میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا گیا ہے کہ آج کل لوگ مجبور وتنگدست قرض دار کے ساتھ بھی بہت ہی برا سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ نرمی کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے ، وہ جہاں مل جائے اُس کی عزت پامال کرکے رکھ دیتے ہیں ، آئے دن اُس کے گھر کے چکر لگاتے ، دروازہ بجاتے ، گھر کے باہر کھڑے ہوکر اُسے باتیں سناتے ، بلکہ بعض بے باک لوگ تو گالیاں تک بَک جاتے اور اُس بے چارے ، لاچار ، غریب اور بے بس شخص کی عزت کا جنازہ نکالتے نظر آتے ہیں  ۔ حالانکہ احادیث مبارکہ میں تنگدست ومجبور قرض دار کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے چنانچہ میں اس ضمن میں چند احادیث پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں :

(1)قرض دار کو مہلت دینا:حضرت ابوقتادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ میں نے رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص قرض دار کو مہلت دے یا قرض معاف کردے تواللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی سختیوں سے محفوظ رکھے گا ۔ (انوار الحدیث ص 273 مکتبہ شبیر برادرز )

(2)پیارے آقا نے صلح کروادی: اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟‘‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !وہ میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘

عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں قرض دار کے ساتھ نرمی برتنے ، اچھا سلوک کرنے اور قرضے میں کمی کرنے پر اُبھارا گیا ہے ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر :250 )

(3)ہر دن کے عوض کا ثواب :حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کا کسی شخص پر کوئی حق ہو وہ اسے مہلت دے تو اسے ہر دن کے عوض صدقہ کا ثواب ملے گا ۔ (انوار الحدیث ص 263 مکتبہ شبیر برادرز)

(4) تکلیفوں سے نجات :حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳))

(5)عرش کا سایہ :حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)