نعیم
جمیل (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
نبی کریم ﷺ نے
ہمشہ مقروض پر نرمی فرماتے اور دوسروں کو بھی مقروض پر نرمی کرنے کا حکم ارشاد
فرماتے اسی ضمن میں چند احادیث مبارکہ پیش خدمت ہے :
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ فَمَنْ أَخَّرَهُ كَانَ لَهُ
بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَة روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں فرمایا
رسول اللہ ﷺ نے جس کا کسی شخص پر کوئی حق ہو وہ اسے مہلت دے
دے تو اسے ہر دن کے عوض صدقہ کا ثواب ہوگا ۔ (مسند احمد)
شرح حدیث :حق میں قرض،دَین،مکان،دکان کا کرایہ،اپنے کام
کی اجرت تمام حقوق داخل ہیں ۔ من فرما کر یہ اشارہ لیا کہ جو بھی مہلت دیدے یا دلوادے یا مہلت کا سبب بن جائے اسے ہر دن
صدقہ کا ثواب ہے مثلًا یکم تاریخ کو کرایہ دار پر کرایہ ادا کرنا لازم ہےکسی نے
سفارش کرکے اسے دو چار دن کی مالک مکان سے مہلت دلوادی کہ یہ تو بیچارہ غریب ہے
ابھی اس کے پاس نہیں ہے،کچھ مہلت دے دو تو مالک مکان کو بھی اور اس سفارشی کو بھی
ان دو چار دنوں میں ہر دن اتنے روپے خیرات کرنے کا ثواب ملے گا ۔ اس لیے اعلٰی
حضرت قدس سرہ نے فرمایا کہ صدقہ دینے سے قرض دینا پھر مہلت دینا افضل ہے ۔ صدقہ تو
غیر حاجت مند بھی لے لیتے ہیں مگر قرض حاجت مند ہی لیتا ہے ۔ (مرآۃ المناجیح شرح
مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:2927 )
اخلاقی و
معاشرتی سبق:
1، مقروض
کے ساتھ نرمی کرنا انسانیت، ہمدردی اور ایثار کا مظہر ہے ۔
2، جو شخص
دنیا میں دوسروں کو مہلت دیتا ہے، اللہ تعالیٰ آخرت میں اسے اپنی رحمت کے سائے میں
لے لیتا ہے ۔
3، قرض دار
پر سختی کرنا ظلم کے زمرے میں آتا ہے، جب کہ نرمی کرنا صدقہ کے برابر اجر رکھتا ہے
۔
4، معاشرے
میں اگر یہ سنت عام ہو جائے تو حسد، بغض اور دشمنی کی جگہ محبت، تعاون اور اخوت پیدا
ہو گئے
اللہ پاک
ہمیں دوسروں کو قرض میں نرمی اور معاف کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دوسروں کا قرض
وقت پر لوٹانے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔
Dawateislami