وقاص (درجۂ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق
اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
آقا علیہ
الصلوۃ والسلام نے اپنی تعلیمات میں مقروض پر نرمی اور آسانی کرنے کی نصیحت فرمائی
آئیے ہم بھی اس کے متعلق چند احادیث پڑھنے کی سعادت کرتے ہیں ۔
(1) اُمّ
المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ
حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز
سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی
چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا
۔ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا
: ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا‘
تو اُن میں سے ایک نے عرض کی ’’یارسولَ اللہ ﷺ وہ میں ہوں ،اور اب اِس (مقروض)
کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘(فیضان
ریاض الصالحین جلد 3 صفحہ 366 حدیث نمبر 250)
(2)پریشانیوں
سے نجات:حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نور کے پیکر تمام
نبیوں کے سرور دو جہاں کے تاجور سلطان بحر و بر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے
ارشاد فرمایا جو اس بات کو پسند کرتا ہو کہ اس کی دعائیں قبول ہوں اور پریشانیاں
دور ہوں اسے چاہیے کہ تنگدست کو مہلت دیا کرے ۔ (مجمع الزوائد، کتاب البيوع،باب فی
من فرج عن معسر ،حدیث نمبر6664،جلد 4،صفحہ239)
(3) حضرتِ
سیدنا ابو ہر یر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ
لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''ایک شخص لوگوں
کو قرض دیا کرتاتھا اور اپنے غلام سے کہا کرتاتھا کہ ''جب تم کسی تنگدست کے پاس
جاؤ تو اس سے نرمی کیاکرو شاید اللہ عزوجل ہم پر نرمی فرمائے ۔ ''جب وہ(مرنے کے
بعد) اللہ عزوجل کی بارگاہ میں حاضر ہوا توا للہ عزوجل نے اسے بخش دیا ۔ ''(صحیح
مسلم ،کتاب المساقاۃ ،باب فضل انظار المعسر، رقم ۱۵۶۲، ص ۸۴۵)
(4) حضرت سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ
فرماتے ہیں کہ میں نے تاجدار رسالت شہنشاہ نبوت ﷺ کو فرماتے سنا کہ جس نے تنگدست
کو مہلت دی یا اپنا قرض اس پر صدقہ کر دیا اللہ عزوجل قیامت کے دن اسے اپنے عرش کے
سائے میں جگہ عطا فرمائے گا ۔ (مجمع
الزوائد کتاب البیوع باب فی من فرج عن معسر٫جلد 4 ٫صفحہ نمبر 241 ٫حدیث نمبر 6671)
(5) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگلی امتوں میں ایک گنہگار
شخص تھا جو لوگوں کے قرض معاف کر دیا کرتا تھا جب اس کا انتقال ہوا تو اللہ تعالی
نے اس کو بخش دیا اور پروردگار عالم نے فرمایا جب وہ معاف کر دیا کرتا تھا تو میں اس
سے زیادہ حقدار ہوں ۔ (جامع الحدیث جلد 3
صفحہ نمبر 334 حدیث نمبر 1714)
ہمارے
معاشرے میں مقروض افراد کے ساتھ بحث مباحثہ اور ظلم و ستم اور ان کی عزت کو اچھالا
جاتا ہے جو کہ بالکل درست نہیں اور نبی پاک ﷺ کی تربیت کے خلاف ہے ہمیں بھی اپنے
مسلمان بھائیوں نرمی کرنی چاہیے اور ہو
سکے تو معاف ہی کر دینے کی کوشش کرنی چاہیے اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں
مقروض پر نرمی کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ خاتم النبیین وصلی اللہ تعالی
علیہ والہ وسلم ۔
Dawateislami