حضور
کی اللہ پاک سے محبت از بنتِ عبدالستار
مدنیہ،فیضان عائشہ صدیقہ نندپور سیالکوٹ
حضور نبیِ
اکرم ﷺ کی اللہ پاک سے محبت سب سے اعلیٰ،کامل اور بے مثال تھی۔ آپ کی محبت ایسی تھی
جو مکمل اخلاص،مکمل وفا،مكمل فنا فی اللہ اور مکمل بندگی پر مبنی تھی۔ اس محبت کی
چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
کامل اطاعت اور بندگی:
رسول اللہ ﷺ کی
پوری زندگی اللہ پاک کے احکامات کی مکمل پیروی اور اطاعت میں گزری۔آپ نے کبھی اپنی
خواہش کو اللہ کی رضا پر مقدم نہیں رکھا۔قرآنِ پاک میں اللہ پاک نے فرمایا:وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ
الْهَوٰىؕ(۳) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ(۴)( پ27،النجم:
4،3)ترجمہ:اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے وہ تو نہیں مگر
وحی جو اُنہیں کی جاتی ہے۔
ذکر و عبادت میں محبت:
حضور راتوں کو
قیام کرتے،طویل نمازیں پڑھتے،یہاں تک کہ پاؤں مبارک سوج جاتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ
عنہا نے عرض کی:یا رسول اللہ!آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا
میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں! (بخاری،3/329 ،حدیث:4837)یہ
صرف شکر نہیں،بلکہ ایک عاشقِ حقیقی کی معراج تھی ۔
دعا میں محبت:
حضور کی دعائیں اللہ سے انتہائی عاجزی،محبت اور لگن
سے بھرپور ہوتیں۔آپ اکثر فرماتے:اَللّٰہمَّ إِنِّی
أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ
حُبَّکَ اللّٰہُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ إِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَأَہْلِیْ
وَمِنْ الْمَاءِ الْبَارِد الٰہی!میں
تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبوبوں کی محبت مانگتا ہوں اور وہ عمل مانگتا ہوں جو
تیری محبت تک پہنچادے ۔الٰہی! اپنی محبت کومیرے لئے میری جان ، گھر بار اور ٹھنڈے
پانی سے زیادہ محبوب بنا دے ۔
(ترمذی،5/296،حدیث:3501)
یہ دعا اس شدتِ
محبت کی گواہ ہے جو رسول اللہ ﷺکو اپنے رب
سے تھی۔
اللہ نے بھی آپ سے محبت فرمائی:
اللہ پاک نے
قرآن میں بارہا اپنی محبت کا اظہار فرمایا:وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴) (پ30،الم نشرح:4)ایک
اور جگہ ارشادِ باری ہے:وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴) (پ29،القلم:4)ترجمہ: اور بیشک تم یقیناً عظیم اخلاق پر ہو ۔
ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی:
چاہے طائف کا
پتھراؤ ہو یا احد کی چوٹی،رسول اللہﷺ نے
کبھی شکوہ نہ کیا،بلکہ صرف اللہ کی رضا کی طلب کی۔
حضور اکرمﷺ کی اللہ پاک سے محبت کی کیفیت کو بیان کرنے کے
لئے متعدد احادیث موجود ہیں،جو یہ بتاتی ہیں کہ آپ کی محبت نہ صرف عبادات اور ذکر میں تھی بلکہ
اخلاق،دعا اور تعلقات انسانوں میں بھی جلوہ گر تھی۔ذیل میں کچھ اہم احادیث درج ہیں
جن سے اس عظیم محبت کی جھلک ملتی ہے:
اگر اللہ کسی کو محبوب رکھے :
روایت ہے کہ
آپ نے فرمایا:إِذَا أَحَبَّ اللهُ عَبْدًا نَادَى جِبْرِيلَ:إِنَّ
اللهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبَّهُ، فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، فَيُنَادِي جِبْرِيلُ
فِي أَهْلِ السَّمَاءِ:إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَأَحِبُّوهُ، فَيُحِبُّهُ
أَهْلُ السَّمَاءِ،ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ القَبُولُ فِي أَهْلِ الأَرْضِ۔(بخاری،4/110،
حديث:6140)
یہ حدیث بتاتی
ہے کہ اللہ پاک جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے،تو جبرائیل علیہ السلام کو اس کی محبت
