محمد
زین (درجۂ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
حضور نبی
اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اللہ پاک کے آخری نبی ہیں اور تمام جہانوں کے لیے
رحمت اللعالمین ہے حضور ﷺ کی رحمت عالمینی کے نظارے جس طرح اخرت میں دیکھنے
کو ملے گا اسی طرح دنیا میں بھی میں یہ پہلو آپنے جلوے دکھا رہا ہے ان میں سے ایک
پہلو یہ بھی ہے کہ اقا علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی تعلیمات میں مقروض پر نرمی اور
آسانی کرنے کی نصیحت فرمائی آئیے ہم بھی اس کے متعلق چند احادیث پڑھنے کی سعادت
کرتے ہیں:
(1)اُمّ
المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ
حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی جن میں سے ایک
دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ رہا تھا جبکہ
دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا
: ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا‘
تو اُن میں سے ایک نے عرض کی ’’یارسولَ اللہ ﷺ وہ میں ہوں ،اور اب اِس (مقروض)
کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘ (فیضان
ریاض الصالحین جلد 3 صفحہ 366 حدیث نمبر 250)
(2) حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو اپنے قرض دار
کو مہلت دے یا قرض معاف کر دے وہ قیامت کے دن عرش کے سایہ کے نیچے ہوگا ۔ (جامع الحدیث جلد 3 صفحہ نمبر 333 حدیث نمبر
1713 )
(3) حضرت
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا "اگلی امتوں میں ایک گنہگار شخص تھا جو لوگوں کے قرض معاف کر دیا
کرتا تھا جب اس کا انتقال ہوا تو اللہ تعالی نے اس کو بخش دیا اور پروردگار عالم
نے فرمایا جب وہ معاف کر دیا کرتا تھا تو میں اس سے زیادہ حقدار ہوں ۔ (جامع
الحدیث جلد 3 صفحہ نمبر 334 حدیث نمبر 1714)
(4) نبی کریم
علیہ الصلوۃ و السَّلام کاارشاد ہے: تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس
اس کی روح قَبْض کرنے فِرِشْتہ آیا تو اُس سے کہا گیا کہ کیا تو نے کوئی نیکی کی
ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔ اس سے کہا
گیا:غور تو کر ۔ اس نے کہا: اس کے سِوا
اور کچھ نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا
تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو مُعافی ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں
داخل فرما دیا ۔ (صحیح البخاری جلد 2 صفحہ
460 حدیث نمبر 3451)
(5) حضرت سیدنا
شداد بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے تاجدار رسالت شہنشاہ نبوت صلی
اللہ علیہ
وسلم کو فرماتے سنا کہ جس نے تنگدست کو مہلت دی یا آپنا قرض اس پر صدقہ کر دیا
اللہ عزوجل قیامت کے دن اسے آپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا ۔ (مجمع الزوائد کتاب البیوع باب فی من فرج عن
معسر٫جلد 4 ٫صفحہ نمبر 241 ٫حدیث نمبر 6671)
ہمارے
معاشرے میں مقروض افراد کے ساتھ بحث مباحثہ اور ظلم و ستم اور ان کی عزت کو اچھالا
جاتا ہے جو کہ بالکل درست نہیں اور نبی پاک ﷺ کی تربیت کے خلاف ہے ہمیں بھی اپنے
مسلمان بھائیوں کے ساتھ اس میں سلوک اور ان پر قرضے کے معاملے میں نرمی کرنے اور
ہو سکے تو معاف ہی کر دینے کی کوشش کرنی چاہیے اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ پاک
ہمیں مقروض پر نرمی کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ خاتم النبیین وصلی اللہ
تعالی علیہ والہ وسلم ۔
Dawateislami