ظفر
اللہ بن خیر محمد (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی، پاکستان)
اللہ تبارک
و تعالی نے دین اسلام کو قیامت تک کے لیے آنے والی نوع بشر کے لیے رہنمائی اور ہدایت کا حتمی ذریعہ
بنایا کہ یہ ایک ایسا جامع اور مکمل دین ہے جو زندگی کے ہر ہر شعبے کے متعلق کامل
رہنمائی فراہم کرتا ہے جس پر قرآن پاک کی آیات بینات اور مصطفی کی روشن تعلیمات
شاہد عدل ہیں نوع انسانی کا کوئی بھی شخص
کسی بھی مسئلے میں دین اسلام کی رہنمائیوں سے نور حاصل کر سکتا ہے چاہے وہ معاشی
ہو سیاسی ہو اقتصادی ہو یا مذہبی ہو حتی کہ دین اسلام کا ایک طرہ امتیاز یہ ہے کہ یہ
تمام شعبہ ہائے زندگی کے وابستہ ہر افراد کے متعلق حقوق پہ ازحد زور دیتا ہے
چاہے وہ حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد
مجموعی اعتبار سے ہوں یا انفرادی اعتبار سے حتی کہ قرضدار پر نرمی کرنے کے اعتبار سے ہماری شریعت بیضاء میں روشن تعلیمات
مہک رہی ہیں جیسا کہ اللہ تبارک و تعالی اپنی کتاب لاریب میں ارشاد فرماتا ہے ۔
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمۂ کنز العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو
اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر
تم جان لو ۔ (پ3، البقرۃ،آیت،280)
اس آیت سے
معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یا قرض کا کچھ
حصہ یا پورا قرض معاف کر دینا اجر عظیم کا سبب ہے نیز قرض خواہ پر نرمی کرنے کے
بارے میں تعلیمات نبویہ بھی روشن قندیلوں کی طرح جلوہ فگن ہیں جن میں ہر امتی کے لیے
درس اقتدا اور اتباع موجود ہے ۔
پیارے
اسلامی بھائیو! آئیے نبی رحمت کے مبارک تعلیمات سے اپنی سماعتوں کو محذوذ فرمائیے
، دلوں کو منور کیجئے اور آنکھوں کو جلا بخشئے:
(1) حضرت
ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
نے ارشاد فرمایا جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالی اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں
سے نجات دے وہ کسی مفلس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے ۔ (مسلم ،کتاب المساقاۃوالمزارعۃ،باب
فضل انظارالمعسر ،ص٨٤٥،الحدیث :٣٢ (١٥٦٣)
اس سے
معلوم ہوا دنیا میں مفلس کو مہلت دینے والے کو اللہ تعالی قیامت کہ اس دن میں کہ
جب ماں کا خون جگر بھی بے پرواہ ہوگا باپ کا سایہ عاطفت بھی پس پشت ہوگا اس کی
وحشتوں ہولناکیوں ہلاکت خیزیوں سے مہلت عطا فرمائے گا ۔
(2): حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
نے ارشاد فرمایا :جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالی قیامت
کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ (ترمذی ،کتاب البیوع،باب ماجاء فی انظار
المعسر ،الحدیث(١٣١٠)
اس سے
معلوم ہوا کہ دنیا میں قرضدار کو مہلت دینے والے کو رب رحیم قیامت کے اس ہولناک دن
میں کہ سورج سوا نیزے سے آگیں برسا رہا ہوگا زمین تانبے سے زیادہ گرم ہوگی جب سایہ
عرش خدا کے سوا اور کوئی پناہ گاہ جلوہ فگن نہ ہوگی تب بھی رب اپنی رحمت کے پردوں
سے ڈھانپ دے گا ۔
(3) حضرت
جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ
والہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور
تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری ،کتاب البیوع ،باب السھولۃوالسماحہ فی
الشراءوالبیع،١٢/٢،الحدیث:٢٠٧٦)
اس مبارک
حدیث میں اس نبی مستجاب الدعوات نے دعا ارشاد فرمائی ہے کہ جو چاہے تو اللہ کی عطا
سے اپنے امتیوں کو مستجاب الدعوات کی منزلت پر فائض فرما دے لہذا یہ قرینہ ہے
کہ ضرور مفلس پر نرمی کرنے والا رب کی
رحمتوں کے سمندروں سے سیراب ہوگا ۔
(4) حضرت
حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ،حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے
ارشاد فرمایا : گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے
والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے ؟اس نے کہا، میرے علم میں
کوئی اچھا کام نہیں ہے اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا اس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ
دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش اتا تھا، اگر
مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگ دست سے درگزر کرتا یعنی
معاف کردیتا تھااللہ تعالی نے ( فرشتے سے) فرمایا:تم اس سے درگزر کرو ۔ (مسند امام
احمد ،حدیث حذیفہ بن الیمان ،٩٨/٩، الحدیث: ٢٣٤١٣،مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ،باب
فضل انظار المعسر ،ص٨٤٣الحدیث:٢٦ (١٥٦٠) ) اس سے معلوم ہوا کہ موت کا وہ سخت وقت کہ جس کی شدت 70 تلواروں کے زخم سے زیادہ
گہرا اثر رکھتی ہو اس وقت میں بھی رب تعالی مفلس پر نرمی کرنے والے کو اپنی دامن
رحمت میں جگہ عطا فرمائے گا اور اس کو عفو و رحمت کے سائے سے وحشت وآلام کی بے چینیوں
سے قرار عطا فرمائے گا ۔
(5): صحیح
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی بارگاہ میں حاضر اس معاف کرنے
والے مالدار پر آسانی کرنے اور تنگ دست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا میں تجھ
سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ،اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم
،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ،باب فضل انظار المعسر ،ص٨٤٤،الحدیث:٢٩(١٥٦٠) )
یہ حدیث
مبارکہ بھی اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ مفلس کو معاف کرنے والے پر رب تعالی
کی رحمت چھما چھم برستی ہے اور اس کے بحار
مغفرت کی تلا تم خیز موجوں کا حقدار بناتی ہے ۔
مذکورہ
بالا تعلیمات قرآنیہ اور ارشادات نبویہ نے
اس بات کو روز روشن کی طرح واضح کر دیا کہ اسلام ایک جامع مذہب ہونے کے ساتھ ساتھ ادیان عالم میں وہ
واحد مذہب ہے کہ جو حقوق العباد پر پوری آب و تاب سے ایسا زور دیتا ہے کہ ہر انسانیت
کا داعی شخص جس کی حقانیت کی صدا پکار اٹھتا ہے تو لہذا تعلیمات نبویہ اس بات پر
آفتاب عالم تاب ہیں کہ قرضدار پر نرمی
کرنے والا شخص رب تعالی کے انعام و اکرام کے بحار سے لامتناہی موجوں میں طغیانی
کرتا ہے اور اس کی مغفرت کے غیر محدود باغوں سے نہایت لذیذثمرات پاتا ہے نیز قیامت کے دن کی ہولناکیوں اور موت
کے وقت کی سختیوں میں رب تعالی کی رحمت اس
کی ایسی شریک سفر ہوتی ہے کہ وہ ہر طرح کی
وحشت و گھبراہٹ سے ابدی قرار دینے والی ذات کی پناہ لطف و انعام سے معمور ہوتا ہے
لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم تعلیمات نبویہ کو اپنا نصب العین بناتے ہوئے ہمیشہ قرضدار
پر نرمی شفقت کر کے دنیا و اخرت کی سعادت ابدیہ سرمدیہ سے حصہ پائیں امین بجاہ نبی
الامین ۔
Dawateislami