ہمارا دین ایک بہت ہی پیارا دین ہے جو ہمیں وقتا فوقتاً دین کے احکام سے آگاہ فرماتاہے حقوق اللہ اللہ پاک اپنے کرم سے معاف فرما دے گا مگر حقوق العباد اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک بندہ معاف نہیں کرتا۔حق تلفی بھی ایک بہت سنگین امر ہے۔

کسی کے حق کو چھین لینا یا کمی کر دینا حق تلفی ہے۔ حق تلفی کرنے کے متعلق قرآن پاک میں مذمت بیان فرمائی گی ملاحظہ کیجیے:

کنزُالعرفان: اور تیرے رب کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ بستیوں کو پکڑتا ہے جبکہ وہ بستی والے ظالم ہوں بیشک اس کی پکڑ بڑی شدید دردناک ہے۔

حضرت مِسْعَر بن کِدام رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ایک روز ہم حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ کہیں جارہے تھے کہ بےخیالی میں آپ کا پاؤں ایک لڑکے کے پاؤں پر پڑگیا، لڑکے کی چیخ نکل گئی اور اُس کے مُنہ سے بے ساختہ (یہ جملہ) نکلا: جناب! کیا آپ قیامت کے روز لئے جانے والے انتقامِ خُداوندی سے نہیں ڈرتے؟ یہ سننا تھا کہ امام اعظم پر لرزہ طاری ہوگیا اور آپ غش کھا کر زمین پرتشریف لے آئے، کچھ دیر کے بعد جب ہوش آیا توحضرت مِسْعَر بن کِدام نے عرض کی: ایک لڑکے کی بات سے آپ اس قدر کیوں گھبرا گئے؟ ارشاد فرمایا: کیا معلوم کہ اُس کی آواز غیبی ہدایت ہو۔ (المناقب للموفق، 2/148)

حق تلفی کے متعلق فرامین مصطفیٰ:

بے شک اللہ پاک ظالم کو مہلت دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو اپنی پکڑ میں لیتا ہے تو پھر اس کو نہیں چھوڑتا۔ تم لوگ حُقُوق، حق والوں کے حوالے کردو گے حتّٰی کہ بے سینگ والی کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جائے گا۔ ( مسلم، ص 1394، حدیث: 2582)

حدیثِ مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ اگرتم نے دُنیا میں لوگوں کےحُقُوق اَدا نہ کئے تو ہر صورت میں قِیامت میں اَدا کرو گے، یہاں دنیا میں مال سے اور آخِرت میں اعمال سے، لہٰذا بہتری اسی میں ہے کہ دنیا ہی میں ادا کر دو ورنہ پچھتانا پڑے گا۔

حکیمُ الاُمّت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جانور اگرچِہ شرعی احکام کے مُکَلَّف نہیں ہیں مگر حُقُوقُ العِباد جانوروں کو بھی ادا کرنے ہوں گے۔ (مراۃ المناجیح، 6/ 674)

جس کے ذِمّے اپنے بھائی کا حق ہو، ا سے لازِم ہے کہ قیامت کا دن آنے سے پہلے دنیا میں اس سے مُعافی مانگ لے کیونکہ وہاں نہ دینار ہوں گے اور نہ دِرْہَم اگر اس کے پاس کچھ نیکیاں ہوں گی تو اُس کےحق کی مقدار کے برابر اِس سے لے کر اُسے دی جائیں گی ورنہ اُس (مظلوم ) کے گناہ اِس (ظالم )پررکھے جائیں گے۔ (بخاری، 2/128، حدیث: 2440)

رجسٹر تین ہیں: ایک دفترمیں اللہ پاک کچھ نہ بخشے گا، ایک دفتر کی اللہ پاک کوکچھ پروا نہیں اور ایک دفترمیں اللہ پاک کچھ نہ چھوڑے گا۔ وہ دفتر جس میں بالکل معافی کی جگہ نہیں وہ کفرہے کہ کسی طرح نہ بخشاجائے گا، وہ دفتر جس کی اللہ پاک کو کچھ پروانہیں وہ بندے کا گناہ ہےخالص اپنے اور اپنےربِّ کریم کے مُعاملہ میں کہ کسی دن کاروزہ چھوڑا یا کوئی نماز چھوڑدی اللہ پاک چاہےتو اسےمُعاف کردے اور درگزر فرمائے اور وہ دفتر جس میں سےاللہ پاک کچھ نہ چھوڑےگا وہ بندوں کاآپس میں ایک دوسرے پرظُلم ہے کہ اس میں ضرور بدلہ ہونا ہے۔ (مسند احمدبن حنبل، 7/342، حدیث: 25500)

