ارشاد باری تعالی ہے: وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ (پ15،بنی اسرائیل:26) ترجمۂ کنز الایمان: اور رشتہ داروں کو ان کا حق دے اورمسکین اور مسافر کو۔

اللہ پاک کے محبوب ﷺ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے استفسار فرمایا: کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کی: ہم میں مفلس (یعنی غریب مسکین) وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں اور نہ ہی کوئی مال، تو فرمایا: میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوۃ لے کر آئے گا لیکن اس نے فلاں کو گالی دی ہو گی، فلاں پر تہمت لگائی ہوگی، فلاں کا مال کھایا ہو گا، فلاں کا خون بہایا ہو گا اور فلاں کو مارا ہوگا، پس (ان سب گناہوں کے بدلے میں) اس کی نیکیوں میں سے ان سب کو ان کا حصہ دے دیا جائے گا، اگر اس کے ذمے آنے والے حقوق کے پورا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو لوگوں کے گناہ اس پر ڈال دیئے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم، ص 1069، حدیث: 6579)

فرمانِ مصطفی ﷺ: مسلمان کی سب چیزیں دوسرے مسلمان پر حرام ہیں اس کا مال،اس کی ابرو اور اس کا خون۔ (ابو داود، 4/354، حدیث:4882)

قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر حق تلفی کی مذمت بیان کی گئی ہے اور مسلمانوں کو حقوق کی ادائیگی پر تنبیہ فرمائی گئی ہے چونکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے یہ دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس نے نہ صرف حقوق العباد کی اہمیت پر زور دیا بلکہ ان کی ادائیگی نہ کرنے والے کو دنیاوی اور اخروی طور پر نقصان اور سزا کا مستحق بھی قرار دیا ہے لہذا ایک کامل مسلمان وہی ہے جو ہمیشہ دوسروں کے حقوق دبانیں یا انہیں تلف کرنے سے بچتا ہے ہمیں خود کو اس سے محفوظ رکھنے کے لیے سب سے پہلے حقوق کے معنی اور مفہوم کا سمجھنا ضروری ہے۔

حقوق کسے کہتے ہیں؟ حقوق جمع ہے حق کی، جس کا معنی ہے: فرد یا جماعت کا ضروری حصہ۔ جبکہ حقوق العباد کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ تمام کام جو بندوں کو ایک دوسرے کے لیے کرنے لازم و ضروری ہیں۔

ان حقوق کی ادائیگی بجا نہ لانا، حقوق کو نظر انداز کرنا،یا ان کی ادائیگی میں کسی قسم کی بھی کمی کوتاہی کرنا حق تلفی کہلاتا ہے۔

بندوں کے حقوق کی ادائیگی ہم پر کیوں لازم ہے اس کا جواب دیتے ہوئے حجۃ الاسلام حضرت امام محمدبن غزالی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: انسان یا تو اکیلا رہتا ہے یا کسی کے ساتھ اور چونکہ انسان کا اپنے ہم جنس لوگوں کو ساتھ میل جول رکھے بغیر زندگی گزارنا مشکل ہے، لہذا! اس پر مل جل کر رہنے کے آداب سیکھنا ضروری ہیں۔ چنانچہ ہر اختلاط (یعنی میل جول) رکھنے والے شخص کے لیے مل جول کر رہنے کے کچھ حقوق ہیں۔ (احیاء العلوم،2/699)

معلوم ہوا کہ بندوں کے حقوق کے لازم ہونے کا بنیادی سبب تمام انسانوں کی آپس میں وابستگی ہے۔ جس شخص سے جتنا قریبی رشتہ ہو اس کے حقوق کی ادائیگی بدرجہ اولی لازم اور حق تلفی سخت نقصان کا باعث ہوگی ان حقوق میں والدین، اولاد، اساتذہ کرام،شاگرد، زوجین، بہن بھائی، پڑوسی،مسافر، دوست احباب کے ساتھ ساتھ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حقوق حتی کہ ایک مسلمان پر ذمی کافر کے حقوق بھی شامل ہیں۔