کا حکم دیتا ہے،وہ اس سے محبت کرتا ہے،آسمان والوں سے اس کی محبت جاری ہوتی ہےاور
اس کے بعد وہ زمین والوں میں بھی مقبول ہو جاتا ہے۔
اللہ کا ذکر ہر لمحہ:
كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللهَ عَلىٰ
كُلِّ أَحْيَانِهٖ رسول اللہ ﷺ ہر حال میں اللہ پاک کو یاد کرتے تھے۔ (مسلم،ص159،
حدیث: 826)
محبت کی مثال:
جس سے محبت ہو،اس
کا ذکر دل سے نکلتا ہے اور نبی ﷺکا دل ہر
لمحہ اللہ کے ذکر سے آباد رہتا تھا۔
سجدے میں رونا عبدیت کا کمال:
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بار سورج گرہن کے
موقع پر نبی کریم ﷺ نے نمازِ کسوف پڑھی۔ آپ ﷺ سجدے میں گئے تو اس قدر روئے اور
ہچکیاں لیں کہ صحابہ نے اسے محسوس کیا، آپ ﷺ سجدے میں فرما رہے تھے:رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ رَبِّ
أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَترجمہ:اے
میرے رب! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں فرمایا تھا کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا
جب تک میں ان میں موجود ہوں؟اے میرے رب! کیا تو نے یہ وعدہ نہیں فرمایا تھا کہ تو
انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے؟
(ابو داود،1/439،حدیث:1194)
اللہ پاک سے محبت کی مثال:
سجدہ ایک عاشق
کا اظہار عاجزی ہے۔نبی ﷺکا رونا اس عشق ِحقیقی
کا ثبوت تھا۔
تمام فیصلے اللہ کی وحی سے:
رسول اللہﷺ کا ہر قول و فعل اللہ کی وحی کے تابع تھا۔ارشادِ
باری ہے:وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ
الْهَوٰىؕ(۳) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ
یُّوْحٰىۙ(۴) (پ27،النجم:
3-4)ترجمہ:اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے کچھ نہیں کرتے وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں
کی جاتی ہے۔
ایک محب اپنے
محبوب کی مرضی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتا۔
حضور نبیِ
کریم ﷺ کی اللہ پاک سے محبت اتنی گہری خالص اور بے مثال تھی کہ اُس کا کوئی دنیاوی
معیار سے موازنہ نہیں ہو سکتا۔یہ محبت اطاعت،خشیت،قربانی اور مکمل بندگی پر مبنی
تھی۔آپ کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کی رضا
کے لیے وقف تھا۔ذیل میں ایک مشہور اور دل کو چھو لینے والا واقعہ پیشِ خدمت ہے جو
اس محبت کی حقیقی جھلک دکھاتا ہے:
مکہ والوں کے عناد اور سرکشی کو دیکھتے ہوئے جب حضور رَحمت عالم ﷺ کو ان
لوگوں کے ایمان لانے سے مایوسی نظر آئی تو آپ نے تبلیغِ اسلام کے لئے مکہ کے قرب و
جوار کی بستیوں کا رُخ کیا۔ چنانچہ اس سلسلہ میں آپ نے طائف کا بھی سفر فرمایا۔ اس
سفر میں حضور ﷺ کے غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ عنہ بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ طائف
میں بڑے بڑے اُمراء اور مالدار لوگ رہتے تھے۔ ان رئیسوں میں عمرو کا خاندان تمام
قبائل کا سردار شمار کیا جاتا تھا۔ یہ لوگ تین بھائی تھے۔ عبدیالیل۔مسعود۔ حبیب۔
حضور ﷺ ان تینوں کے پاس تشریف لے گئے اور اسلام کی دعوت دی۔ ان تینوں نے اسلام
قبول نہیں کیا بلکہ انتہائی بیہودہ اور گستاخانہ جواب دیا۔ ان بدنصیبوں نے اسی پر
بس نہیں کیابلکہ طائف کے شریر غنڈوں کو ابھار دیا کہ یہ لوگ حضور ﷺ کے ساتھ برا
سلوک کریں ۔چنانچہ لچوں لفنگوں کا یہ شریر گروہ ہر طرف سے آپ پر ٹوٹ پڑا اور یہ
شرارتوں کے مجسمے آپ پر پتھر برسانے لگے یہاں تک کہ آپ کے مقدس پاؤں زخموں سے
لہولہان ہو گئے اور آپ کے موزے اور نعلین مبارک خون سے بھر گئے۔ جب آپ زخموں سے بے
تاب ہو کر بیٹھ جاتے تو یہ ظالم انتہائی بے دردی کے ساتھ آپ کا بازو پکڑ کر اٹھاتے
اورجب آپ چلنے لگتے تو پھر آپ پر پتھروں کی بارش کرتے اور ساتھ ساتھ طعنہ زنی
