محروم کرنے کی مذمت از بنت محمد انور، جامعۃ المدینہ جھمرہ
سٹی فیصل آباد
دین اسلام
اللہ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے کامل ترین دین ہے جس نے ہر دم قدم پر مسلمانوں کی
رہنمائی کی ہے۔ اب اس دین اسلام کے بعدکسی نئی شریعت کی حاجت نہیں جیسا کہ قرآن
کریم میں ہے۔ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ
لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ
الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ- (پ 6، المائدۃ: 5) ترجمہ کنز العرفان: آ ج میں نے
تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت کامل کر دی اور تمہارے
لیے دین اسلام کو پسند یدہ بنا دیا ہے۔
دین اسلام میں
مسلمانوں کے آپس کے حقوق ادا کرنے پر ثواب کی بشارت اور محروم کرنے کی صورت میں
عذاب کی وعیدات بیان فرمائیں چنانچہ حدیث مبارکہ ملاحظہ ہو:
جنت
میں محل: حضرت
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جسے یہ پسند ہو
کہ اس کے لیے جنت میں محل بنایا جائے اور اس کے درجات بلند کیے جائیں تو اسے چاہیے
کہ جو اس پر ظلم کرے یہ اسے معاف کرے اور جو اسے محروم کرے یہ اسے عطا کرے اور جو اس
سے قطع تعلق کرے یہ اس سے ناطہ جوڑ ے۔ (مستدرك، 3/12، حديث: 3215)
یہ حدیث
مبارکہ حسن اخلاق پر ابھارتی ہے اور یقینا لوگوں کے ساتھ اچھا اخلاق اپنانا بھی ان
کے حقوق میں سے ایک حق ہے۔
لوگوں
کو حسن اخلاق سے محروم کرنا: چنانچہ حسن اخلاق میں سے ہے کہ جب کوئی
اس پر احسان کرے تو اس کا شکریہ ادا کرے ورنہ وہ نا شکرا ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے
کہ جو لوگوں کا شکرادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ (ابو
داود،4/335، حدیث: 4811)
بچوں
کو شفقت سے محروم کرنا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے
حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا۔ نبی کریم ﷺ کے پاس اقرع بن حابس رضی اللہ
عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ اقرع رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ میرے دس لڑکے ہیں اور میں
نے ان میں سے کسی کو بوسہ نہیں دیا۔ نبی کریم ﷺ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ
جو اللہ کی مخلوق پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔ (بخاری، 4/100، حديث:
5997)
رشتہ
داروں کو حسن سلوک سے محروم کرنا: رشتہ داروں سے حسن سلوک یہ ہے کہ ان کے
ساتھ صلہ رحمی کی جائے اور قطع تعلقی سے بچے چنانچہ حدیث مبارکہ میں رشتہ کاٹنے
والے کے بارے میں وعید بیان کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: رشتہ کاٹنے
والا جنت میں نہیں جائے گا۔ (مسلم، ص 1383،
حديث: 2556)
صدر الشریعہ
مولانا امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ساری امت کا اس پر اتفاق ہے
کہ صلہ رحم واجب ہے اور قطع رحم یعنی رشتہ کاٹنا حرام ہے۔ (بہار شریعت، 3/558، حصہ:
16)
حاجت
مند کو اپنی مدد سے محروم کرنا: ضرورت کے وقت کسی کی مدد نہ کرنا خود
غرضی اور انسانی ہمدردی کی کمی ہے اور اس کی حق تلفی کرنے کے مترادف ہے جیسے اپنے
مال میں سے بخل کی وجہ سے فقرا و مساکین وغیرہ پر خرچ نہ کرنا حدیث مبارکہ میں بخل
کی مذمت بیان فرماتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو خصلتیں کسی مومن میں جمع نہیں
ہو سکتیں؛ بخل اور بد خلقی۔ (ترمذى، 3/387، حديث: 1969)
رعایا
کو عدل و انصاف سے محروم کرنا: رعایا کے درمیان عدل اور انصاف کا قیام
کرے ایسا نہ ہو کہ امیروں کے ساتھ تو اچھا سلوک کیا جائے اور غریبوں کے ساتھ برا۔
بلکہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔
جیسا کہ ایک
مرتبہ ام المومنين حضرت عائشہ صد یقہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں: قریش کے خاندان
بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی تو قریش سوچ و بچار کرنے لگے کہ سرور عالم ﷺ سے
اس کی سفارش کون کرے؟ بالآخر حضرت اسامہ بن زید رضی الله عنہ کا انتخاب ہوا کہ یہ
حضور کے محبوب ہیں، یہ بات کر سکتے ہیں۔ حضرت اسامہ نے جب آپ سے اس عورت کی سفارش
کی تو سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم اللہ پاک کی حدود میں سفارش کرتے ہو؟
پھر کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا: اےلوگو! تم سے پچھلے لوگ اسی لیے ہلاک ہوئے کہان میں
صاحب منصب چوری کرتا تو اسے چھوڑدیا جاتا اور اگر غریب چوری کرتا تو اسے سزا دی
جاتی، خدا کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی، تو میں اس کا ( بھی) ہاتھ
کاٹ دیتا۔ (مسلم، ص 927، حدیث: 1688)
اللہ پاک
مسلمانو ں کو آپس میں ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami