انسانی زندگی نشیب و فراز کا مجموعہ ہے ۔  کبھی خوشحالی، تو کبھی تنگی کا سامنا ہوتا ہے تنگی میں ایسے دن بھی آجاتے ہیں کہ جو بعض اوقات انسان کو قرض لینے پر مجبور کر دیتے ہیں، اور ایسے وقت میں بندہ مومن دل سے چاہتا ہے کہ وقت پر قرض ادا کرے، مگر مسائل آڑے آ جاتے ہیں جس سبب آدمی چاہتے ہوئے بھی قرض وقت پر ادا نہیں کر پاتا تو ایسے انسان کے ساتھ نرمی، تحمل اور مہلت دینا نہ صرف اخلاقی رفعت و بلندی کی علامت ہے بلکہ ہماری پیاری شریعت کی واضح تعلیم بھی ہے ۔

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنز العرفان :اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (البقرۃ،280)

رحمتِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دیتا ہے یا قرض معاف کر دیتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اپنے سائے میں جگہ دے گا ۔ "

حضور ﷺ کی ایسی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ ہم دوسروں کی مشکل و پریشانی کو اپنا دکھ و درد سمجھ کر آسانی پیدا کریں، تاکہ ہمارا معاشرہ ہمدردی، خیر خواہی اور انسانیت کا عملا نمونہ بن جائے ۔ اللہ رب العزت نے قرآن مجید فرقان حمید میں اور حضور جان عالم ﷺ نے اپنے اقوال و افعال و کردار و معاملات سے بھی ایسے مقروض کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کی ترغیب دی چنانچہ اسی ضمن میں چند احادیث کریمہ ملاحظہ ہوں :

(1) حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳))

(2)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)

(3)حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )

(4)حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، ۹ / ۹۸، الحدیث: ۲۳۴۱۳، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۳، الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰))

اللہ رب العزت کی پاک و بلند بارگاہ میں دعا ہے ہمیں شریعت کے احکامات و تعلیمات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔

قرض سے نجات کی جو دعا حضور ﷺ سے منقول ہے ۔ جس کی آپ ﷺ نے تعلیم فرمائی

دعا:اللّٰهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَترجمہ:اے اللہ! مجھے اپنے حلال سے اتنا کفایت فرما دے کہ میں حرام سے بچ جاؤں، اور اپنے فضل سے اتنا غنی کر دے کہ میں تیرے سوا کسی کا محتاج نہ رہوں ۔ (جامع الترمذی، حدیث: 3563)

ایک اور دعا جو قرض سے نجات کے لیے رسول ﷺ نے سکھائی:اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ

ترجمہ:اے اللہ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں غم و فکر سے، کمزوری و سستی سے، بزدلی و بخل سے، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے ظلم و جبر سے ۔ (صحیح بخاری، حدیث: 2893)