آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی تعلیمات میں مقروض پر نرمی اور آسانی کرنے کی نصیحت فرمائی آئیے ہم بھی اس کے متعلق چند احادیث پڑھنے کی سعادت کرتے ہیں ۔

(1) اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی ’’یارسولَ اللہ ﷺ وہ میں ہوں ،اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد 3 صفحہ 366 حدیث نمبر 250)

(2)پریشانیوں سے نجات:حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نور کے پیکر تمام نبیوں کے سرور دو جہاں کے تاجور سلطان بحر و بر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو اس بات کو پسند کرتا ہو کہ اس کی دعائیں قبول ہوں اور پریشانیاں دور ہوں اسے چاہیے کہ تنگدست کو مہلت دیا کرے ۔ (مجمع الزوائد، کتاب البيوع،باب فی من فرج عن معسر ،حدیث نمبر6664،جلد 4،صفحہ239)

(3) حضرتِ سیدنا ابو ہر یر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتاتھا اور اپنے غلام سے کہا کرتاتھا کہ ''جب تم کسی تنگدست کے پاس جاؤ تو اس سے نرمی کیاکرو شاید اللہ عزوجل ہم پر نرمی فرمائے ۔ ''جب وہ(مرنے کے بعد) اللہ عزوجل کی بارگاہ میں حاضر ہوا توا للہ عزوجل نے اسے بخش دیا ۔ ''(صحیح مسلم ،کتاب المساقاۃ ،باب فضل انظار المعسر، رقم ۱۵۶۲، ص ۸۴۵)

(4) حضرت سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے تاجدار رسالت شہنشاہ نبوت ﷺ کو فرماتے سنا کہ جس نے تنگدست کو مہلت دی یا اپنا قرض اس پر صدقہ کر دیا اللہ عزوجل قیامت کے دن اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا ۔ (مجمع الزوائد کتاب البیوع باب فی من فرج عن معسر٫جلد 4 ٫صفحہ نمبر 241 ٫حدیث نمبر 6671)

(5) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگلی امتوں میں ایک گنہگار شخص تھا جو لوگوں کے قرض معاف کر دیا کرتا تھا جب اس کا انتقال ہوا تو اللہ تعالی نے اس کو بخش دیا اور پروردگار عالم نے فرمایا جب وہ معاف کر دیا کرتا تھا تو میں اس سے زیادہ حقدار ہوں ۔ (جامع الحدیث جلد 3 صفحہ نمبر 334 حدیث نمبر 1714)

ہمارے معاشرے میں مقروض افراد کے ساتھ بحث مباحثہ اور ظلم و ستم اور ان کی عزت کو اچھالا جاتا ہے جو کہ بالکل درست نہیں اور نبی پاک ﷺ کی تربیت کے خلاف ہے ہمیں بھی اپنے مسلمان بھائیوں نرمی کرنی چاہیے اور ہو سکے تو معاف ہی کر دینے کی کوشش کرنی چاہیے اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں مقروض پر نرمی کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ خاتم النبیین وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔ 


اللہ تبارک و تعالی نے دنیا بنائی اور اس میں مخلوقات کو پیدا فرمایا ان میں سے ایک مخلوق انسان بھی ہے جن انسانوں میں سے کچھ کو خوش حال پیدا فرمایا اور کچھ کو غریب اور پھر کتنی ہی اچھی بات ہے کہ خوش حال آدمی کسی غریب کو قرض دے اور یہ خوش حال آدمی کے لیے صدقہ بھی ہے ثواب کا کام بھی اللہ تعالی سے اس کا اجر پائے گا یہ اس لیے کہ خوش حال آدمی نے غریب کی مشکل آسان کر دی اور اللہ تعالی قرض دینے والے کی مشکل کو قیامت کے دن آسان کرے گا اور پھر قرض واپسی لینے میں نرمی بھی کریں۔

دیکھا گیا ہے کہ آج کل لوگ مجبور قرض دار کے ساتھ بہت ہی ناروا سلوک کرتے ہیں اس کے ساتھ نرمی کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے وہ جہاں مل جائے اس کی عزت پامال کر کے رکھ دیتے ہیں آئے دن اس کے گھر کے چکر لگانا دروازہ بجانا گھر کے باہر کھڑے ہو کر باتیں بنانا بلکہ بعض لوگ گالیاں تک بک جاتے ہیں اور اسی بیچارے لاچار غریب کی عزت کا جنازہ نکالتے نظر آتے ہیں حالانکہ قرآن و پاک و احادیث مبارکہ میں تنگدست و غریب قرض دار کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔ اللہ تبارک و تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیْسَرَۃٍ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ

ترجمہ کنز الایمان : اور اگر قرض دار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلا ہے اگر جانو ۔ ( پارہ 3 سورۃ البقرہ 2 ،آیت 280 )

معلوم ہوا ایک قرضدار اگر تنگدست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یا قرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کر دینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔

عرش کا سایہ: جس دن ماں باپ اپنے بیٹوں سے اور بیٹے اپنے ماں باپ اولاد سے بھاگیں گے اور اس دن اللہ تعالی کے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا اس گھڑی میں اللہ تعالی کے عرش کے سائے میں مخصوص لوگ ہوں گے جن میں سے ایک قرض دار کو مہلت دینے والا اور قرضہ معاف کرنے والا بھی ہے ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے تنگدست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالی قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ( ترمذی السنن ، کتاب البیوع ،باب ما جاء فی انظار المعسر والرق بہ،الحدیث 1360،ص 394 )

قیامت کی سختیوں سے محفوظ :حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو قرض دار کو مہلت دے یا قرض معاف کر دے تو اللہ تعالی اس کو قیامت کے دن کی سختیوں سے محفوظ رکھے گا۔ ( مسلم ،کتاب المساقاۃ،باب فضل انظار المعسر ،الحدیث 32 "1563" ص 650 )

