اسلام کامل اور مکمل دین ہے اور اس کی ہمہ گیری کا یہ عالَم ہے کہ یہ حیاتِ انسانی کے ہر شعبہ پر حاوی (غالب)ہے۔ حضور سرورِ عالم نور مجسم ﷺ نے عملی زندگی کے بارے میں جو ہدایات دی ہیں۔ انہیں بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

ایک وہ جس کا تعلق حقوقُ اللہ سے ہے، یعنی بندوں پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق ہے اور اس باب میں ان کے فرائض کیا ہیں؟

دوسرا حصہ وہ ہے جس کا تعلق حقوقُ العباد سے ہے، جس میں اس امر پرروشنی ڈالی گئی ہے کہ بندوں پر دوسرے بندوں کے اور عام مخلوقات کے کیا حقوق ہیں اور اس دنیا میں جب ایک انسان کا دوسرے انسان یا کسی بھی مخلوق سے واسطہ اور معاملہ پڑتا ہے تو اس کے ساتھ اس کا کیا رویہ ہونا چاہئے اور اس باب میں اللہ کے احکام کیا ہیں۔ یہاں یہ خصوصی طور پر قابلِ ذکر بھی ہے اور غورو فکر کی مستحق بھی کہ اگر اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی یا تقصیر (کمی)ہو جائے تو وہ غفور اور رحیم ہے۔ اگر چاہے تو اپنے حقوق کو خود معاف فرمادے، لیکن اگر ایک بندہ کسی بندہ کی حق تلفی کرتا ہے یا ظلم و زیادتی کرتا ہے تو اس کی معافی اور اس سے نجات و سبکدوشی (آزادی)کا معاملہ شریعت نے یوں مقرر فرمایا کہ یا تو حقدار کا حق ادا کر دیا جائے یا اس سے معافی حاصل کرلی جائے۔اگر ان دونوں میں سے کوئی بات اس دنیا میں نہ ہو سکی تو آخرت میں لازماً اس کا خمیازہ (بدلہ)بھگتنا ہوگا۔

حق تلفی کیا ہے؟ حق تلفی کا مطلب کسی شخص کے جائز حقوق کو چھیننا،نقصان پہنچانا،یا ان کو ضائع کرناہے۔ اسلام میں حق تلفی کو سختی سے منع کیا گیا ہے کیونکہ ہر شخص کو اس کا حق دینا ایک اہم فریضہ ہے۔

حقوق کے لین دین کے معاملے میں معاشرے کا رویہ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ لوگ دوسروں سے اپنے حقوق وصول کرنے میں انتہائی چستی اور تیزی دکھاتے ہیں لیکن جب دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی نوبت آتی ہے تو اس میں کمی کوتاہی اور غفلت و سستی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ہر شخص کو صرف اپنے حقوق کی فکر ہوتی ہے لیکن اپنے ذمے دوسروں کے حقوق سے وہ غافل ہوتا ہے۔ معاشرے میں بسنے والے لوگوں کے درمیان اختلافات، لڑائی اور جھگڑوں کی ایک بہت بڑی وجہ بھی یہی رویہ ہے۔ چناں چہ لوگ اپنے حقوق وصول کرنے کے لیے آپس میں دست و گریبان نظر آتے ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۠(۳۱) (پ 23، الزمر:31) ترجمہ: پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے۔

اس آیت کے متعلق ایک تفسیر یہ ہےکہ اس سے سب لوگوں کاجھگڑنا مراد ہے کہ لوگ دنیوی حقوق کے بارے میں ایک دوسرے سے جھگڑا کریں گے اور ہر ایک اپنا حق طلب کرے گا۔ (روح البیان، 8/ 106)

بندوں کے حقوق کی اہمیت: اس آیت سے بندوں کے حقوق کی اہمیت بھی واضح ہوئی،لہٰذا جس نے کسی کا کوئی حق تَلف کیا ہے اسے چاہئے کہ اپنی زندگی میں ہی اس کا حق ادا کر دے یا اس سے معاف کروا لے ورنہ قیامت کے دن حق کی ادائیگی کرنا پڑی تو وہ بہت بڑی مصیبت میں مبتلا ہو سکتا ہے۔یہاں اس سے متعلق 3 اَحادیث بھی ملاحظہ ہوں،چنانچہ

دنیا میں ہی معافی تلافی کا حکم: آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کسی نے اپنے کسی بھائی پر ظلم و زیادتی کی ہو۔ اس کی آبروریزی کی ہو یا کسی اور معاملہ میں اس کی حق تلفی کی ہو تو اس کو چاہئے کہ آج ہی اور اسی زندگی میں اس سے معاملہ صاف کر لے۔ آخرت کے اس دن کے آنے سے پہلے جب اس کے پاس ادا کرنے کے لئے دینار و درہم کچھ بھی نہ ہوگا۔ اگر اس کے پاس اعمال صالحہ ہوں گے تو اس کے ظلم کے بقدر مظلوم کو دلا دیئے جائیں گے اور اگر وہ نیکیوں سے بھی خالی ہاتھ ہو گا تو مظلوم کے کچھ گناہ اس پر لاد دیئے جائیں گے۔ (بخاری، 2/128، حدیث:2449)

مفلس و کنگال کون ہے؟ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالَم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مفلس و کنگال کون ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کی: ہم میں مفلس وہ ہے کہ جس کے پاس نہ درہم ہوں نہ سامان۔ ارشاد فرمایا: میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزے، زکوٰۃ لے کر آیا اور یوں آیا کہ اِسے گالی دی، اُسے تہمت لگائی، اِس کا مال کھایا، اُس کا خون بہایا، اُسے مارا۔ اِس کی نیکیوں میں سے کچھ اِس مظلوم کو دے دی جائیں گی اور کچھ اُس مظلوم کو، پھر اگر اس کے ذمہ حقوق کی ادائیگی سے پہلے اس کی نیکیاں (اس کے پاس سے)ختم ہوجائیں تو ان مظلوموں کی خطائیں لے کر اس ظالم پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم، ص 1069، حدیث: 6579)

اسی طرح ایک اور حدیث پاک میں ارشاد نبوی ہے: گناہوں کی ایک فہرست وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ انصاف کے بغیر نہ چھوڑے گا۔ وہ بندوں کے باہمی مظالم اور حق تلفیاں زیا دتیاں ہیں۔ ان کا بدلہ ضرور د لایا جائے گا۔ (شعب الایمان، 6/52، حدیث: 7474)

اللہ تعالیٰ ہمیں دوسروں کی حق تَلفی کرنے سے محفوظ فرمائے اور جن کے حقوق تَلف ہو گئے تو دنیا کی زندگی میں ہی ان کے حق ادا کر دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین