اچھا سلوک کرنے اور قرضے میں کمی کرنے پر اُبھارا گیا ہے ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا گیا ہے کہ آج کل لوگ مجبور وتنگدست قرض دار کے ساتھ بھی بہت ہی نارَوا سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ نرمی کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے ، وہ جہاں مل جائے اُس کی عزت پامال کرکے رکھ دیتے ہیں ، آئے دن اُس کے گھر کے چکر لگاتے ، دروازہ بجاتے ، گھر کے باہر کھڑے ہوکر اُسے باتیں سناتے ، بلکہ بعض بے باک لوگ تو گالیاں تک بَک جاتے اور اُس بے چارے ، لاچار ، غریب اور بے بس شخص کی عزت کا جنازہ نکالتے نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ احادیث مبارکہ میں تنگدست ومجبور قرض دار کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے:

(2) حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف

کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳)

(3)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسرالخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)

اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی ، تنگدست قرض دار کو مہلت دینے ، یا قرض میں کمی کرنے یا معاف کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ ﷺ


ہر انسان پر وقت ایک سا نہیں رہتا، تنگی و آسانی زندگی کا حصہ ہیں آج اگر کوئی مقروض ہے تو کل ہم بھی آزمائش میں ہو سکتے ہیں  دینِ اسلام نے مقروض کے ساتھ نرمی کو نیکی، بلکہ عبادت قرار دیا ہے ۔ قرض کا تقاضا کرتے وقت نرمی اختیار کرنا دلوں کو جوڑتا ہے اور رحمتوں کا ذریعہ بنتا ہے ہمیں چاہیے کہ ہم ایسے لوگوں کے لیے آسانی پیدا کریں، جن پر بوجھ ہے، تاکہ اللہ ہمارے لیے آسانی فرمائے ۔ دنیا کی اصل خوبصورتی حسنِ اخلاق اور نرمی میں پوشیدہ ہے نرمی برتنا سنتِ نبوی ﷺ ہے، جس سے برکت اور آسانی پیدا ہوتی ہے جو دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، اللہ اس کے لیے آسانیاں پیدا فرماتا ہے معاملات میں شفقت، تحمل اور گنجائش انسان کی اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے ۔

قال اللہ تبارک وتعالی فی القرآن الکریم وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(280)) تلك الرسل 3 سورہ البقرہ ) ترجمہ کنزالعرفان ۔ (اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ )

اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔ ،،( ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ ا س کے5فضائل درجِ ذیل ہیں ):

حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳))

(2)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روآیت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)

حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )

حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، ۹ / ۹۸، الحدیث: ۲۳۴۱۳، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۳، الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰))

اور صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۴، الحدیث: ۲۹(۱۵۶۰))

امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور مجوسی قرضدار: امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’منقول ہے کہ ایک مجوسی پر امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ مال قرض تھا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قرض کی وصولی کے لئے ا س مجوسی کے گھر کی طرف گئے ۔ جب اس کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جوتے پر نجاست لگ گئی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے (نجاست چھڑانے کی غرض سے) اپنے جوتے کو جھاڑا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ا س عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اڑ کر مجوسی کی دیوار کو لگ گئی ۔ یہ دیکھ کر آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا کہ اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس مجوسی کی دیوار خراب ہو رہی ہے اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی اکھڑے گی ۔ اسی پریشانی کے عالم میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دروازہ بجایا تو ایک لونڈی باہر نکلی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ دروازے پر موجود ہے ۔ وہ مجوسی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آیا اور ا س نے یہ گمان کیا کہ آپ آپنے قرض کا مطالبہ کریں گے، اس لئے اس نے آتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دی ۔ امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں تو قرض سے بھی بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُُ نے دیوار پر نجاست لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی کیا صورت ہے؟ (یہ سن کر) اس مجوسی نے عرض کی :میں (دیوارکی صفائی کرنے کی) ابتداء اپنے آپ کو پاک کرنے سے کرتا ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا ۔ (تفسیر کبیر، الفصل الرابع فی تفسیر قولہ: مالک یوم الدین، ۱ / ۲۰۴)