اللہ تعالی کا درگزر فرمانا: حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے کے لیے فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا عمل یاد ہے ؟ اس نے کہا میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ۔ اس سے کہا گیا غور کر کے بتا اس نے کہا صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا اللہ تعالی نے ( فرشتے سے ) فرمایا تم اس سے درگزر کرو ۔ ( مسلم ،کتاب المساقاۃوالمزارعۃ،باب فضل انظار المعسر ،حدیث 26 "1560" ص 649 )

صدقے کا ثواب :حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس کا کسی شخص پر کوئی حق ہو وہ اسے مہلت دے تو اسے ہر دن کے عوض صدقے کا ثواب ملے گا ۔(مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب البیوع ،باب الافلاس والانظار ،الحدیث 2927 ،ج 2،ص 909)

امام اعظم کا کرم :حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی عادت کریم تھی کہ آپ حصول ثواب کے لیے کثرت سے لوگوں کو قرض دیا کرتے تھے اور آپ کا اپنے مقروضوں کے ساتھ اچھا سلوک بھی کمال کا تھا اس حُسن سلوک کی ایک داستان ملاحظہ فرمائیں: حضرت سیُّدُنا شقیق بن ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن حضرت سیدنا امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ گزر رہا تھا جبکہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کسی مریض کی عیادت کے لیے جا رہے تھے آپ رحمۃ اللہ علیہ نے دور سے ایک شخص کو آتا دیکھا لیکن اس نے فورا اپنے آپ کو حضرت سیُّدُنا امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے چھپاتے ہوئے راستہ بدل لیا آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نام لے کر پکارا اور فرمایا تم جس راستے پر ہو اسی پر چلتے آؤ دوسری راہ اختیار نہ کرو اس نے دیکھا کہ امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اسے پہچان لیا ہے اور بلا لیا ہے تو بہت شرمندہ ہوا اور وہیں رک گیا آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے پوچھا تم نے اپنا راستہ کیوں تبدیل کیا ؟ اس نے بتایا حضور آپ کا میرے ذمے دس (10) ہزار درہم قرض ہے اور اس بات کو عرصہ ہو چکا ہے مگر میں آپ کا قرض ادا نہ کر سکا تو مجھے آپ کو دیکھ کر بہت شرم محسوس ہوئی ( یعنی میں اس شرمندگی کی وجہ سے آپ کو منہ دکھانا نہیں چاہتا تھا ) آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے فرمایا سبحان اللہ عزوجل! تیرا معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ تم نے مجھے دیکھا تو مجھ سے ( قرض کے تقاضے کے خوف اور شرمندگی کی وجہ سے ) خود کو چھپا لیا جاؤ میں نے تمہیں اپنا تمام قرض معاف کیا اور میں خود اس پر گواہ ہوں آئندہ مجھ سے آنکھ نہ بچانا اور میری طرف سے جو چیز تمہارے دل میں داخل ہوئی ہے اس سے خود کو بری سمجھ کر مجھ سے ملا کرو حضرت سیدنا شقیق بن ابراہیم علیہ رحمۃ اللہ الکریم فرماتے ہیں کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا یہ حُسن سلوک دیکھ کر میں نے جان لیا کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ واقعی زاہد (یعنی دنیا سے بے رغبتی رکھنے والے ہیں ۔ ( مناقب امام اعظم ابی حنیفہ ، قصّہ ذید بن علی ۔ ۔ ۔ الخ، جزء اول ، ص 239 )


اسلام ایک مکمل اور کامل دین ہے اور اس دین میں ہر شخص کا لحاظ رکھا گیا ہے مومن ہو یا غیر مسلم باپ ہو یا بیٹا شوہر ہو یا بیوی الغرض ہر آدمی کے لیے کچھ حقوق ہیں اور ان حقوق کو نبھانے اور ان کے مطابق زندگی گزارنے کی تعلیم دی گئی ہے اور ان چیزوں کو سمجھنے کے لیے ہمارے سامنے رسول اللہ  ﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے انسان کی کچھ ضروریات ہیں اور ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وہ محنت کرتا ہے اور محنت کے دوران اسے مشکلات پیش آتی ہیں اور ان مشکلات میں سے ایک مشکل قرض بھی ہے مقروض شخص ہمیشہ پریشان رہتا ہے دین اسلام نے ہمیں اس کے بارے میں بتایا کہ مقروض سے نرمی سے پیش آنا چاہیے اور ہو سکے تو قرض کی مدت میں زیادتی کر کے اس کی مدد کرنی چاہیے اور اس کے لیے ہمیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے کئی اقوال و واقعات نظر آتے ہیں کہ آپ ﷺ نے مقروض پر نرمی کی اور بعض اوقات فرض معاف بھی کر دیا ۔

(1) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ تَاجِرٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا رَأَى مُعْسِرًا قَالَ لِفِتْيَانِهِ: تَجَاوَزُوا عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا، فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْه

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک مرد لوگوں کو قرض دیتا تھا جب وہ اپنے غلام کو کسی مقروض سے قرض لینے کے لیے بھیجتا تو اسے کہتا کہ جب تو معسر کے پاس جائے تو تو اس سے نرمی کر شاید اللہ ہمارے ساتھ نرمی فرمائے آپ علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جب اس نے اللہ سے ملاقات کی تو اللہ پاک نے اس شخص کے ساتھ نرمی فرمائی ۔ (البخاری 3480)

(2) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَى ترجمہ: اللہ اس آدمی پر رحم کرے جو بیچتے وقت، خریدتے وقت اور ادائیگی کا مطالبہ کرتے وقت نرمی کرتا ہے ۔ (البخاری 2076)

(3) مَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ترجمہ: جو معسر پر آسانی کرے اللہ تعالی اس سے دنیا اور اخرت میں آسانی کرے گا ۔ ( ابنِ ماجہ 2417)

