محروم کرنے کی مذمت از بنت محمد طارق، فیضان عائشہ صدیقہ
مظفرپورہ سیالکوٹ
اسلام میں کسی
کو اس کے حق سے محروم کرنا اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہے اللہ نے مسلمانوں کو ایک
دوسرے پر ظلم کرنے سے منع کیا ہے اور حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا ہے اور جو اس کی
ادائیگی پر عمل نہیں کرتا وہ گناہ گار ہے وراثت سے محروم کرنے کی مذمت مختلف
معاشرتی اور اسلامی پہلو پر کی جا سکتی ہے جن میں سےعدل و انصاف کی خلاف ورزی،خاندانی
تعلقات کی خرابی، اللہ کے احکامات سے نافرمانی،معاشی عدل استحکام اور سماجی ہےان
سب کی وضاحت پربھی غور کرتے ہیں۔
1۔عدل
و انصاف کی خلاف ورزی: محروم کرنا یعنی کسی کو اس کے حق سے محروم کرنا عدل
و انصاف کے بنیادی تصورات کے منافی ہے کیونکہ عدل و انصاف کا مقصد ہی فرد اور
معاشرے کے درمیان توازن اور بربادی کو یقینی بنانا ہے اور کسی کو اس کے حق سے
محروم کرنا اس توازن کو بگاڑتا ہے اور ناانصافی کا باعث بنتا ہے جیسے کسی کی حق
تلفی کرنا اور کسی کو برباد کرنا وغیرہ۔
2۔
خاندانی تنازعات کو ہوا دینا: ایک پہلو کے متاثر ہونے سے ایک مسلمان
کی پوری زندگی متاثر ہو سکتی ہے حکایت کی خرابی سے ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے اسی
طرح معاشرتی نظام بگڑ جائیں تو صحیح اسلامی معاشرہ تقسیم نہیں پا سکتا مسلمان
معاشرے سے عام طور پر میاں بیوی اور ساس بہو کے حوالے سے جھگڑے ہمارے سامنے آتے
رہتے ہیں ان کی سنگینی کئی اعتبار سے ہے یہ جھگڑے خاندان کے افراد کا ذہنی سکون
برباد کر دیتے ہیں جس طرح ذات کے نتائج زندگی کے بہت سے معاملات پر اثر انداز ہوتے
ہے بچوں پر نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں یہ اثرات پوری زندگی ان کا پیچھا نہیں
چھوڑتے ایسے جھگڑوں میں خاوند جدا ہو جاتے ہیں طلاق کے واقعات کا جائزہ لیا جائے
تو یہ اکثر واقعات غصہ،وقتی رنجش کی بناپر پیش آتے ہیں۔
3۔
اللہ کے احکامات کی نافرمانی: اسلام میں کسی کو اس کے حق سے محروم
کرنا اللہ کے حکم کے خلاف ورزی ہے اللہ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے
منع کیا ہے اور حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا ہے گناہ سے مراد جو اللہ کے احکامات کے
خلاف ہو محروم کرنا ایک ایسا فعل ہے جس میں دوسرے کا حق مارا جاتا ہے جو شرعا
ممنوع ہے اور گناہ کہلاتا ہے گناہ کی وجہ سے اللہ کا غضب اور عذاب ہوتا ہے محروم
کرنے والا شخص عذاب کا مستحق ہو سکتا ہے کیونکہ وہ اللہ کی نافرمانی کر رہا ہے۔
اسلام نے
انصاف اور حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا ہے کسی کو اس کے جائز حق سے محروم کرنا ظلم
اور نافرمانی ہے کسی کی دولت یا روزی چھیننا یا اسے کسی بھی طرح سے اپنے حق سے
محروم کرنا غلط ہے قران و سنت میں اس طرح کے افعال سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: جو نرمی سے محروم رہا وہ تمام بھلائیوں سے محروم رہا۔ (ترمذی، 3/408، حدیث:
2020)
اللہ کے بندوں
سے ہمارا واسطہ پڑتا ہے اور ہمارا رب اپنے بندوں سے بہت محبت فرماتا ہے اسی لیے
اللہ پاک نے آخری نبی ﷺ کے ذریعے اپنے بندوں سے نرمی کا برتاؤ کرنے کی تاکید
فرمائی ہے ان تاکیدات میں سے ایک یہ حدیث پاک بھی ہے اس حدیث پاک کی شرح میں ہے سختی
کی ضد نرمی ہے۔ (حاشیہ سندھی علی ابن ماجہ، 4/197، تحت الحدیث:3687- شرح مسلم
للنووی،جزء:8،16/145)
ہمیں بھی
چاہیے دوسروں کو ان کے حق سے محروم نہ کیا جائے۔
Dawateislami