محمد
حسان عطّاری ( درجہ خامسہ ماڈل جامعۃُ المدينہ نيوسول لائن فیصل آباد، پاکستان)
اسلام ایسا
دین ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں انصاف، رحم دلی اور تعاون کی تعلیم دیتا ہے ۔ انسانی تعلقات میں انسان کو سب سے زیادہ آزمائش
مالی معاملات میں پیش آتی ہے بعض اوقات انسان ان آزمائشوں کے حل کے لیے قرض لے لیتا
ہے مگر بعد میں اسے قرض واپس کرنے میں دشواری ہوتی ہے ایسے موقع پر نبی کریم صلی
اللہ علیہ والہ وسلم نے مقروض کے ساتھ نرمی، رحم دلی اور رعایت کرنے کی بہت تاکید
فرمائی ہے ۔ قرآن و حدیث میں اس بارے میں
کئی روشن تعلیمات ملتی ہیں ۔ ذیل میں اسی سے متعلق ایک آیت مبارکہ اور 4 احادیث
ملاحظہ کیجئے:
قرض کو
صدقہ کرنے کی فضیلت: وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ
تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنز العرفان : اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور
تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (پارہ نمبر 3
سورۃ البقرہ، 280)
مقروض کو
مہلت دینے کی فضیلت:حضور علیہ السلام نے فرمایا:" مَنْ
أَنْظَرَ مُعْسِراً أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ الله يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْتَ
ظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّه "ترجمہ: جس نے
تنگدست کو مہلت دی یا اس سے قرض معاف کر دیا تو اللہ تعالی اسے قیامت کے دن اپنے
سائے میں جگہ دے گا ۔ (صحیح مسلم، باب حدیث جابر الطویل وقصۃ ابی الیسر، کتاب
الزھد والرقائق، حدیث 3006، صفحہ 950 )
مقروض کو
معاف کرنے کی فضیلت:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا" ایک
شخص لوگوں سے لین دین کرتا تھا اس نے اپنے لوگوں سے کہا کہ جب تمہارے پاس کوئی
تنگدست آئے تو تم اس سے تجاوز کرو(یعنی اسے معاف کر دو) شاید اللہ عزوجل ہمیں معاف
کر دے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا " فَلَقِيَ
اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ "کہ جب وہ اللہ سے ملا تو اللہ عزوجل نے اس
سے تجاوز
کیا( یعنی
اسے معاف کر دیا) ۔ (صحیح البخاری، باب من أنظر معسرا، کتاب البیوع،رقم 2078،صفحہ
500 )
تنگ دست پر
آسانی کی فضیلت:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا " مَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا
وَالْآخِرَةِ "ترجمہ: جو شخص کسی تنگدست پر آسانی کرے تو اللہ دنیا اور آخرت میں اس
پر آسانی کرے گا ۔ (سنن ابن ماجہ،باب انظار المعسر،جلد 4، رقم 2417،صفحہ 74،)
معاملات میں
نرمی کرنا: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد
فرمایا :" رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا
سَمْحًا إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَى "ترجمہ:
اللہ اس شخص پر رحم کرے جو بیچتے وقت اور
خریدتے وقت اور وصولی کے وقت نرمی کرتا ہے ۔ (صحیح البخاری،باب السھولۃ والسماحۃ فی
الشراء والبیع الخ،کتاب البیوع،حدیث 2076،صفحہ 500 )
حضور علیہ
والسلام کی ان احادیث سے واضح ہو گیا کہ تنگدست پر آسانی کرنے اور اسے مہلت دینے کی
کتنی بڑی فضیلت ہے تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اس سنت پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کے ساتھ
نرمی سے پیش آئیں ۔ آمین بجاہ النبی الامین الکریم وصلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ
وسلم ۔
Dawateislami