اسلام ایک مکمل اور کامل دین ہے اور اس دین میں ہر شخص کا لحاظ رکھا گیا ہے مومن ہو یا غیر مسلم باپ ہو یا بیٹا شوہر ہو یا بیوی الغرض ہر آدمی کے لیے کچھ حقوق ہیں اور ان حقوق کو نبھانے اور ان کے مطابق زندگی گزارنے کی تعلیم دی گئی ہے اور ان چیزوں کو سمجھنے کے لیے ہمارے سامنے رسول اللہ  ﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے انسان کی کچھ ضروریات ہیں اور ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وہ محنت کرتا ہے اور محنت کے دوران اسے مشکلات پیش آتی ہیں اور ان مشکلات میں سے ایک مشکل قرض بھی ہے مقروض شخص ہمیشہ پریشان رہتا ہے دین اسلام نے ہمیں اس کے بارے میں بتایا کہ مقروض سے نرمی سے پیش آنا چاہیے اور ہو سکے تو قرض کی مدت میں زیادتی کر کے اس کی مدد کرنی چاہیے اور اس کے لیے ہمیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے کئی اقوال و واقعات نظر آتے ہیں کہ آپ ﷺ نے مقروض پر نرمی کی اور بعض اوقات فرض معاف بھی کر دیا ۔

(1) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ تَاجِرٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا رَأَى مُعْسِرًا قَالَ لِفِتْيَانِهِ: تَجَاوَزُوا عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا، فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْه

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک مرد لوگوں کو قرض دیتا تھا جب وہ اپنے غلام کو کسی مقروض سے قرض لینے کے لیے بھیجتا تو اسے کہتا کہ جب تو معسر کے پاس جائے تو تو اس سے نرمی کر شاید اللہ ہمارے ساتھ نرمی فرمائے آپ علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جب اس نے اللہ سے ملاقات کی تو اللہ پاک نے اس شخص کے ساتھ نرمی فرمائی ۔ (البخاری 3480)

(2) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَى ترجمہ: اللہ اس آدمی پر رحم کرے جو بیچتے وقت، خریدتے وقت اور ادائیگی کا مطالبہ کرتے وقت نرمی کرتا ہے ۔ (البخاری 2076)

(3) مَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ترجمہ: جو معسر پر آسانی کرے اللہ تعالی اس سے دنیا اور اخرت میں آسانی کرے گا ۔ ( ابنِ ماجہ 2417)

(4) مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ، أَوْ يَضَعْ عَنْهُ ترجمہ: جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن کی مصیبتوں سے بچا لے تو اسے چاہیے کہ کسی مشکل میں پڑنے والے کی تنگی کو دور کر دے یا اس کا قرض اتار دے ۔ ( مسلم، 1563)

ان اقوال کے علاوہ کئی ایسے واقعات بھی ہیں جن میں حضور ﷺ نے مقروض کا قرض معاف کر دیا یا اس کے قرض میں نرمی کر دی ہمیں بھی چاہیے کہ ہم مقروض کے ساتھ نرمی کریں اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیمات پر عمل کریں اللہ پاک ہمیں مقروض پر نرمی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم