اللہ پاک نے
اپنے محبوب،سید المرسلین،حضرت محمد ﷺ کو
تمام انبیائے کرام میں سب سے اعلیٰ مقام عطا فرمایا۔آپ کی ذات سراپا محبتِ الٰہی تھی۔آپ کی زندگی کا مقصد ہی اللہ پاک کی رضا اور اُس کی
بندگی تھا۔حضور بچپن ہی سے تنہائی میں
عبادت اور ذکرِ الٰہی میں مشغول رہتے تھے۔غارِ حرا میں گھنٹوں بلکہ دنوں تک بیٹھ
کر اللہ پاک کی قدرتوں پر غور فرماتے،دنیوی چیزوں سے بے نیاز ہو جاتے۔جب وحی نازل
ہوئی تو آپ کے دل کی روشنی اور بڑھ گئی اور
ہر سانس میں اللہ کی یاد رچ بس گئی۔آپ کا
فرمانِ عالی شان ہے: میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔(نسائی،ص 644،حدیث:3946)
یہ الفاظ اس
محبت کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں کہ نماز آپ کے لیے صرف عبادت نہیں بلکہ سکونِ دل تھی،کیونکہ نماز میں بندہ اپنے رب سے
ہم کلام ہوتا ہے۔
نبیِ کریم ﷺکی محبتِ الٰہی کا یہ حال تھا کہ راتوں کو دیر
تک قیام فرماتے،یہاں تک کہ قدم مبارک سوج جاتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی:یا
رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:
کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)
یہ جواب
آپ کے قلبِ مبارک میں موجزن محبت اور شکر
کے جذبے کا مظہر ہے۔ حضور کی زندگی میں ہر
فیصلہ،ہر قدم صرف اللہ کے حکم کے مطابق ہوتا تھا۔جنگ ہو یا امن،خوشی ہو یا غم،آپ ہمیشہ فرماتے:میں اللہ پر بھروسا کرتا ہوں،وہی
میرا کارساز ہے۔
آپ اللہ کی رضا کے لیے دکھ،بھوک،تکلیف سب برداشت
کر لیتے،مگر اس کی نافرمانی گوارا نہ کرتے۔آپ کے دل میں دنیا کی محبت نہیں تھی،بلکہ ہر وقت اللہ کی یاد اور اُسی کی رضا
کی تلاش رہتی۔اللہ پاک نے قرآنِ پاک میں آپ کی شان میں فرمایا:وَ وَجَدَكَ ضَآلًّا فَهَدٰى۪(۷)(پ30،الضحیٰ:
7)ترجمہ:اور تمہیں اپنی محبّت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ
دی۔
یہ آیت اس بات
کی دلیل ہے کہ آپ کی طلب اور محبت صرف اور
صرف اللہ کے لیے تھی۔
آخر میں یہ
کہنا بجا ہے کہ حضور کی محبتِ الٰہی ایک ایسا
سمندر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔آپ نے اپنی
امت کو بھی یہی تعلیم دی کہ اللہ سے محبت کرو،اس کی عبادت میں لذت تلاش کرو اور دنیا
کی فانی محبتوں کو چھوڑ کر رب کی رضا میں دل لگاؤ۔
Dawateislami