اللہ رب العزت نے انسانوں کو باہمی حقوق، عدل و انصاف اور محبت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حکم دیا ہے۔ اسلام کا پیغام ہی یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کا حق دیا جائے اور کسی کو اس کے جائز حق سے محروم نہ کیا جائے۔ کسی کو محروم کرنا، خواہ مال میں ہو، عزت میں ہو، یا کسی اور نعمت میں، شریعت اسلامیہ میں نہایت سخت گناہ اور اخلاقی برائی شمار کیا گیا ہے۔

محروم کرنے کا مفہوم: محروم کرنے سے مراد یہ ہے کہ کسی کو اس چیز سے روک دیا جائے جو شرعاً یا اخلاقاً اس کا حق بنتا ہے۔ جیسے کسی مزدور کی مزدوری روک لینا، یتیم کے مال میں خیانت کرنا، وراثت میں کسی کا حصہ دبا لینا، یا کسی ضرورت مند کو حق امداد نہ دینا، یہ سب محروم کرنے کی صورتیں ہیں۔

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ(۱) الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ(۲) وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ(۳) (پ 30، المطففین: 1تا 3) ترجمہ: تباہی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے، جو دوسروں سے ناپتے وقت پورا لیتے ہیں، اور جب دوسروں کو دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔

یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ دوسروں کے حق میں کمی کرنا یا انہیں محروم کرنا اللہ کے نزدیک سخت جرم ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات میں محرومی کی مذمت: نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی میں عدل و انصاف کو سب سے زیادہ اہمیت دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مزدور کو اس کی مزدوری اس کے پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو۔ (ابن ماجہ، 3/162، حدیث: 2443)

یہ حدیث مبارکہ ظاہر کرتی ہے کہ کسی کو اس کے حق سے دیر تک بھی محروم رکھنا ظلم ہے۔ اگر اسلام فوری ادائیگی کا حکم دیتا ہے تو محرومی کا جرم اس سے کہیں زیادہ سنگین قرار پاتا ہے۔

وراثت میں محرومی: اسلام نے عورتوں، بچوں، اور یتیموں کو بھی وراثت میں مقررہ حصہ دیا ہے۔ مگر آج بھی بہت سے لوگ اپنی بہنوں، بیٹیوں یا بیوہ عورتوں کو ان کے وراثتی حقوق سے محروم کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًاؕ-وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠(۱۰) (پ 4، النساء: 10) ترجمہ: جو لوگ یتیموں کا مال ظلم سے کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں، اور وہ ضرور جہنم میں جلیں گے۔

یہ آیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ محرومی صرف دنیا کا نقصان نہیں بلکہ آخرت کا عذاب بھی اپنے ساتھ لاتی ہے۔

محرومی کی اخلاقی قباحت: اسلام صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی نظام بھی دیتا ہے۔ کسی کو محروم کرنا دراصل خودغرضی، لالچ اور ظلم کی علامت ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 13)

یہ حدیث اخلاقی معیار قائم کرتی ہے کہ مومن وہ ہے جو دوسروں کو ان کے حقوق دینے میں خوشی محسوس کرے، نہ کہ انہیں محروم کرے۔

سماجی اثرات: کسی کو محروم کرنا صرف ایک شخص کی ناانصافی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بربادی کا سبب بنتا ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کے حقوق مارنے لگیں تو دلوں سے اعتماد ختم ہوجاتا ہے، نفرت بڑھتی ہے، اور معاشرہ بے سکون ہوجاتا ہے۔

قرآن میں ارشاد ہے: وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ (پ 8، الاعراف: 85) ترجمہ: اور لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو۔

یعنی دوسروں کے مال، عزت، یا کسی بھی حق میں کمی کرنا جائز نہیں۔

محروم کرنا ایک ایسی اخلاقی برائی ہے جو بندے کو ظلم، خودغرضی اور بے رحمی کی طرف لے جاتی ہے۔ اسلام نے ہمیں عدل، انصاف، اور ایثار کا حکم دیا ہے۔ اگر ہم کسی کو اس کے حق سے محروم کرتے ہیں تو یہ نہ صرف دنیا میں فساد پھیلاتا ہے بلکہ آخرت میں سخت عذاب کا باعث بنتا ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا: ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں میں بدل جائے گا۔ (بخاری، 2/127، حدیث: 1447)

اللہ تعالیٰ ہمیں انصاف کے ساتھ زندگی گزارنے، دوسروں کو ان کے حقوق دینے اور محرومی جیسے گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