کرتے۔گالیاں دیتے۔ تالیاں بجاتے۔ ہنسی اڑاتے۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ عنہ دوڑ دوڑ کر حضور ﷺ پر آنے والے پتھروں کو
اپنے بدن پر لیتے تھے اور حضور ﷺ کو بچاتے تھے یہاں تک کہ وہ بھی خون میں نہا گئے
اور زخموں سے نڈھال ہو کر بے قابو ہو گئے۔ یہاں تک کہ آخر آپ نے انگور کے ایک باغ
میں پناہ لی۔ یہ باغ مکہ کے ایک مشہور کافر عتبہ بن ربیعہ کا تھا۔ حضور ﷺ کا یہ
حال دیکھ کر عتبہ بن ربیعہ اور اس کے بھائی شیبہ بن ربیعہ کو آپ پر رحم آگیا اور
کافر ہونے کے باوجود خاندانی حمیت نے جوش مارا۔ چنانچہ ان دونوں کافروں نے حضور ﷺ
کو اپنے باغ میں ٹھہرایا اور اپنے نصرانی غلام عداس کے ہاتھ سے آپ کی خدمت میں
انگور کا ایک خوشہ بھیجا۔ حضور ﷺنے بسم اﷲ پڑھ کر خوشہ کو ہاتھ لگایاتو عداس تعجب
سے کہنے لگا کہ اس اطراف کے لوگ تو یہ کلمہ نہیں بولا کرتے حضور ﷺ نے اس سے دریافت
فرمایا کہ تمہارا وطن کہاں ہے؟ عداس نے کہا کہ میں شہر نینویٰ کا رہنے والا ہوں۔
آپ نے فرمایا کہ وہ حضرت یونس بن متی علیہ السلام کا شہر ہے۔ وہ بھی میری طرح خدا
عزوجل کے پیغمبر تھے۔ یہ سن کر عداس آپ کے ہاتھ پاؤں چومنے لگا اور فوراً ہی آپ کا
کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔(مواہب لدنیہ،1/ 136،137)
محبت کی جھلک:
آپ پر جسمانی،ذہنی،جذباتی تکلیف کا پہاڑ ٹوٹ پڑا،مگر
اس سب میں اللہ سے کوئی شکایت نہیں کی۔یہ واقعہ بتاتا ہے کہ آپ کی محبت اللہ کے لیے ہے غرض خالص اور انتہا
درجے کی وفاداری پر مبنی تھی۔
حضرت جبریل اور پہاڑ کے فرشتہ کا آنا:
ایک مرتبہ امُّ المومنین حضرت عائشہ نے حضورِاقدس ﷺسے دریافت کیا:یا رسولَ
اللہ! کیا جنگ ِاُحد کے دن سے بھی زیادہ سخت کوئی دن آپ پر گزرا ہے؟ ارشاد فرمایا ہاں ، اے عائشہ! وہ دن میرے لئے جنگ ِاُحد کے دن سے بھی زیادہ
سخت تھا جب میں نے طائف میں وہاں کے ایک سردار ابنِ عبد یالیل بن عبد کلال کو اسلام کی دعوت دی۔ اس نے دعوتِ اسلام کو حقارت کے
ساتھ ٹھکرا دیا (اور اہلِ طائف نے مجھ پر پتھراؤ کیا) میں اس رنج و غم میں سرجھکائے چلتا رہایہاں تک کہ مقام قَرنُ الثّعالب میں پہنچ کر میرے ہوش و حواس بجا ہوئے ۔وہاں پہنچ کر جب میں نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بدلی مجھ پر سایہ کئے ہوئے ہے، اس بادل
میں سے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے
مجھے آواز دی اور کہا: اللہ نے آپ کی قوم
کا قول اور ان کا جواب سن لیا اور اب آپ کی خدمت میں پہاڑوں کا فرشتہ حاضر ہے ۔ تاکہ وہ آپ کے حکم کی تعمیل کرے۔ حضورِ اکرم ﷺ کا بیان
ہے کہ پہاڑوں کا فرشتہ مجھے سلام کرکے عرض
کرنے لگا : یا رسولَ اللہ! اللہ نے آپ کی
قوم کا قول اور انہوں نے آپ کو جو جواب
دیا ہے وہ سب کچھ سن لیا ہے اور مجھ کو آپ کی خدمت میں بھیجا ہے تا کہ آپ مجھے جو چاہیں حکم دیں اور میں آپ کا حکم بجا لاؤں ۔ اگر
آپ چاہتے ہیں کہ میں اَخْشَبَیْن (ابو قُبَیس اورقُعَیْقِعان نام کے)
دونوں پہاڑوں کو ان کفار پر اُلٹ دوں تو میں اُلٹ دیتاہوں ۔ یہ سن کر حضور رحمت ِعالَم ﷺنے جواب دیا: (نہیں ) بلکہ
میں امید کرتا ہوں کہ اللہ ان کی نسلوں سے اپنے ایسے بندوں کو پیدا فرمائے گا جو صرف اللہ کی ہی عبادت کریں گے اور شرک نہیں کریں گے۔(بخاری،2/386، حدیث: 3231)
سبق:
یہ واقعہ صرف
صبر کی علامت نہیں بلکہ یہ اللہ سے محبت عاجزی اور کامل بندگی کا اعلیٰ ترین نمونہ
ہے۔حضور نے نہ بددعا کی،نہ انتقام لیا،نہ
مایوس ہوئےصرف اللہ کی رضا کی پروا کی۔اللہ پاک ہم سب کو اپنے پیارے محبوب ﷺ کی سیرت
پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بِجَاهِ النبی الامين ﷺ
Dawateislami