(4) مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ، أَوْ يَضَعْ عَنْهُ ترجمہ: جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کی مصیبتوں سے بچا لے تو اسے چاہیے کہ کسی مشکل میں پڑنے والے کی تنگی کو دور کر دے یا اس کا قرض اتار دے ۔ ( مسلم، 1563)

ان اقوال کے علاوہ کئی ایسے واقعات بھی ہیں جن میں حضور ﷺ نے مقروض کا قرض معاف کر دیا یا اس کے قرض میں نرمی کر دی ہمیں بھی چاہیے کہ ہم مقروض کے ساتھ نرمی کریں اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیمات پر عمل کریں اللہ پاک ہمیں مقروض پر نرمی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


قرض خواہ کو مہلت دینا ایک نہایت اعلیٰ اور عظیم اسلامی اخلاق ہے جو رحم، بردباری اور انسان دوستی کی بہترین مثال پیش کرتا ‏ہےقرآن و سنت میں ایسے شخص کے لیے بے شمار فضیلتیں بیان ہوئی ہیں جو اپنے مقروض بھائی کو آسانی فراہم کرتا ہےیہ عمل نہ ‏صرف مالی ہمدردی ہے بلکہ معاشرتی سکون اور اخوت کا ذریعہ بھی بنتا ہے جو شخص کسی تنگ دست کو وقت دیتا ہےدراصل وہ اللہ تعالیٰ ‏کی رضا حاصل کرتا ہے اور آخرت میں اس کے لیے اجر عظیم کی بشارت ہےقرض خواہ کو مہلت دینا بندوں پر نرمی اور اللہ پر ‏بھروسے کا مظہر ہےکیونکہ جو دنیا میں دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہےاللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے لیے آسانی پیدا فرمائے ‏گا ۔

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)

‏ ترجمہ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔ (البقرۃ،280)

‏ تفسیر صراط الجنان:تمہارے قرضداروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو اور ‏تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو کیونکہ اس طرح ‏کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ ‏(خازن، البقرۃ، تحت الآیہ: 280، 1/218)‏

(1) (جو کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اس کاقرض معاف کر دے تو) اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اس دن عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا کہ جس دن عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ‏(صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، حدیث نمبر: 1563)‏

‏ (2)‏جو شخص کسی ضرورت مند کو ادائیگی کے لیے مزید وقت دیتا ہے یا اس کا قرض بالکل معاف کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ‏اپنے عرش کے سایہ میں عزت و آرام کی جگہ نصیب فرمائے گا اس دن جب کوئی دوسرا سایہ موجود نہ ہوگا ۔ ‏(سنن ابن ماجہ، کتاب الصدقات، باب انظار المعسر، حدیث نمبر: 2417)‏

‏ (3)‏ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھاجب کبھی وہ کسی مقروض کو مشکل میں دیکھتا تو اپنے خادموں سے کہتا: اس سے درگزر کروتاکہ ‏اللہ ہم پر بھی کرم فرمائے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اسی نرمی کے بدلے اسے اپنی مغفرت سے نواز دیا ۔ ‏(صحیح بخاری، کتاب البیوع، باب من انظر معسراً، حدیث نمبر: 2078)‏

‏ (4)‏جو شخص کسی تنگ حال کو ادائیگی کے لیے مہلت دیتا ہے، تو جب تک وہ وقت پورا نہیں ہوتا ہر دن اس کے لیے صدقہ لکھا جاتا ہےاور اگر وقت پورا ہونے کے بعد بھی وہ مزید مہلت دیتا رہے، تو اس کے لیے دوگنا اجر لکھا جاتا ہے ۔ ‏(سنن ابن ماجہ، کتاب الصدقات، باب انظار المعسر، حدیث نمبر: 2418)‏

‏(5)‏‏ حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ ‏تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ ‏(صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، حدیث نمبر: 1563)‏

‏(6)‏حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روآیت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص ‏پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ ‏‏(صحیح بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحۃ فی الشراء والبیع، حدیث نمبر: 2076)‏

‏(7)‏حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں ایک ‏شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں ‏کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ‏ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا ‏تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو ۔ ‏‏(مسند احمد بن حنبل، حدیث حذیفہ بن الیمان، حدیث نمبر: 23413‏)(صحیح مسلم، کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، حدیث نمبر: 1560‏(


اپنے مسلمان مقروض بھائی کو مفلسی کی صورت میں مہلت دے یا معاف کر دے  ۔

مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:کبھی اس قرض کو حسنہ کہ دیتے ہیں جس کو معاف کر دیا جائے ۔ (تفسیرنورالعرفان ،ص،890، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ گجرات )

چنانچہ جب کسی پر قرض ہو تو مسلمان کو چاہیے کہ اگر وہ شخص مفلوس ہے تو اسے کچھ مہلت دے اور عمدہ برکت سے نفع اٹھائے ۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان خوشبودار ہے :

(1)جب کسی دوسرے پر دین ہو اور اس کی میعاد گزر جائے تو(مہلت دینے پر ) جتنا دین ہو ہر روز اس قدر روپیہ کی خیرات کا ثواب ملتا ہے ۔ (شعب الایمان ،الحدیث ،11261،ج 7،ص538،دار الکتب العلمیہ)

اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:اس ثواب عظیم کے لیے میں نے قرض دئیے ہبہ نہ کئے کہ 1500 روپےروز میں کہاں سے خیرات کرتا ۔ (ملفوظات اعلی حضرت ،ص 92 ،مکتبۃ المدینہ)

(2)حکم بن عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:کہ اللہ پاک کے نزدیک محبوب اعمال یہ ہیں جس نے بھوک میں مسکین کو کھانا کھلایا یا اس سے قرض کو دور کیا یا اس سے مشکل کو دور کیا ۔ (معجم الکبیر ،حدیث ،3187،تحت حکم بن عمیر الثمالی ،جلد 3 ،ص218،مطبوعہ دار احیاء التراث )

