انسان کو اپنی زندگی کی بہت ساری ضروریات پوری کرنے میں دوسروں کی حاجت ہوتی ہے ضروریات پوری کرنے میں ایک بہت بڑا کردار مال کا ہے بندے کو کبھی بھی پیسوں کی شدید حاجت پڑ جاتی ہے اسلام نے اس آسانی  کے لیے نہ صرف قرض کی اجازت دی بلکہ دینے کے عظیم فضائل بیان فرمائے اور نرمی کے ساتھ لینے کے طریقوں کی طرف بھی رہنمائی فرمائی ۔ آئیے نبی کریمﷺ کی احادیث کریمہ کی روشنی میں اس حوالے سے اسلام کی تعلیمات کو ملاحظہ کرتے ہیں:

حضرت کعب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے زمانہ نبوی ﷺ میں مسجد میں ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا تقاضا کیا تو آواز کچھ اونچی ہو گئی حضور اکرم ﷺ سن کر حجرے شریف سے باہر تشریف لائے ابن کعب کو پکارا "یا کعب" عرض کی "لبیک یا رسول اللہ" آپ نے اپنے ہاتھ شریف سے اشارہ کیا کہ آدھا قرض معاف کر دو حضرت کعب نے عرض کی یا رسول اللہ! قد فعلتُ(میں نے ابھی کردیا) پھر ابن حدرد رضی اللہ عنہ کو فرمایا "اٹھو اب ادا کردو" ۔ (صحیح بخاری حدیث :2710)

سبحان اللہ صحابہ کرام کا اپنے آقا کے فرمان پر عمل کرنے کا جذبہ مرحبا! اور رسول اللہ علیہ السلام کا اپنے غلاموں پر شفقت کہ جو مکمل ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتے تھے ان کے لیے سفارش فرما دی اور حقدار کو بھی فورا اس کا حق دلوا دیااس کے ساتھ ساتھ حضور ﷺ نے مقروض پر نرمی کرنےاور مہلت دینے کے کئی فضائل بھی بیان فرمائے ۔

آپ نے ارشاد فرمایا کہ ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اس نے اپنے نوکر سے کہہ رکھا تھا کہ جب تو کسی تنگدست کے پاس تقاضے کو جائے تو اسے معاف کر دے ہو سکتا ہے اللہ ہمیں معاف کردے فرمایا کہ وہ اللہ سے ملا تو اللہ تعالی نے اس سے درگزر فرمایا ۔ ( صحیح بخاری حدیث 3480)

اس سے معلوم ہو مقروض پر مہربانی کرنا اپنی بخشش کا ذریعہ ہے ۔

آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے تنگدست کو مہلت دی یا اس کے قرض میں کمی کی اللہ عزوجل قیامت کے دن اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ( ترمذی باب ما جاء فی انظار معسر حدیث1310)

البتہ یہ یاد رہے کہ حضور ﷺ نے باوجود استطاعت ادائیگی میں تاخیر کرنے والے کے لیے وعیدات بھی ارشاد فرمائی ہیں ۔ ان تمام سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اسلام انسان کے ساتھ کیسی حسن اخلاق اور ہمدردی کی تعلیمات دیتا ہے ۔ اس میں ان لوگوں کو جواب بھی ہے جو لوگ مذہب اور انسانیت کو جدا جدا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ یہ دین اسلام رسول کریم ﷺ ہی تو لائے ہیں جس میں نرمی،انصاف اور دوسروں کے حقوق کی پاسداری کرنے کی تعلیمات ہیں ۔ ہمیں بھی چاہیے کہ قرضدار پر تقاضےمیں نرمی کریں اور جتنا ممکن ہو اتنا معاف کرنے کی صورت اختیار کریں ۔ اللہ عزوجل عمل کی توفیق عطا فرمائے۔