نبیِّ کریم علیہ الصلوۃ و السَّلام کاارشاد ہے: تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قَبْض کرنے فِرِشْتہ آیا تو اُس سے کہا گیاکہ کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔  اس سے کہا گیا:غور تو کر ۔ اس نے کہا: اس کے سِوا اور کچھ نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو مُعافی ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں داخل فرما دیا ۔

(بخاری،ج2،ص460،حدیث:3451)

میرے پیارے اور محترم اسلامی بھائیو! مَقْرُوض سے ہمیشہ نرمی اور حُسْنِ سُلوک سے پیش آناچاہئے ۔ ضَرورت مندوں کو قَرْض دینا اور قَرْض کی بہترین ادائیگی کرنا، اسلام میں جہاں اس کی ترغیب ہے وہیں تنگدَسْت مقروض سے شفقت و مہربانی اور نرمی سے پیش آنا بھی اسلامی تعلیمات کا روشن باب ہے ۔ قرض دینے کا بنیادی مقصد (Basic Purpose) یہ ہوتا ہے کہ ضَرورت مند کی مَعاشی اور گھریلو پریشانیاں خَتْم ہوجائیں،اس سوچ کےتحت اچّھی اچّھی نیتوں کے ساتھ دیا جانے والاقرض ثواب کا ذریعہ بھی بنے گا ۔

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)

ترجمہ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔ (البقرۃ،280)

(1) جو کسی تنگدست (مقروض) پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخِرت میں اس پر آسانی فرمائے گا ۔ (ابن ماجہ،ج 3،ص147، حديث: 2417)

(2)جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کاقرض مُعاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن عَرْش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا کہ جس دن عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ (ترمذی،ج3،ص 52، حديث:1310)

مقروض پر آسانی کے طریقے:ہم نے مقروض پر نرمی و آسانی کرنے کے کچھ فضائل سنے اب مقروض پر نرمی و آسانی کے لیے کیا طریقۂ کار اپنایا جاۓ اس کے بارے میں کچھ جانتے ہیں ۔

۱) اگر کوئی مقروض تنگدست ہے تو اُسے مہلت دی جائے، سختی سے گریز کیا جائے ۔

۲) قرض دیتے وقت نیت خالص ہو، یعنی مدد کے جذبے سے دیا جائے، نفع یا شہرت کے لیے نہیں ۔

۳) قرض کی واپسی کے وقت نرمی اختیار کی جائے، اور اگر ممکن ہو تو کچھ حصہ معاف کر دیا جائے ۔

۴) مالی لین دین میں شفافیت، دیانت داری اور حسنِ سلوک کو ہمیشہ مقدم رکھا جائے ۔

۵) یاد رکھیں کہ دنیا کی وقتی رقم یا نقصان کے بدلے اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی کامیابی حاصل ہوتی ۔ 


ہر انسان پر وقت ایک سا نہیں رہتا، تنگی و آسانی زندگی کا حصہ ہیں آج اگر کوئی مقروض ہے تو کل ہم بھی آزمائش میں ہو سکتے ہیں  دینِ اسلام نے مقروض کے ساتھ نرمی کو نیکی، بلکہ عبادت قرار دیا ہے ۔

قرض کا تقاضا کرتے وقت نرمی اختیار کرنا دلوں کو جوڑتا ہے اور رحمتوں کا ذریعہ بنتا ہے ہمیں چاہیے کہ ہم ایسے لوگوں کے لیے آسانی پیدا کریں، جن پر بوجھ ہے، تاکہ اللہ ہمارے لیے آسانی فرمائے ۔ دنیا کی اصل خوبصورتی حسنِ اخلاق اور نرمی میں پوشیدہ ہے نرمی برتنا سنتِ نبوی ﷺ ہے، جس سے برکت اور آسانی پیدا ہوتی ہے جو دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، اللہ اس کے لیے آسانیاں پیدا فرماتا ہے معاملات میں شفقت، تحمل اور گنجائش انسان کی اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے ۔

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)

ترجمہ کنز العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (البقرۃ،280)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ ا س کے5فضائل درجِ ذیل ہیں:

(1)حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳))

(2)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)

(3)حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )

(4)حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، ۹ / ۹۸، الحدیث: ۲۳۴۱۳، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۳، الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰)