(3)نیز تنگ دست پر آسانی کرنا دنیا و آخرت میں آسانی دلاتا ہے :چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :جس نے مسلمان سے دنیاوی تکالیف میں سے کسی تکلیف کو دور کیا اللہ پاک قیامت کے دن اس کے تکلیفوں میں سے تکلیف کو دور فرمائے گا اورجس نے "تنگدست" پر آسانی کی اللہ پاک اس پر دنیا اور آخرت میں آسانی فرمائے گا جس نے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کی اللہ پاک اس کی دنیا اور آخرت میں پردہ پوشی فرمائے گا اور اللہ پاک بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے ۔ (جامع ترمذی ،باب ما جاء فی سترة المسلم ، حدیث ،1930،ص 560،مطبوعہ دار الکتاب العربی 2005)

(4)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :جو اپنے مسلمان بھائی کے لیے باعزت شخص تک کوئی بھلائی پہنچانے میں یا تنگدست کی آسانی میں رہنما بنے اللہ پاک اسے قیامت کے دن پل صراط پر پاؤں لڑکھڑانے کے وقت ثابت قدمی عطا فرمائے گا ۔ (الترغیب والترہیب ،باب الترغیب فی قضاء الحوائج المسلمین ،ج3،ص ،348،مطبوعہ دار ابن کثیر 2014 )

(5)امام طبرانی علیہ الرحمہ نے المعجم الکبیر میں حدیث پاک روایت فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بے شک قیامت کے دن سب سے پہلے لوگوں میں عرش کا سایہ اس شخص کو نصیب ہوگا جس نے کسی قرضدار کو مہلت دی یا اس پر قرض کو صدقہ کر دیا ۔ (المعجم الکبیر ،حدیث 377،ج19 ،ص،167مطبوعہ دار احیاء بیروت )

علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ متوفی 911ھ اس کی شرح میں فرماتے ہیں: اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ سب سے پہلے اس شخص (جس نے قرض دار کو مہلت دی یا قرض کو معاف کر دیا) کو عرش کا سایہ ملے گا ۔ (سایہ عرش کس کو ملے گا ،ص 27 ،28،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

آپ علیہ الرحمہ نے اس مذکورہ کتاب میں اس حدیث کے علاوہ دس احادیث قرض دار پر نرمی پر سایہ عرش کی بشارت میں تحریر فرمائی جس سے مقروض پر نبوی تعلیمات اور انسانی حقوق کی بہترین عکاسی ہوتی ہے ۔

اللہ پاک ہمیں بھی اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ صلہ رحمی اور نرمی کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین ﷺ ۔ 


وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)

ترجمہ کنزالایمان: اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔

قرضدار کو مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل:اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یا قرض کا کچھ حصہ یا پورا قرض معاف کر دینا اجر عظیم کا سبب ہے ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں، چند فضائل درج ذیل ہیں:

(1) حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا "جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے ۔ (مسلم، کتاب المساقاة والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص845، الحدیث:32 (1563))

(2) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا "جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالی قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر، 3 / 52، الحدیث: 1310)

(3) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السهولۃ والسماحۃ فى الشراء والبیع، 2 / 12، الحديث: 2076)

(4)حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالَى عَنْہ فرماتے ہیں، حضور اکرم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَیہ وَآلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: "گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنی کوئی اچھی چیز یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھی کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا: غور کر کے بتاؤ کہ دنیا میں لوگوں سے صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتے سے فرمایا: تم اس سے درگزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن اليمان، 9 / 98، الحديث: 23413، مسلم، کتاب المساقاة والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص 844 الحديث" (29) (1560)

(5) اور صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگ دست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا" میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حق دار ہوں، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم، کتاب المساقاة والمزارعۃ، باب بفضل انظار المعسر، ص 844، الحدیث:29(1560))

امام اعظم رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُ اور مجوسی قرضدار:امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَيْہِ فرماتے ہیں "منقول ہے کہ ایک مجوسی پر امام ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہ ِ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ مال قرض تھا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قرض کی وصولی کے لئے اس مجوسی کے گھر کی طرف گئے جب اس کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے جو تے پر نجاست لگ گئی ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے (نجاست جھاڑنے کی غرض سے) اپنے جو تے کو جھاڑا تو آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے اس عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اُڑ کر دیوار پر لگ گئی ۔ آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا کہ اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اس مجوسی کی دیوار خراب ہو رہی ہے اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی اُکھڑے گی ۔ اسی پریشانی کے عالم میں آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے دروازہ بجایا تو ایک لونڈی باہر نکل آئی ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ دروازے پر موجود ہے وہ مجوسی آپ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آیا اور اس نے یہ گمان کیا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قرض کا مطالبہ کریں گے، اس لئے اس نے آتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دیا ۔ امام ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں تو قرض سے بھی بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیوار پر نجاست لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی صورت کیا ہے؟ (یہ سن کر) اس مجوسی نے عرض کی: میں (دیوار کی صفائی کرنے کی) ابتدا میں اپنے آپ کو پاک کرنے سے کرتا ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا ۔ (تفسیر کبیر، الفصل الرابع فی تفسیر قوله: مالک یوم الدین، 1/ 204)

حضرت علی المرتضیٰ کرّمَ اللہ تعالیٰ وَجْہہُ اَلکَرِیم سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک مكاتب غلام آیا اور عرض کی اپنی كتابت (کامل) ادا کرنے سے عاجز آگیاہوں، میری کچھ مدد فرمائیے ۔ آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہہ الْکَرِیْم نے فرمایا کیا میں تجھے وہ کلمات نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سکھائے تھے (اور ان کلمات کی برکت یہ ہے کہ اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے ادا کرادے ۔ تم یہ پڑھا کرو "اَللّٰھُمَّ اَکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ" یعنی اے الله! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے تو کافی ہو جا، اور مجھ اپنی مہربانی سے آپنے سوائے بے پرواہ کر دے ۔ (ترمذی، احادیث شتی، 110-باب 5/ 329 الحدیث 3574)


