محمد
احمد رضا (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی، پاکستان)
اس سے مراد وہ ہے جس میں قرض دار کو قرض کی ادائیگی کے لیے مہلت دی جاتی ہے ۔ یہ اصطلاح عام طور پر مالی لین دین سے متعلق
مقدمات میں استعمال ہوتی ہے، جہاں ایک فریق (قرض خواہ) دوسرے فریق (مقروض) کو کچھ
وقت کا اضافی موقع دیتا ہے تاکہ وہ اپنا قرض ادا کر سکے ۔
جیساکہ
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمہ کنز
العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ
کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (البقرۃ:280)
تفسیر صراط
الجنان:وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر
مقروض تنگدست ہو ۔ یعنی تمہارے قرض داروں
میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور
ہونے تک مہلت دو ۔ اور تمہارا تنگدست پر اپنا
قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کر دینا تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو، کیونکہ
اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم
ثواب ملے گا ۔
(خازن،
البقرۃ، تحت الآیۃ: 280، 1 / 218)
قرض دار کو
مہلت دینے اور قرض معاف کرنے کے فضائل:اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرض دار اگر تنگدست یا
نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یا قرض کا کچھ حصہ یا پورا قرض معاف کر دینا اجرِ عظیم
کا سبب ہے ۔
احادیث میں
بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں، چنانچہ اس کے پانچ فضائل درج ذیل ہیں:
(1) حضرت
ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ
وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کی
تکلیفوں سے نجات دے، وہ کسی مفلس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے ۔ (مسلم،
کتاب المساقاة والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص 845، الحدیث: 32 (1563)
(2) حضرت
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے روایت ہےنبی اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ
وَسَلَّمَ نے فرمایا: جس نے تنگدست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا، اللہ
تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا، جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو
گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر، 3 / 52، الحدیث: 1310)
(3) حضرت
جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے روایت ہےحضورِ اقدس صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ
وَسَلَّمَ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے، خریدنے اور تقاضا
کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحۃ فی الشراء والبیع،
2 / 12، الحدیث: 2076)
(4) حضرت
حذیفہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فرماتے ہیں حضور اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
نے ارشاد فرمایا: گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو اس سے
پوچھا: کیا تجھے اپنا کوئی اچھا عمل یاد ہے؟اس نے کہا: میرے علم میں کوئی اچھا کام
نہیں کہا گیا: غور کر کے بتااس نے کہا: میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا، اگر مالدار
بھی مہلت مانگتا تو دے دیتا، اور تنگدست سے درگزر کرتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
‘تم اس سے درگزر کرو ۔ ’”
(مسند
احمد، حدیث حذیفہ بن الیمان، 9 / 98، الحدیث: 23413 ۔ مسلم، کتاب المساقاة والمزارعۃ، ص 843، الحدیث:
26 (1560)
(5)اور صحیح
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف
کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا: میں
تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔
(مسلم، کتاب المساقاة والمزارعة، ص 844، الحدیث: 29 (1560)
امامِ اعظم
رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اور مجوسی قرض دار:امام فخرالدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِ
فرماتے ہیں :منقول ہے کہ ایک مجوسی پر امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کا کچھ
مال قرض تھا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اپنے
قرض کی وصولی کے لیے اس مجوسی کے گھر گئے ۔ جب اس کے دروازے پر پہنچے تو اتفاقاً
آپ کے جوتے پر نجاست لگ گئی ۔ آپ نے جوتے
کو جھاڑا تو کچھ نجاست اڑ کر مجوسی کی دیوار پر لگ گئی ۔ یہ دیکھ کر آپ پریشان ہو
گئے اور فرمایا: اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس مجوسی کی دیوار
خراب ہوگی، اور اگر اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی اکھڑے گی ۔ اسی پریشانی میں
آپ نے دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک لونڈی باہر نکلی ۔ آپ نے فرمایا:اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ دروازے پر موجود ہیں ۔ وہ مجوسی
آیا اور گمان کیا کہ آپ قرض کا مطالبہ کریں گے، اس لیے ٹال مٹول کرنے لگا ۔ امام
ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے فرمایا: مجھے یہاں قرض سے بھی بڑا معاملہ درپیش
ہے ۔ پھر آپ نے دیوار پر نجاست لگنے کا واقعہ بیان کیا اور پوچھا: اب دیوار صاف
کرنے کی کیا صورت ہے؟یہ سن کر مجوسی نے کہا: “میں صفائی کی ابتدا اپنے آپ کو پاک
کرنے سے کرتا ہوں ۔ اور اسی وقت وہ اسلام لے آیا ۔
(تفسیر کبیر،
الفصل الرابع فی تفسیر قولہ: مالک یوم الدین، 1 / 204)
قرض کی
ادائیگی کے لیے دعا:حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیم سے روایت ہے:ایک
مکاتب غلام آپ کے پاس آیا اور عرض کی: میں اپنی کتابت (کا مال) ادا کرنے سے عاجز
آگیا ہوں، میری مدد فرمائیں ۔ آپ نے فرمایا: کیا میں تجھے وہ کلمات نہ سکھاؤں جو
مجھے رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے سکھائے تھے؟ اگر تجھ پر پہاڑ
برابر قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے ادا کرا دے گا ۔ تم یہ دعا پڑھا کرو: اللّٰهُمَّ اكْفِنِيْ بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِيْ
بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَیعنی: اے اللہ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام
سے
کفایت دے،
اور اپنی مہربانی سے اپنے سوا سب سے بے نیاز کر دے ۔ (ترمذی، الحدیث: 3574)
Dawateislami