الله تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰) ترجمہ کنزِالعرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو ۔ (البقرۃ،280)

(1) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ: إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا، قَالَ: فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ ،(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

ترجمہ :روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوکر کو اسے اس نے کہہ رکھا تھا کہ جب تو کسی تنگ دست کے پاس تقاضا کو جائے توا سے معاف کردے ہوسکتا ہے کہ الله ہم کو معافی دے دے فرمایا کہ وہ الله سے ملا تو رب نے اس سے در گزر فرمائی ،(مسلم،بخاری)

شرح:نوکر سے وہ نوکر مراد ہے جو مقروضوں سے تقاضا کرنے کو مقرر تھا جیسا کہ عام تجار ساہوکار ایسے لوگ رکھتے ہیں ۔ فتی ساتھی کو بھی کہتے ہیں نوکرو غلام کو بھی،اس کے لغوی معنی ہیں جوان ۔ یا سارا قرض معاف کردے یا کچھ قرض یا مہلت دے دے کہ جلدی تقاضا نہ کرے،معافی میں یہ سب کچھ داخل ہے ۔

کہ اس کے سارے گناہ بخش دے ۔ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ غلام یا نوکر کو قرض وصول کرنے کا وکیل کرسکتے ہیں ۔ دوسرے یہ کہ وکیل کو معافی یا نرمی کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں ۔ تیسرے یہ کہ دعا میں جمع کے صیغے استعمال کرنا بہتر ہے کہ اس نے کہا تھاعنَّا کہ اگر ایک کے حق میں دعا قبول ہوگئی توان شاء اللہ سب کے حق میں قبول ہوجائے گی،چوتھے یہ کہ گزشتہ دین کے احکام ہمارے لیے بھی قابل عمل ہیں جب کہ قرآن یا حدیث میں نقل ہوں ۔ (نووی،مرقات)پانچویں یہ کہ اپنے مقروض پر مہربانی کرنا اپنی بخشش کا ذریعہ ہے،   (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح  جلد:4 ، حدیث نمبر:2901)

(2) مروی ہے کہ حضرت معاذ مقروض ہو جاتے تھےان کے قرض خواہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے ان کے قرض میں ان کا سارا مال بیچ دیا حتی کہ حضرت معاذ خالی ہاتھ اٹھ گئے یہ مصابیح کے لفظ ہیں اسے میں نے منتقیٰ کے سوا کسی اصول کی کتاب میں نہ پایا ۔

شرح: حضرت معاذ ابن جبل رضی اللہ عنہ کے مقروض ہوتے رہنے کی وجہ آگے آرہی ہے کہ آپ سخی بہت تھے قرض لے کر بھی خیرات و صدقات دیتے رہتے تھے ۔ کہ ہمار ا قرض ادا کرایا جائے ۔ معلوم ہوا کہ قرض خواہوں کا کچہری میں مقروض پر دعویٰ کرنا حاکم سے فریاد کرنا درست ہے،اس کی اصل یہ ہی حدیث ہے ۔ یہ حدیث مختصر ہے،اولًا حضور انور ﷺ نے حضرت معاذ کو قرض ادا کرنے کا حکم دیا،انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس روپیہ بالکل نہیں،پھر انکی رضا سے حضور ﷺ نے ان کا مال نیلام فرمادیا یا فروخت کردیا، اب بھی اس پر ہی عمل ہے،ہاں اگر مقروض نہ تو ادائے قرض کرے،نہ اپنا مال فروخت کرے تب حاکم اسے قید کر دے تاکہ وہ اپنا مال خود فروخت کرے قرض ادا کرے یا حاکم کو فروخت کی اجازت دے،جبرًا حاکم اس کا مال فروخت نہیں کرے گا ۔ (مرقات)بعض صورتوں میں قرض خواہوں کے مطالبہ پر حاکم خود بھی فروخت کرسکتا ہے اور دیوالیہ و محجور بھی کرسکتا ہے کہ اعلان کردے کوئی اس سے لین دین نہ کرے یہ دیوالیہ ہے ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح  جلد:4 ، حدیث نمبر:2917 )