اسلام ایک
ایسا دین ہے جو عدل و انصاف، مساوات اور حقوق کی مکمل ضمانت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ
نے قرآن کریم میں انسانوں کے لیے واضح اصول وضع کیے ہیں جن کی بنیاد پر ایک
منصفانہ اور پُرامن معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔ انہی اصولوں میں سے ایک اہم اصول حقوق
کی ادائیگی ہے۔ جب کسی کا جائز حق چھین لیا جائے یا دبایا جائے تو اسے حق تلفی کہا
جاتا ہے۔ اسلام میں حق تلفی کو سختی سے منع کیا گیا ہے، اور اسے ظلم کے زمرے میں
شمار کیا گیا ہے۔
حق
تلفی کی تعریف:حق
تلفی کا مطلب ہے کسی فرد، گروہ یا قوم کو اس کا جائز اور شرعی حق نہ دینا، خواہ وہ
مالی، معاشی، سماجی، یا اخلاقی حق ہو۔ یہ ظلم کی ایک شکل ہے جو کسی بھی معاشرے میں
نفاق، بداعتمادی اور فساد کو جنم دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ
قرآن مجید میں بار بار عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور ظلم سے روکتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ
بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ (پ 14، النحل: 90) ترجمہ: بیشک اللہ
عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔
اس آیت سے
واضح ہوتا ہے کہ انصاف کرنا اور دوسروں کو ان کا حق دینا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔
فَاَوْفُوا
الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ (پ 8، الاعراف: 85) ترجمہ: اور ناپ اور
تول میں کمی نہ کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو۔
حق میں کمی
کرنا یا کسی کے مال یا مقام میں کمی کرنا ممنوع ہے۔
احادیث
مبارکہ کی روشنی میں:
1۔ نبی کریم ﷺ
نے فرمایا: مظلوم کی بددعا سے ڈرو، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ
نہیں ہوتا۔ (بخاری، 2/128، حدیث: 2448)
2۔ قیامت کے
دن ہر حق دار کو اس کا حق دیا جائے گا حتیٰ کہ سینگ والی بکری کو بغیر سینگ والی
بکری سے بدلہ دلایا جائے گا۔ (مسلم، ص 1394،
حدیث: 2582)
3۔ حدیثِ
قدسی:اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی اسے
حرام کر دیا، لہٰذا آپس میں ظلم نہ کرو۔ (مسلم، ص 1068، حدیث: 6572)
حق
تلفی کے دنیاوی نتائج: معاشرے میں ناانصافی اور بے چینی بڑھتی ہے۔ افراد
کے درمیان اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ ظالم کی
دنیا و آ خرت خراب ہو جاتی ہیں۔ ظالم کی دنیا و آخرت دونوں خراب ہو جاتی ہیں۔ مظلوم
کی آہیں اللہ کے دربار میں فوراً سنی جاتی ہیں۔ حق تلفی کرنے والے کی نیکیاں چھین
کر مظلوم کو دی جائیں گی اور مظلوم کے گناہ اس کے سر ڈالے جائیں گے۔ اس کیلئے
ہلاکت اور سخت عذاب ہے
اسلام نے ہر
انسان کو اس کا حق دیا ہے۔ والدین، اولاد، شوہر، بیوی، پڑوسی، یتیم، مسکین، غریب،
اور یہاں تک کہ دشمن کے بھی حقوق مقرر کیے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نہ صرف دوسروں کا
حق ادا کریں بلکہ کسی کی حق تلفی کو روکنے میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔ کیونکہ
یاد رکھیں: جو حق ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کے ہاں مجرم ہے۔
اللّہ پاک
ہمیں حق تلفی جیسے گناہ و جرم سے بچائے اور اللّہ پاک حقوق العباد و حقوق اللّہ کو
احسن طریقے سے ادا کرتے رہنے کی توفیق رفیق مرحمت فرمائے۔ آمین
Dawateislami