انسانی زندگی نشیب و فراز کا مجموعہ ہے ۔  کبھی خوشحالی، تو کبھی تنگی کا سامنا ہوتا ہے تنگی میں ایسے دن بھی آجاتے ہیں کہ جو بعض اوقات انسان کو قرض لینے پر مجبور کر دیتے ہیں، اور ایسے وقت میں بندہ مومن دل سے چاہتا ہے کہ وقت پر قرض ادا کرے، مگر مسائل آڑے آ جاتے ہیں جس سبب آدمی چاہتے ہوئے بھی قرض وقت پر ادا نہیں کر پاتا تو ایسے انسان کے ساتھ نرمی، تحمل اور مہلت دینا نہ صرف اخلاقی رفعت و بلندی کی علامت ہے بلکہ ہماری پیاری شریعت کی واضح تعلیم بھی ہے ۔

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنز العرفان :اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (البقرۃ،280)

رحمتِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دیتا ہے یا قرض معاف کر دیتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اپنے سائے میں جگہ دے گا ۔ "

حضور ﷺ کی ایسی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ ہم دوسروں کی مشکل و پریشانی کو اپنا دکھ و درد سمجھ کر آسانی پیدا کریں، تاکہ ہمارا معاشرہ ہمدردی، خیر خواہی اور انسانیت کا عملا نمونہ بن جائے ۔ اللہ رب العزت نے قرآن مجید فرقان حمید میں اور حضور جان عالم ﷺ نے اپنے اقوال و افعال و کردار و معاملات سے بھی ایسے مقروض کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کی ترغیب دی چنانچہ اسی ضمن میں چند احادیث کریمہ ملاحظہ ہوں :

(1) حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳))

(2)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)

(3)حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )

(4)حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، ۹ / ۹۸، الحدیث: ۲۳۴۱۳، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۳، الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰))

اللہ رب العزت کی پاک و بلند بارگاہ میں دعا ہے ہمیں شریعت کے احکامات و تعلیمات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔

قرض سے نجات کی جو دعا حضور ﷺ سے منقول ہے ۔ جس کی آپ ﷺ نے تعلیم فرمائی

دعا:اللّٰهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَترجمہ:اے اللہ! مجھے اپنے حلال سے اتنا کفایت فرما دے کہ میں حرام سے بچ جاؤں، اور اپنے فضل سے اتنا غنی کر دے کہ میں تیرے سوا کسی کا محتاج نہ رہوں ۔ (جامع الترمذی، حدیث: 3563)

ایک اور دعا جو قرض سے نجات کے لیے رسول ﷺ نے سکھائی:اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ

ترجمہ:اے اللہ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں غم و فکر سے، کمزوری و سستی سے، بزدلی و بخل سے، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے ظلم و جبر سے ۔ (صحیح بخاری، حدیث: 2893)


اسلام ایسا دین ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں انصاف، رحم دلی اور تعاون کی تعلیم دیتا ہے ۔  انسانی تعلقات میں انسان کو سب سے زیادہ آزمائش مالی معاملات میں پیش آتی ہے بعض اوقات انسان ان آزمائشوں کے حل کے لیے قرض لے لیتا ہے مگر بعد میں اسے قرض واپس کرنے میں دشواری ہوتی ہے ایسے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مقروض کے ساتھ نرمی، رحم دلی اور رعایت کرنے کی بہت تاکید فرمائی ہے ۔ قرآن و حدیث میں اس بارے میں کئی روشن تعلیمات ملتی ہیں ۔ ذیل میں اسی سے متعلق ایک آیت مبارکہ اور 4 احادیث ملاحظہ کیجئے:

قرض کو صدقہ کرنے کی فضیلت: وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنز العرفان : اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (پارہ نمبر 3 سورۃ البقرہ، 280)

مقروض کو مہلت دینے کی فضیلت:حضور علیہ السلام نے فرمایا:" مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِراً أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ الله يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّه "ترجمہ: جس نے تنگدست کو مہلت دی یا اس سے قرض معاف کر دیا تو اللہ تعالی اسے قیامت کے دن اپنے سائے میں جگہ دے گا ۔ (صحیح مسلم، باب حدیث جابر الطویل وقصۃ ابی الیسر، کتاب الزھد والرقائق، حدیث 3006، صفحہ 950 )

مقروض کو معاف کرنے کی فضیلت:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا" ایک شخص لوگوں سے لین دین کرتا تھا اس نے اپنے لوگوں سے کہا کہ جب تمہارے پاس کوئی تنگدست آئے تو تم اس سے تجاوز کرو(یعنی اسے معاف کر دو) شاید اللہ عزوجل ہمیں معاف کر دے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا " فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ "کہ جب وہ اللہ سے ملا تو اللہ عزوجل نے اس سے تجاوز

کیا( یعنی اسے معاف کر دیا) ۔ (صحیح البخاری، باب من أنظر معسرا، کتاب البیوع،رقم 2078،صفحہ 500 )

تنگ دست پر آسانی کی فضیلت:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا " مَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ "ترجمہ: جو شخص کسی تنگدست پر آسانی کرے تو اللہ دنیا اور آخرت میں اس پر آسانی کرے گا ۔ (سنن ابن ماجہ،باب انظار المعسر،جلد 4، رقم 2417،صفحہ 74،)

معاملات میں نرمی کرنا: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :" رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَى "ترجمہ: اللہ اس شخص پر رحم کرے جو بیچتے وقت اور خریدتے وقت اور وصولی کے وقت نرمی کرتا ہے ۔ (صحیح البخاری،باب السھولۃ والسماحۃ فی الشراء والبیع الخ،کتاب البیوع،حدیث 2076،صفحہ 500 )