حق تلفی کی مثالیں: کسی کا مال ناحق کھانا، جائیداد پر قبضہ کرنا، چوری کرنا،کسی کا دل دکھانا، والدین اور اساتذہ ہیں تو ان کی نافرمانی کرنا، کسی کا خون بہانا،ناحق مارنا پیٹنا،گالی دینا، ڈانٹ ڈپٹ کرنا،بےجا غصہ کرنا، کسی کی عزت نفس کو مجروح کرنا، کسی کو جسمانی طور پر نقصان پہنچانا،ذہنی اذیت دینا، کسی شخص کو اس کے مقام سے محروم رکھنا،اور اس کے ساتھ ساتھ کسی کی غیبت، چغلی کرنا،کسی سے حسد و بغض رکھنا، بہتان باندھنا،تہمت لگانا، دھوکہ دہی وغیرہ۔ تمام ہی حق تلفی کی صورتوں کو شامل ہے۔

معاشرے کا المیہ: افسوس! مشاہدہ ہے کہ حقوق کے لین دین کے معاملے میں ہمارے معاشرے کا رویہ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ لوگ دوسروں سے اپنے حقوق وصول کرنے میں انتہائی چستی اور تیزی دکھاتے ہیں لیکن جب دوسروں کے حقوق کو ادا کرنے کی نوبت آتی ہے تو اس میں کمی کوتاہی اور غفلت و سستی کے مرتکب ہوتے ہیں ہر شخص کو صرف اور صرف اپنے حقوق کی فکر ہوتی ہے دوسری جانب اپنے ذمے دوسروں کے حقوق سے غافل ہوتے ہیں۔

معاشرے پر حق تلفی کے اثرات: انسانی حقوق کی حق تلفی کرنا شرعی اور قانونی جرم ہونے کے ساتھ ہی معاشرے میں مضر اثرات کو پیدا کرنے کا سبب ہے جن میں سے چند اثرات درج ذیل ہیں:

حق تلفی معاشرے میں عدم تحفظ اور بے یقینی کی فضا پیدا کرتی ہے۔ معاشرے کے اخلاقی اقدار کو نقصان پہنچاتی ہے۔ باہمی لڑائی جھگڑوں اور اختلافات کا سبب ہوتی ہے۔ حق تلفی کا شکار شخص ذہنی دباؤ اضطراب اور مایوسی کا شکار ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات جسمانی بیماریوں کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

حق تلفی سے بچاؤ کے لیے: حقوق کی معرفت حاصل کیجیے۔ زبان کی حفاظت کیجئے، سوچ سمجھ کر الفاظ کا چناؤ کیجیے کہ الفاظ ہی وہ شے ہے جو ہمیں کسی کے دل میں اتار دیتے ہیں، یا پھر دل سے۔ اپنے آرام اور خوشیوں پر دوسروں کے آرام اور خوشی کو مقدم رکھیے۔ حق تلفی کی وعیدات کا مطالعہ بھی کیا جائے اور اس میں غور و فکر کرتے رہیے ان شاءاللہ کریم حق تلفی سے بچنے کا ذہن بنے گا۔ جو حقوق تلف ہو چکے ہیں ان کی توبہ استغفار کر کے صاحب حق سے معافی طلب کر لی جائے کہ دنیا میں حقوق کی معافی طلب کر لینے میں آخرت میں طلب کرنے کے مقابلے میں بدرجہ اولی آسانی ہے۔

ان حقوق کا تعلق چونکہ بندے سے ہے اسی لیے حق تلفی کی صورت میں اللہ نے یہی ضابطہ مقرر فرمایا ہے کہ جب تک وہ بندہ معاف نہ کرے معاف نہ ہوں گے۔ (فتاوی رضویہ، 24/459، 460 ملخصاً )

فرمانِ مصطفےٰ ﷺ ہے: جس کے ذِمّے اپنے بھائی کی عزّت یا کسی اور شے کے معاملے میں ظُلم ہو،اُ سے لازِم ہے کہ( قیامت کا دن آنے سے پہلے) یہیں دنیا میں اس سے معافی مانگ لے،کیونکہ وہاں (یعنی روزِ محشر اس کے پاس ) نہ دینار ہوں گے اور نہ دِرْہَم، اگر اس کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی، تو بقَدَر اُس کے حق کے،اِس سے لے کر اُسے دی جائیں گی، اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں تو اُس(مظلوم ) کے گناہ اِس (ظالم)پررکھے جائیں گے۔ (بخاری،2/128، حدیث:2449)

اللہ پاک سے دعا ہے ہمارے معاشرے سے حق تلفی کا خاتمہ فرمائے ہمیں حقوق کو صحیح معنوں میں پہچان کر کامل طور پر ان کی ادائیگی کرنے والا بنائے۔