نوید
احمد (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کراچی، پاکستان)
ہر انسان
پر وقت ایک سا نہیں رہتا، تنگی و آسانی زندگی کا حصہ ہیں آج اگر کوئی مقروض ہے تو
کل ہم بھی آزمائش میں ہو سکتے ہیں دینِ
اسلام نے مقروض کے ساتھ نرمی کو نیکی، بلکہ عبادت قرار دیا ہے ۔ قرض کا تقاضا کرتے وقت نرمی اختیار کرنا دلوں
کو جوڑتا ہے اور رحمتوں کا ذریعہ بنتا ہے ہمیں چاہیے کہ ہم ایسے لوگوں کے لیے آسانی پیدا کریں، جن پر بوجھ ہے، تاکہ
اللہ ہمارے لیے آسانی فرمائے ۔ دنیا کی
اصل خوبصورتی حسنِ اخلاق اور نرمی میں پوشیدہ ہے نرمی برتنا سنتِ نبوی ﷺ ہے، جس سے
برکت اور آسانی پیدا ہوتی ہے جو دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، اللہ اس کے لیے
آسانیاں پیدا فرماتا ہے معاملات میں شفقت،
تحمل اور گنجائش انسان کی اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے ۔
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ
اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)
ترجمہ کنز
العرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ
کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (پارہ 3 سورہ البقرہ آیت 280)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا
نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یا قرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم
کا سبب ہےحضور جان عالم ﷺ نے بھی اپنے اقوال و افعال و کردار سے نرمی
برتنی کی تعلیم دی چند احادیث کریمہ ملاحظہ ہوں:
(1)اُمّ
المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ
حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز
سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی
چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا
۔ ‘‘ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا
: ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں
گا؟‘‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !وہ
میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:250)
عَلَّامَہ
اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ
اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’اس
حدیث میں قرض دار کے ساتھ نرمی برتنے ، اچھا سلوک کرنے اور قرضے میں کمی کرنے پر
اُبھارا گیا ہے ۔
میٹھے میٹھے
اسلامی بھائیو! دیکھا گیا ہے کہ آج کل لوگ مجبور وتنگدست قرض دار کے ساتھ بھی بہت
ہی نارَوا سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ نرمی کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے ، وہ
جہاں مل جائے اُس کی عزت پامال کرکے رکھ دیتے ہیں ، آئے دن اُس کے گھر کے چکر
لگاتے ، دروازہ بجاتے ، گھر کے باہر کھڑے ہوکر اُسے باتیں سناتے ، بلکہ بعض بے باک
لوگ تو گالیاں تک بَک جاتے اور اُس بے چارے ، لاچار ، غریب اور بے بس شخص کی عزت
کا جنازہ نکالتے نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ احادیث مبارکہ میں تنگدست ومجبور قرض
دار کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔
(2) حضرت
ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا
ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی
تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب
المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳))
(3)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ
تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو
گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)
(4)حضرت
جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا
کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع،
باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )
Dawateislami