حضور علیہ والسلام کی ان احادیث سے واضح ہو گیا کہ تنگدست پر آسانی کرنے اور اسے مہلت دینے کی کتنی بڑی فضیلت ہے تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اس سنت پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں ۔ آمین بجاہ النبی الامین الکریم وصلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم ۔ 


انسان کو اپنی زندگی کی بہت ساری ضروریات پوری کرنے میں دوسروں کی حاجت ہوتی ہے ضروریات پوری کرنے میں ایک بہت بڑا کردار مال کا ہے بندے کو کبھی بھی پیسوں کی شدید حاجت پڑ جاتی ہے اسلام نے اس آسانی  کے لیے نہ صرف قرض کی اجازت دی بلکہ دینے کے عظیم فضائل بیان فرمائے اور نرمی کے ساتھ لینے کے طریقوں کی طرف بھی رہنمائی فرمائی ۔ آئیے نبی کریمﷺ کی احادیث کریمہ کی روشنی میں اس حوالے سے اسلام کی تعلیمات کو ملاحظہ کرتے ہیں:

حضرت کعب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے زمانہ نبوی ﷺ میں مسجد میں ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا تقاضا کیا تو آواز کچھ اونچی ہو گئی حضور اکرم ﷺ سن کر حجرے شریف سے باہر تشریف لائے ابن کعب کو پکارا "یا کعب" عرض کی "لبیک یا رسول اللہ" آپ نے اپنے ہاتھ شریف سے اشارہ کیا کہ آدھا قرض معاف کر دو حضرت کعب نے عرض کی یا رسول اللہ! قد فعلتُ(میں نے ابھی کردیا) پھر ابن حدرد رضی اللہ عنہ کو فرمایا "اٹھو اب ادا کردو" ۔ (صحیح بخاری حدیث :2710)

سبحان اللہ صحابہ کرام کا اپنے آقا کے فرمان پر عمل کرنے کا جذبہ مرحبا! اور رسول اللہ علیہ السلام کا اپنے غلاموں پر شفقت کہ جو مکمل ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتے تھے ان کے لیے سفارش فرما دی اور حقدار کو بھی فورا اس کا حق دلوا دیااس کے ساتھ ساتھ حضور ﷺ نے مقروض پر نرمی کرنےاور مہلت دینے کے کئی فضائل بھی بیان فرمائے ۔

آپ نے ارشاد فرمایا کہ ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اس نے اپنے نوکر سے کہہ رکھا تھا کہ جب تو کسی تنگدست کے پاس تقاضے کو جائے تو اسے معاف کر دے ہو سکتا ہے اللہ ہمیں معاف کردے فرمایا کہ وہ اللہ سے ملا تو اللہ تعالی نے اس سے درگزر فرمایا ۔ ( صحیح بخاری حدیث 3480)

اس سے معلوم ہو مقروض پر مہربانی کرنا اپنی بخشش کا ذریعہ ہے ۔

آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے تنگدست کو مہلت دی یا اس کے قرض میں کمی کی اللہ عزوجل قیامت کے دن اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ( ترمذی باب ما جاء فی انظار معسر حدیث1310)

البتہ یہ یاد رہے کہ حضور ﷺ نے باوجود استطاعت ادائیگی میں تاخیر کرنے والے کے لیے وعیدات بھی ارشاد فرمائی ہیں ۔ ان تمام سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اسلام انسان کے ساتھ کیسی حسن اخلاق اور ہمدردی کی تعلیمات دیتا ہے ۔ اس میں ان لوگوں کو جواب بھی ہے جو لوگ مذہب اور انسانیت کو جدا جدا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ یہ دین اسلام رسول کریم ﷺ ہی تو لائے ہیں جس میں نرمی،انصاف اور دوسروں کے حقوق کی پاسداری کرنے کی تعلیمات ہیں ۔ ہمیں بھی چاہیے کہ قرضدار پر تقاضےمیں نرمی کریں اور جتنا ممکن ہو اتنا معاف کرنے کی صورت اختیار کریں ۔ اللہ عزوجل عمل کی توفیق عطا فرمائے۔


پیارے پیارے اسلامی بھائیو! مَقْرُوض سے ہمیشہ نرمی اور حُسْنِ سُلوک سے پیش آناچاہئے ۔ ضَرورت مندوں کو قَرْض دینا اور قَرْض کی بہترین ادائیگی کرنا، احادیث میں جہاں اس کی ترغیب ہے وہیں تنگدَسْت مقروض سے شفقت و مہربانی اور نرمی  سے پیش آنا بھی نبوی تعلیمات کا روشن باب ہے ۔ قرض دینے کا بنیادی مقصد (Basic Purpose) یہ ہوتا ہے کہ ضَرورت مند کی مَعاشی اور گھریلو پریشانیاں خَتْم ہوجائیں،اس سوچ کےتحت اچّھی اچّھی نیتوں کے ساتھ دیا جانے والاقرض ثواب کا ذریعہ بھی بنے گا ۔ مقروض پر نرمی کے طریقے نہایت آسان اور نَرْم شرائط رکھی جائیں ۔ ایسی کڑی شرائط رکھ دینا کہ مقروض پِس کے رہ جائے باہَمی اُلْفت کو ختم کرنے کا سبب بن سکتا ہے ۔ قرض وُصُول کرتے ہوئے رَویہّ میں نَرْمی بہت ضَروری ہے، ادائیگی میں تاخیر پر خوامخواہ شور مچانا، باتیں سنانا مسئلہ کو حل کرنے کی بجائے مزید اُلجھا دےگا ۔ اگر قُدْرت ہو تو مکمل یا کچھ مُعاف کر دیجئے ۔ افسوس! آج کل ہمارے یہاں مقروض سے نرمی کا تصور ختم ہوتا جارہا ہے حالانکہ اس کے بہت فضائل ہیں ۔