آقا ﷺ کی عاجِزی: اللہ پاک کےآخری نبی ﷺ نے وفات ظاہِری کے وقت اجتماعِ عام میں اعلان فرمایا: اگر میرے ذمّے کسی کا قرض آتا ہو، اگر میں نے کسی کی جان ومال اور آبرو کو صدمہ پہنچایا ہو تو میری جان و مال اور آبرو حاضِر ہے، اِس دنیا میں بدلہ لے لے۔ تم میں سے کوئی یہ اندیشہ نہ کرے کہ اگر کسی نے مجھ سے بدلہ لیا تو میں ناراض ہوجاؤں گا، یہ میری شان نہیں! مجھے یہ معاملہ بَہُت پسند ہے کہ اگر کسی کا حق میرے ذِمّے ہے تو وہ مجھ سے وُصُول کر لے یا مجھے مُعاف کردے، پھر فرمایا: اے لوگو! جس شخص پر کوئی حق ہو اسے چاہئے کہ وہ ادا کرے اور یہ خیال نہ کرے کہ رسوائی ہوگی اس لیے کہ دنیا کی رُسوائی آخِرت کی رُسوائی سے بَہُت آسان ہے۔ (تاریخ ابنِ عساکِر،48/ 323 ملخصاً)

ہمیں اپنے ماتحت کی حق تلفی برے طریقے سے پیش آنے کی بجائے حسن اخلاق سے اور شفقت بھرے انداز سے پیش آئیں۔

خادموں سے شفقت: فرمانِ مُصطَفے ﷺ ہے: خادموں سےبرا سُلوک کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔ (مسند امام احمد، 1/ 20، حدیث: 13 ملخصاً)

شاگردوں سے شفقت: استاد کو چاہیے کہ اپنے شاگرد سے شفقت بھرا انداز اپنائے اسکےحقوق کو سر انجام دے شاگرد کی حق تلفی سے بچے۔دیگر طالبات کے سامنے ذلیل رسوا نہ کرے۔

کمزوروں اور غریبوں سے شفقت: امیر اور مضبوط لوگوں کو چاہیے کہ وہ غریب اور کمزوروں کی حمایت کریں۔انکے کے تمام حقوق کو سر انجام دیں۔

چھوٹے بہن بھائیوں سے شفقت: اسی طرح بڑے بہن بھائیوں کوچھوٹوں کے حُقُوق اَدا کرتے ہوئے ان پر شفقت کرنی چاہیے والِدَین کی وفات پر چھوٹے بہن بھائیوں کی پرورش کرنااوران کی اَچّھی تَربِیَت کرنا، ان کی ضروریاتِ زندگی کو پُوراکرنااور ہر مُشْکِل گھڑی میں ان کا ساتھ دینا اورجتنا ہوسکے ان کی حاجت رَوائی و دِلداری کرنا، والِدَین کی حیات میں بھی ان سے شَفْقت و مَحَبَّت سے پیش آنا، غیبت، چُغلی، بدگُمانی اورحسد عام مُسَلمان سے حرام ہے توان سے بدرجَہ اَولیٰ ناجائز ہے، بَتقاضائے بشریت ان سے سرزد ہونے والی خَطاؤں کو مُعاف کرنا اور ہمیشہ ان سے نرمی کا برتاؤ کرنا۔

احساسِ ذمہ داری پیدا کیجئے: حضرتِ عمر بن عبدُالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کی زوجہ کابیان ہے: جب حضرتِ عمر بن عبدُ العزیز کو مرتبہ خلافت پر فائز کیا گیا تو گھرآکر مصلے پر بیٹھ کر رونے لگے، یہاں تک کہ داڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی، میرے پوچھنےپراِرْشادفرمایا: میری گردن پر اُمتِ سرکار کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے، جب میں بُھوکےفقیروں، مریضوں، مُسافروں، بُوڑھوں، بچوں، اَلْغَرَض!تمام دُنیا کے مُصیبت زَدوں کی خبر گیری کے مُتَعَلِّق سوچتا ہوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں ان کے مُتَعَلِّق اللہ پاک باز پرس نہ فرمائے اور مجھ سے جواب نہ بن پڑے، بس اس بھاری ذِمّہ داری کا اِحساس اور اسی کی فکر مجھے رُلا رہی ہے۔ (تاریخ الخلفاء، ص 236)

نیکیوں کے شیدائی بن جائیے: فرمانِ مصطفے ﷺ: لوگوں سے اچھا سلوک کرنا صدقہ ہے۔ (مجمع الزوائد، 8/38، حدیث: 12630)

حقوق کا علم حاصل کیجئے: سب سے پہلے حقوق العباد کا علم حاصل کیجئے، کسی بھی چیز کی صحیح معلومات کے بغیر اس پر عمل پیرا ہونا تقریباً ناممکن ہے۔

خوفِ خدا کا جام پیجئے: حضرت ابوالحسن ضریر فرماتے ہیں: کسی شخص کی سعادت مندی کی علامت یہ ہےکہ اسے بدبختی کا خوف لاحق رہے کیونکہ خوف اللہ پاک اور بندے کےدرمیان لگا م ہے، جب کسی بندے کی لگام ٹوٹ جائے تو وہ ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاکت کا شکار ہو جاتا ہے۔ (احیاء العلوم، 4/ 199)

اللہ پاک ہمیں حقوق العباد کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے اور حق تلفی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین