عبدالاحد
عطّاری (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کراچی، پاکستان)
اپنے
مسلمان مقروض بھائی کو مفلسی کی صورت میں مہلت دے یا معاف کر دے ۔
مفتی احمد یار
خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:کبھی اس قرض کو حسنہ کہ دیتے ہیں جس کو معاف کر
دیا جائے ۔ (تفسیرنورالعرفان ،ص،890، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ گجرات )
چنانچہ جب
کسی پر قرض ہو تو مسلمان کو چاہیے کہ اگر وہ شخص مفلوس ہے تو اسے کچھ مہلت دے اور
عمدہ برکت سے نفع اٹھائے ۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان خوشبودار ہے :
(1)جب کسی
دوسرے پر دین ہو اور اس کی میعاد گزر جائے تو(مہلت دینے پر ) جتنا دین ہو ہر روز اس قدر روپیہ کی خیرات کا ثواب ملتا ہے ۔ (شعب الایمان ،الحدیث ،11261،ج 7،ص538،دار
الکتب العلمیہ)
اعلی حضرت
امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:اس ثواب عظیم کے لیے میں نے قرض دئیے
ہبہ نہ کئے کہ 1500 روپےروز میں کہاں سے خیرات کرتا ۔ (ملفوظات اعلی حضرت ،ص 92 ،مکتبۃ المدینہ)
(2)حکم بن عمیر
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:کہ اللہ پاک کے نزدیک محبوب اعمال یہ ہیں جس نے بھوک میں
مسکین کو کھانا کھلایا یا اس سے قرض کو دور کیا یا اس سے مشکل کو دور کیا ۔ (معجم
الکبیر ،حدیث ،3187،تحت حکم بن عمیر الثمالی ،جلد 3 ،ص218،مطبوعہ دار احیاء التراث
)
(3)نیز تنگ
دست پر آسانی کرنا دنیا و آخرت میں آسانی دلاتا ہے :چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ
تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :جس نے مسلمان سے دنیاوی تکالیف
میں سے کسی تکلیف کو دور کیا اللہ پاک قیامت
کے دن اس کے تکلیفوں میں سے تکلیف کو دور فرمائے گا اورجس نے "تنگدست"
پر آسانی کی اللہ پاک اس پر دنیا اور آخرت میں آسانی فرمائے گا جس نے مسلمان بھائی
کی پردہ پوشی کی اللہ پاک اس کی دنیا اور آخرت میں پردہ پوشی فرمائے گا اور اللہ
پاک بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے ۔ (جامع
ترمذی ،باب ما جاء فی سترة المسلم ، حدیث ،1930،ص 560،مطبوعہ دار الکتاب العربی
2005)
(4)حضرت
عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا :جو اپنے مسلمان بھائی کے لیے باعزت شخص تک کوئی بھلائی پہنچانے میں یا
تنگدست کی آسانی میں رہنما بنے اللہ پاک اسے قیامت کے دن پل صراط پر پاؤں
لڑکھڑانے کے وقت ثابت قدمی عطا فرمائے گا ۔ (الترغیب والترہیب ،باب الترغیب فی
قضاء الحوائج المسلمین ،ج3،ص ،348،مطبوعہ دار ابن کثیر 2014 )
(5)امام
طبرانی علیہ الرحمہ نے المعجم الکبیر میں حدیث پاک روایت فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا بے شک قیامت کے دن سب سے پہلے لوگوں میں عرش کا سایہ اس شخص کو نصیب
ہوگا جس نے کسی قرضدار کو مہلت دی یا اس پر قرض کو صدقہ کر دیا ۔ (المعجم الکبیر
،حدیث 377،ج19 ،ص،167مطبوعہ دار احیاء بیروت )
علامہ جلال
الدین سیوطی علیہ الرحمہ متوفی 911ھ اس کی شرح میں فرماتے ہیں: اس حدیث پاک سے
معلوم ہوا کہ سب سے پہلے اس شخص (جس نے قرض دار کو مہلت دی یا قرض کو معاف کر دیا)
کو عرش کا سایہ ملے گا ۔ (سایہ عرش کس کو
ملے گا ،ص 27 ،28،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
آپ علیہ
الرحمہ نے اس مذکورہ کتاب میں اس حدیث کے علاوہ دس احادیث قرض دار پر نرمی پر سایہ
عرش کی بشارت میں تحریر فرمائی جس سے مقروض پر نبوی تعلیمات اور انسانی حقوق کی
بہترین عکاسی ہوتی ہے ۔
اللہ پاک
ہمیں بھی اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ صلہ رحمی اور نرمی کی توفیق عطا فرمائے آمین
بجاہ النبی الامین ﷺ ۔
Dawateislami