کثیر اَحادیث میں غریب مقروض کو مہلت دینے،نرمی کرنے یا قرض معاف کردینے کی تعلیم دی گئی ہے ۔

احادیث میں اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ اس کے 4 فضائل درجِ ذیل ہیں :

(1)حضرت ابوہریرہ رضى الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِراً أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ الله يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّه یعنی جو شخص کسی تنگ دست (قرض دار) کو مہلت دے یا اس کا کچھ قرض معاف کر دے، تو اللہ اسے قیامت کے دن آپنے عرش کے سایہ کے نیچے جگہ دے گا جس دن اس کے سایہ کے علاوہ کوئی اور سایہ نہ ہوگا ۔

(جامع ترمذی/کتاب: خرید وفروخت کا بیان/باب: تنگ دست کے لئے قرض کی ادائیگی میں مہلت اور اس سے نرمی کرنا/حدیث نمبر:1354/صفحہ:150/جلد: 3)

(2)حضرت حذیفہ رضى الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تَلَقَّتِ الْمَلَائِكَةُ رُوحَ رَجُلٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَقَالُوا: أَعَمِلْتَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا؟ قَالَ: لَا، قَالُوا: تَذَكَّرْ، قَالَ: كُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ فَآمُرُ فِتْيَانِي أَنْ يُنْظِرُوا الْمُعْسِرَ، وَيَتَجَوَّزُوا عَنِ الْمُوسِرِ، قَالَ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: تَجَوَّزُوا عَنْهُ یعنی تم میں سے پہلے لوگوں کی کسی روح کو فرشتے ملے اور اس سے کہنے لگے: کیا تو نے کوئی نیک عمل کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں ۔ انھوں نے کہا: تو یاد کر ۔ اس نے کہا: میں لوگوں کو قرض دیتا تھا ۔ میں آپنے غلام کو حکم دیتا تھا کہ تنگ دست کو مہلت دینا اور معاف کردینا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے فرمایا: تم اس سے درگزر کرو ۔

(سنن کبریٰ للبیہقی/کتاب: خرید و فروخت کے مسائل و احکام/باب: تنگ دست کو ڈھیل اور معاف کردینے کا بیان/حدیث نمبر: 10975/صفحہ: 583/جلد:5)

(3) حضرت ابوقتادہ رضى الله عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ، أَوْ يَضَعْ عَنْهُ یعنی جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اللہ اسے روزِ قیامت کی تکلیفوں سے نجات دے دے تو وہ تنگدست کو مہلت دے یا اسے (قرض) معاف کر دے ۔ ‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح/کتاب: خرید و فروخت کا بیان/باب: افلاس اور مہلت دینے کا بیان/حدیث نمبر: 2902/صفحہ: 877/جلد: 2)

(4)حضرت ابوہریرہ رضى الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: َانَ الرَّجُلُ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ: إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا، قَالَ: فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ یعنی ایک آدمی لوگوں کو قرض دیتا تھا اور اپنے ملازم سے کہتا کہ جب تو کسی تنگ دست کے پاس جائے تو اس سے درگزر کرنا شاید اللہ ہم سے درگزر کرے وہ اللہ سے ملا بعد از وفات تو اللہ نے اس سے درگزر فرمایا اور بخش دیا ۔ (صحیح مسلم/کتاب: بیع کا بیان/باب: تنگ دست کو مہلت دینے اور امیروغریب سے قرض کی وصولی میں درگزر کرنے کی فضلیت کے بیان میں/حدیث نمبر: 3998/صفحہ: 33/جلد:5 )

افسوس! ہمارے ہاں ایک تعداد سُودی قرضے دینے پر تو آمادہ نظر آتی ہے مگر بغیر نفع کےقرضِ حَسَنہ دیتے ہوئے ان کی جان جاتی ہے حالانکہ سُودی لین دین دنیا و آخرت کی تباہی کا سبب ہے ۔ بعض لوگ مقروض کی بے بسی کا فائدہ اس طرح سے اٹھاتے ہیں ۔ کہ مقروض کے پورے کنبے کو اپنا غلام تصور کیا جاتا ہے ۔ انہیں بلیک میل کرنا، ڈرانا دھمکانا عام ہے ۔ بعض لوگ مقروض کی عزّتِ نفس کو مَجْروح (Hurt) کرتے نظر آتے ہیں،اس طرح کہ ادائیگی میں تاخیر ہونے پر مقروض کی بے عزّتی کرنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتے ۔ مکان یا دکان کاکرایہ مانگتے ہوئے جان بوجھ کر شور مچاکر پڑوسیوں کو جمع کرتے ہیں اور پھر سب کے سامنے مقروض کی عزت کی دھجّیاں بَکھیرتے اور اِیذائےمسلم جیسے کبیرہ گناہ میں مُلَوَّث نظر آتے ہیں ۔ ایسوں کو بھی مقروض سے نرمی اور آسانی کا مُظاہرہ کرنا چاہئے ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ کریم ان احادیث کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ ۔ 


اسلام ایک ایسا پیارا اور محبت پھیلانے والا دین ہے جس میں ایک دوسرے کے ساتھ نرمی والا برتاؤ کرنے کی تربیت کی جاتی ہے اور اس انداز کو پھیلانے والے کے لیے آخری نبی محمّد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے بےشمار فضائل بیان فرمائے ہیں بالخصوص مقروض پر نرمی کرنے کے حوالے سے کئی احادیث وارد ہیں جن میں سے چند احادیث مبارکہ کو ہم بیان کرتے ہیں:

(1)تنگدست مقروض کو معاف کرنے والے کی بخشش : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ: إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا، قَالَ: فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ ۔