(5)اور صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۴، الحدیث: ۲۹(۱۵۶۰))

امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور مجوسی قرضدار:امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’منقول ہے کہ ایک مجوسی پر امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ مال قرض تھا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قرض کی وصولی کے لئے اس مجوسی کے گھر کی طرف گئے ۔ جب اس کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جوتے پر نجاست لگ گئی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے (نجاست چھڑانے کی غرض سے) اپنے جوتے کو جھاڑا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے اس عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اڑ کر مجوسی کی دیوار کو لگ گئی ۔ یہ دیکھ کر آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا کہ اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس مجوسی کی دیوار خراب ہو رہی ہے اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی اکھڑے گی ۔ اسی پریشانی کے عالم میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دروازہ بجایا تو ایک لونڈی باہر نکلی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ دروازے پر موجود ہے ۔ وہ مجوسی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آیا اور اس نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنے قرض کا مطالبہ کریں گے، اس لئے اس نے آتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دی ۔ امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں تو قرض سے بھی بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیوار پر نجاست لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی کیا صورت ہے؟ (یہ سن کر) اس مجوسی نے عرض کی :میں (دیوارکی صفائی کرنے کی) ابتداء اپنے آپ کو پاک کرنے سے کرتا ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا ۔ (تفسیر کبیر، الفصل الرابع فی تفسیر قولہ: مالک یوم الدین، ۱ / ۲۰۴)


وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)

ترجمہ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔

تفسیر صراط الجنان :وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر مقروض تنگدست ہو: یعنی تمہارے قرضداروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۰، ۱ / ۲۱۸)

قرضدار کو مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل: اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ ا س کے5فضائل درجِ ذیل ہیں :

(1) حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳))

(2) حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر الخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)

(3) حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )

(4) حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، ۹ / ۹۸، الحدیث: ۲۳۴۱۳، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۳، الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰))

(5) اور صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۴، الحدیث: ۲۹(۱۵۶۰))

امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور مجوسی قرضدار: امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’منقول ہے کہ ایک مجوسی پر امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ مال قرض تھا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قرض کی وصولی کے لئے ا س مجوسی کے گھر کی طرف گئے ۔ جب اس کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جوتے پر نجاست لگ گئی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے (نجاست چھڑانے کی غرض سے) اپنے جوتے کو جھاڑا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ا س عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اڑ کر مجوسی کی دیوار کو لگ گئی ۔ یہ دیکھ کر آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا کہ اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس مجوسی کی دیوار خراب ہو رہی ہے اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی اکھڑے گی ۔ اسی پریشانی کے عالم میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دروازہ بجایا تو ایک لونڈی باہر نکلی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ دروازے پر موجود ہے ۔ وہ مجوسی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آیا اور ا س نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنے قرض کا مطالبہ کریں گے، اس لئے اس نے آتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دی ۔ امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں تو قرض سے بھی بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیوار پر نجاست لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی کیا صورت ہے؟ (یہ سن کر) اس مجوسی نے عرض کی :میں (دیوارکی صفائی کرنے کی) ابتداء اپنے آپ کو پاک کرنے سے کرتا ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا ۔ (تفسیر کبیر، الفصل الرابع فی تفسیر قولہ: مالک یوم الدین، ۱ / ۲۰۴)

قرض کی ادائیگی کے لئے دعا: حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک مکاتب غلام آیا اور عرض کی میں اپنی کتابت (کا مال) اداء کرنے سے عاجز آگیا ہوں ، میری کچھ مدد فرمائیے ۔ آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کیا میں تجھے وہ کلمے نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے سکھائے تھے (اور ان کلمات کی برکت یہ ہے کہ ) اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے ادا کرا دے ۔ تم یہ پڑھا کرو ’’اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ‘‘ یعنی اے اللہ ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے تو کافی ہوجا، اورمجھے اپنی مہربانی سے اپنے سوا سے بے پرواہ کردے ۔ (ترمذی، احادیث شتی، ۱۱۰- باب، ۵ / ۳۲۹، الحدیث: ۳۵۷۴)