کسی کا حق
مارنا صرف اس کا نقصان نہیں بلکہ یہ ہمارے ایمان کو کمزور اور ہماری آخرت کو برباد
کرنے والا جرم ہے۔ یہ آج ہمارے معاشرے میں بہت عام ہو چکا ہے، جو نہ صرف ہمارے
اخلاق و کردار کو تباہ کر رہا ہے بلکہ ہمارے معاشرے کو ناکامی کی پستیوں میں گرا
رہا ہے۔ ہر دوسرا شخص صاحبِ حق کے حق میں کمی کرتا ہوا نظر آ رہا ہے، جو اسلامی
تعلیمات کے سخت خلاف ہے۔ دینِ اسلام ہمیشہ ہمیں اپنے اور دوسروں کے حقوق کی
ادائیگی کا درس دیتا ہے، اور اس حوالے سے قرآن و حدیث میں بار بار تنبیہ کی گئی
ہے۔
اسی لیے ہمارے
پیارے آقا ﷺ نے لوگوں کے حقوق میں کمی کرنے سے سختی سے منع فرمایا۔ اس کی وضاحت
ایک حدیثِ مبارکہ میں یوں ملتی ہے: میری اُمت میں مفلِس وہ ہے جو قیامت کے دن
نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے اور یوں آئے کہ اس نے کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت
لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا اور کسی کو مارا۔ تو اس کی نیکیوں میں
سے کچھ اس مظلوم کو دے دی جائیں گی اور کچھ اُس مظلوم کو۔ پھر اگر اس کے ذمے جو
حقوق تھے ان کی ادائیگی سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں تو ان مظلوموں کی
خطائیں لے کر اس ظالم پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم،
ص 1069، حدیث: 6579)
یہی نہیں،
بلکہ قیامت کے دن انصاف اس قدر مکمل ہوگا کہ جانوروں کے درمیان بھی حقوق کا بدلہ
چکایا جائے گا۔ جیسا کہ ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: بے شک روزِ قیامت تمہیں
اہلِ حقوق کو ان کے حق ادا کرنے ہوں گے، حتی کہ بےسنگ بکری کا بدلہ سنگھ والی بکری
سے لیا جائے گا۔ (مسلم، 4/1394، حدیث:
2582)
علمائے کرام
نے بھی اس حقیقت پر زور دیا ہے کہ حقوق العباد کی کوتاہی آخرت میں انسان کے لیے
بڑے نقصان کا سبب بنے گی۔ حضرت شیخ ابو طالب محمد بن علی مکی رحمۃ اللہ علیہ قوت
القلوب میں فرماتے ہیں: زیادہ تر اپنے نہیں بلکہ دوسروں کے گناہ ہی دوزخ میں داخلے
کا باعث ہوں گے، جو حقوق العباد تلف کرنے کے سبب انسان پر ڈال دیے جائیں گے۔ نیز
بے شمار افراد اپنی نیکیوں کے سبب نہیں بلکہ دوسروں کی نیکیاں حاصل کر کے جنت میں
داخل ہو جائیں گے۔ (قوت القلوب، 2/292)
ان تمام دلائل
سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دنیا میں اگر ہم نے دوسروں کے حقوق ادا نہ کیے تو آخرت
میں نیکیوں کے بدلے میں یہ حقوق ادا کرنے پڑیں گے، اور اس وقت پچھتاوا کوئی فائدہ
نہ دے گا۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ہم اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہیں، دوسروں کے
حقوق کا خیال رکھیں اور حتی الامکان دنیا ہی میں ان کی ادائیگی کر دیں تاکہ کل قیامت
کے دن سرخرو ہو سکیں۔
Dawateislami