ترجمہ :روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک شخص لوگو ں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوکر کو اسے اس نے کہہ رکھا تھا کہ جب تو کسی تنگ دست کے پاس تقاضا کو جائے توا سے معاف کردے ہوسکتا ہے کہ اللہ ہم کو معافی دے دے فرمایا کہ وہ اللہ سے ملا تو رب نے اس سے در گزر فرمائی ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، حدیث نمبر:2901)

(2)مقروض پر نرمی کرنے والے کو بشارت: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةٍ أَصْوَاتُهُمَا، وَإِذَا أَحَدُهُمَا يَسْتَوْضِعُ الآخَرَ، وَيَسْتَرْفِقُهُ فِي شَيْءٍ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لاَ أَفْعَلُ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيْنَ المُتَأَلِّي عَلَى اللَّهِ، لاَ يَفْعَلُ المَعْرُوفَ، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَهُ أَيُّ ذَلِكَ أَحَبَّ ،

اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ ‘‘ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟‘‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !وہ میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین، جلد:3،لوگوں کے درمیان صلح کا بیان،حدیث نمبر:250)

(3)مقروض پر نرمی کرنے والے کے لیے آخرت میں آسانی:حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم جو کسی تنگدست (مقروض) پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخِرت میں اس پر آسانی فرمائے گا ۔ (ابن ماجہ،ج 3،ص147، حديث: 2417)

(4)مقروض پر نرمی کرنے والا عرش کے سائے میں: جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کاقرض مُعاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن عَرْش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا کہ جس دن عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ (ترمذی،ج3،ص 52، حديث:1310)

ان تمام احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ جو شخص مقروض پر نرمی و آسانی کرتا ہے اللہ پاک اس کی مغفرت فرماتا ہے، اور جس دن سوائے عرش کے سائے کے کوئی سایہ نہ ہوگا اسے اپنا سایہ عطا فرمائے گا اور قیامت کے دن اس کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے گا ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے مقروضوں پر نرمی کرکے احادیث میں وارد فضائل کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم


الله تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنزِالعرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (البقرۃ،280)

(1) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ: إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا، قَالَ: فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ ،(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

ترجمہ :روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوکر کو اسے اس نے کہہ رکھا تھا کہ جب تو کسی تنگ دست کے پاس تقاضا کو جائے توا سے معاف کردے ہوسکتا ہے کہ الله ہم کو معافی دے دے فرمایا کہ وہ الله سے ملا تو رب نے اس سے در گزر فرمائی ،(مسلم،بخاری)

شرح:نوکر سے وہ نوکر مراد ہے جو مقروضوں سے تقاضا کرنے کو مقرر تھا جیسا کہ عام تجار ساہوکار ایسے لوگ رکھتے ہیں ۔ فتی ساتھی کو بھی کہتے ہیں نوکرو غلام کو بھی،اس کے لغوی معنی ہیں جوان ۔ یا سارا قرض معاف کردے یا کچھ قرض یا مہلت دے دے کہ جلدی تقاضا نہ کرے،معافی میں یہ سب کچھ داخل ہے ۔

کہ اس کے سارے گناہ بخش دے ۔ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ غلام یا نوکر کو قرض وصول کرنے کا وکیل کرسکتے ہیں ۔ دوسرے یہ کہ وکیل کو معافی یا نرمی کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں ۔ تیسرے یہ کہ دعا میں جمع کے صیغے استعمال کرنا بہتر ہے کہ اس نے کہا تھاعنَّا کہ اگر ایک کے حق میں دعا قبول ہوگئی توان شاء اللہ سب کے حق میں قبول ہوجائے گی،چوتھے یہ کہ گزشتہ دین کے احکام ہمارے لیے بھی قابل عمل ہیں جب کہ قرآن یا حدیث میں نقل ہوں ۔ (نووی،مرقات)پانچویں یہ کہ اپنے مقروض پر مہربانی کرنا اپنی بخشش کا ذریعہ ہے،   (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح  جلد:4 ، حدیث نمبر:2901)

(2) مروی ہے کہ حضرت معاذ مقروض ہو جاتے تھےان کے قرض خواہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے ان کے قرض میں ان کا سارا مال بیچ دیا حتی کہ حضرت معاذ خالی ہاتھ اٹھ گئے یہ مصابیح کے لفظ ہیں اسے میں نے منتقیٰ کے سوا کسی اصول کی کتاب میں نہ پایا ۔

شرح: حضرت معاذ ابن جبل رضی اللہ عنہ کے مقروض ہوتے رہنے کی وجہ آگے آرہی ہے کہ آپ سخی بہت تھے قرض لے کر بھی خیرات و صدقات دیتے رہتے تھے ۔ کہ ہمار ا قرض ادا کرایا جائے ۔ معلوم ہوا کہ قرض خواہوں کا کچہری میں مقروض پر دعویٰ کرنا حاکم سے فریاد کرنا درست ہے،اس کی اصل یہ ہی حدیث ہے ۔ یہ حدیث مختصر ہے،اولًا حضور انور ﷺ نے حضرت معاذ کو قرض ادا کرنے کا حکم دیا،انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس روپیہ بالکل نہیں،پھر انکی رضا سے حضور ﷺ نے ان کا مال نیلام فرمادیا یا فروخت کردیا، اب بھی اس پر ہی عمل ہے،ہاں اگر مقروض نہ تو ادائے قرض کرے،نہ اپنا مال فروخت کرے تب حاکم اسے قید کر دے تاکہ وہ اپنا مال خود فروخت کرے قرض ادا کرے یا حاکم کو فروخت کی اجازت دے،جبرًا حاکم اس کا مال فروخت نہیں کرے گا ۔ (مرقات)بعض صورتوں میں قرض خواہوں کے مطالبہ پر حاکم خود بھی فروخت کرسکتا ہے اور دیوالیہ و محجور بھی کرسکتا ہے کہ اعلان کردے کوئی اس سے لین دین نہ کرے یہ دیوالیہ ہے ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح  جلد:4 ، حدیث نمبر:2917 )