اسلام ایک
ایسا کامل اور جامع دین ہے جو نہ صرف عبادات کا درس دیتا ہے بلکہ معاشرت، معیشت،
اخلاقیات اور انسانی ہمدردی کے تمام پہلوؤں کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات میں
معاشرے کے کمزور، بے سہارا، ضرورت مند اور خاص طور پر مقروض افراد کے ساتھ حسن
سلوک اور نرمی برتنے پر بہت زور دیا گیا ہے ۔ ایک مقروض شخص نہ صرف مالی بوجھ تلے دبا ہوتا ہے بلکہ اس کی ذہنی، جسمانی
اور معاشرتی حالت بھی متاثر ہوتی ہے ۔ ایسے
میں اس کے ساتھ سختی برتنا، اس کی تذلیل کرنا یا اس پر دباؤ ڈالنا اسلامی تعلیمات
کے خلاف ہے ۔ یہی وہ تعلیمات ہیں جو ہمیں
نہ صرف مقروض کے ساتھ نرمی، ہمدردی اور مہربانی کی طرف بلاتی ہیں، بلکہ ایک مثالی
اسلامی معاشرہ تشکیل دینے کی راہ بھی دکھاتی ہیں ۔ اس تمہید کے بعد ہم ان نبوی تعلیمات کا تفصیلی
جائزہ لیں گے جن میں مقروضوں کے ساتھ نرم رویہ اپنانے کی تلقین کی گئی ہے ۔ آئیے
چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں ۔
(1) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَكَانَ يَقُولُ
لِفَتَاهُ: إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ
يَتَجَاوَزَ عَنَّا، قَالَ: فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ
ترجمہ:روایت
ہے حضرت ابو ہریرہ سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا
اور اپنے نوکر کو اسے اس نے کہہ رکھا تھا کہ جب تو کسی تنگ دست کے پاس تقاضا کو
جائے تو اسے معاف کر دے ہو سکتا ہے کہ
اللہ ہم کو معافی دے دے فرمایا کہ وہ اللہ سے ملا تو رب نے اس سے در گزر فرمائی ۔ (مسلم ، بخاری)
(2) عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى
اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةٍ أَصْوَاتُهُمَا،
وَإِذَا أَحَدُهُمَا يَسْتَوْضِعُ الآخَرَ، وَيَسْتَرْفِقُهُ فِي شَيْءٍ، وَهُوَ
يَقُولُ: وَاللَّهِ لاَ أَفْعَلُ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَيْنَ المُتَأَلِّي عَلَى اللَّهِ، لاَ يَفْعَلُ
المَعْرُوفَ؟»، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَهُ أَيُّ ذَلِكَ أَحَبَّ
ترجمہ :أم
المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی
جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ
رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا ۔ “ آپ صلی اللہ تَعَالٰی عَلیہ وَالِہ وَسَلَّم
اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”کون ہے جو اللہ عزو جل کی قسم کھا کر کہتا ہے
کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟“ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ” یار سول اللہ صلی
اللہ تَعَالٰی عَلیہ وَآلِہ وسلم ! وہ میں ہوں، اور اب اس ( مقروض) کے لیے وہی ہے
جو یہ چاہتا ہے ۔ “
اسلام نے
انسانیت کے ہر پہلو کو سنوارنے کے لیے جامع تعلیمات عطا کی ہیں، اور مقروض کے ساتھ
نرمی اور ہمدردی ان میں سے ایک روشن مثال ہے ۔ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمیں سکھاتی ہے کہ ایک مقروض کی
مدد نہ صرف دینی فریضہ ہے بلکہ یہ معاشرتی فلاح و بہبود کا ذریعہ بھی ہے ۔ ایسے افراد کے لیے آسانی پیدا کرنا دراصل اللہ
کی رحمت کو دعوت دینا ہے ۔ آج کے دور میں
جب مالی مشکلات عام ہو چکی ہیں، ہمیں زیادہ سے زیادہ ان نبوی ہدایات پر عمل پیرا
ہونا چاہیے تاکہ ایک رحم دل، پرامن اور باہمی تعاون پر مبنی معاشرہ تشکیل پا سکے
۔ الله ہمیں ان تعلیمات پر عمل کرنے کی
توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین بجاہ
النبی الامین ﷺ
Dawateislami