حضور ﷺ کی
اللہ پاک سے محبت کی اصل بنیاد آپ کے قول و فعل میں اللہ پاک کی اطاعت اور پیروی میں
ہے۔حضور ﷺ کی ساری زندگی اللہ پاک کی اطاعت میں گزری۔ آپ اللہ پاک کی یاد میں رات تک جاگتے رہتے ۔
حضرت جابر سے
روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اس وقت تک نہیں
سوتے تھے جب تک کہ الم تَنْزِيلُ اور تَبَارَكَ
الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ نہ پڑھ لیتے۔(یعنی
رات کو سونے سے پہلے یہ دونوں سورتیں پڑھنے کا حضور کا معمول تھا) (ترمذی،4/408،حدیث:2901)
محبت کے تقاضے:
حضور ﷺ کی اصل
محبت کا تقاضا یہ ہی ہے کہ زندگی کے ہر قدم پر آپ کی سنتوں پر عمل کیا جائے اور آپ
کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچایا جائے اور یہی بات حضور ﷺ نے آخری خطبے میں فرمائی
کہ جو لوگ موجود ہیں وہ (یہ احکامات) اُن لوگوں تک پہنچادیں جو موجود نہیں ۔(بخاری، 3/141، حدیث :4406)
اس لئے آپ کی
تعلیمات کو اپنی زندگی میں شامل کر کے ان پر سنت کے مطابق عمل کرنا ہو گا۔
حضور کی پیروی:
اگر اللہ پاک
کو ماننے کا دعوی ہے تو اس کے پیارے محبوب،احمد مصطفےٰ ﷺ کے طریقوں پر چلنا ہو گا۔جس
کا مطلب ہے کہ اللہ پاک کو راضی کرنے کا راستہ حضور پاک ﷺ کی محبت اور اطاعت و پیروی
سے جُڑا ہوا ہے۔اللہ پاک نے خود قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ
تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ
ذُنُوْبَكُمْؕ-(پ3،ال
عمرٰن:31)ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ
لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست
رکھے گااور تمہارے گناہ بخش دے گا۔
حُبِّ رسول اللہ:
آپ ﷺ نے فرمایا:اللہ
پاک سے محبت كرو اس نے تمھیں اپنی نعمتوں سے نوازا ہے
اور اللہ پاک
کی محبت کی خاطر مجھ سے محبت کرو اور میری محبت کی خاطر میرے اہل بیت سے محبت کرو۔(ترمذی،5/434،حدیث:3814)
کتنی خُوب
صورت ترتیب بنتی ہے محبت کی کہ اللہ پاک سے محبت کرو کیوں کہ ہر نعمت ہر سانس ہر
لمحہ اس کا فضل و کرم ہے۔رسول اللہ ﷺ سے محبت کرو کیوں کہ وہی تو رحمت بن کر آئے ہیں
،ہمیں اپنے رب سے جوڑنے کے لئے۔اہلِ بیت سے محبت کرو کیوں کہ وہ نبیِ کریم ﷺ کے دل
کا ٹکڑا ہیں اور ان کے نور کا تسلسل ہیں۔
حضور ﷺ کی
اللہ پاک سے محبت کی شدت اِس حدیث مبارک واضع اور شان دار طریقے سے اجاگر ہوتی ہے
کہ پیارے رسولﷺ نے فرمایا:جس نے مجھ سے
محبت کی اللہ پاک اس سے محبت فرمائے گا
اور جس سے اللہ پاک نے محبت کی اللہ پاک اسے
جنت میں داخل فرمائے گا اور جس نے مجھ سے
بغض رکھا اس سے اللہ پاک بغض رکھے گا اور
جس سے اللہ پاک نے بغض رکھا اللہ پاک اسے جہنم میں داخل فرمائے گا۔(مستدرک، 4/155، حدیث:4829ملتقطاً)
اس فرمانِ
الٰہی کے مطابق اللہ پاک سے محبت در اصل حضور ﷺ محبت کرنا ہے اور حضور ﷺ سے بغض و
دشمنی رکھنا اللہ پاک سے دشمنی کرنے کے مترادف ہے۔گویا اللہ پاک کی محبت و رضا
حاصل کرنے کے لئے پیارے رسول اللہ ﷺ کی محبت بھی برابر طور پر حاصل کرنی ہو گی۔اللہ
پاک اور حضور ﷺ کی محبت لازم و ملزم ہے۔بغیر اسوهٔ حسنہ پر عمل کئے کوئی اللہ پاک
کی محبت نہیں پا سکتی اور حضور ﷺ کی سنتوں اور تعلیمات پر عمل کیے بغیر کوئی بھی
آپ کی محبت نہیں پا سکتی۔
دونوں عالم کے لئے رحمت:
پیارے نبیِ
کریم ﷺ ساری دنیا کے تمام لوگوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔
ارشادِ باری
ہے:وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(پ17،الانبیآء:107)ترجمہ:اور
ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔
ارشاد فرمایا
کہ اے حبیب! ہم نے آپ کو تمام
جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔
تاجدارِ رسالت
ﷺ نبیوں،رسولوں اور فرشتوں کے لئے رحمت ہیں،دین و دنیا میں رحمت ہیں،جنات اور انسانوں کے لئے رحمت ہیں،مومن
و کافر کے لئے رحمت ہیں، حیوانات،نباتات اور جمادات کے لئے رحمت ہیں۔الغرض عالَم میں
جتنی چیزیں داخل ہیں، سیّدُ المرسَلین ﷺان
سب کے لئے رحمت ہیں۔(تفسیر صراط الجنان،6/386)
حضرت عبد اللہ
بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضورِ اقدس ﷺکا رحمت ہونا عام ہے،ایمان والے کے لئے بھی اور اس کے لئے بھی جو ایمان نہ
لایا۔مومن کے لئے تو آپ دنیا و آخرت
دونوں میں رحمت ہیں اور جو ایمان نہ لایا اس کے لئے آپ دنیا میں رحمت ہیں کہ آپ کی بدولت
اس کے دُنْیَوی عذاب کو مُؤخَّر کر دیا گیا اور اس سے زمین میں دھنسانے کا عذاب،شکلیں بگاڑ دینے کا عذاب اور جڑ سے اکھاڑ دینے کا
عذاب اٹھا دیا گیا۔(تفسیر خازن،3 /297)
ایمان کی لذت:
سچی محبت اس
وقت حاصل ہوتی ہے جب ایمان کی لذت حاصل ہو اور اللہ پاک اور پیارے رسول اللہ ﷺ کی
رضا کے لئے بڑی سے بڑی تکلیفیں بھی گوارا ہوں۔یہ ایمان کی لذت ہے جو اللہ پاک اور
حضور ﷺ کو سب سے بڑھ کر ترجیح دیتی ہے۔اگر مسلمان میں ایمان کی چاشنی ہو تو پھر وہ
اللہ پاک اور پیارے رسول اللہ ﷺ کی محبت کی لذت حاصل کرے گا کیوں کہ اللہ پاک کی
محبت اور رضا کے لئے ایمان کا درجہ بہت قیمتی ہےاور ایمان کی مٹھاس تین چیزوں میں
ہے:(1)سب سے بڑھ کر اللہ پاک اور آقا ﷺ سے محبت کرنا۔(2)جس سے بھی محبت کرو وہ اللہ پاک
اور آقا ﷺ کی رضا کے لیے ہو۔(3) ایمان کے بعد کفر کو ایسے ناپسند کرو جیسے آگ
کو ناپسند کرتے ہو۔
Dawateislami