اللہ تبارک و تعالی نے دنیا بنائی اور اس میں مخلوقات کو پیدا فرمایا ان میں سے ایک مخلوق انسان بھی ہے جن انسانوں میں سے کچھ کو خوش حال پیدا فرمایا اور کچھ کو غریب اور پھر کتنی ہی اچھی بات ہے کہ خوش حال آدمی کسی غریب کو قرض دے اور یہ خوش حال آدمی کے لیے صدقہ بھی ہے ثواب کا کام بھی اللہ تعالی سے اس کا اجر پائے گا یہ اس لیے کہ خوش حال آدمی نے غریب کی مشکل آسان کر دی اور اللہ تعالی قرض دینے والے کی مشکل کو قیامت کے دن آسان کرے گا اور پھر قرض واپسی لینے میں نرمی بھی کریں۔

دیکھا گیا ہے کہ آج کل لوگ مجبور قرض دار کے ساتھ بہت ہی ناروا سلوک کرتے ہیں اس کے ساتھ نرمی کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے وہ جہاں مل جائے اس کی عزت پامال کر کے رکھ دیتے ہیں آئے دن اس کے گھر کے چکر لگانا دروازہ بجانا گھر کے باہر کھڑے ہو کر باتیں بنانا بلکہ بعض لوگ گالیاں تک بک جاتے ہیں اور اسی بیچارے لاچار غریب کی عزت کا جنازہ نکالتے نظر آتے ہیں حالانکہ قرآن و پاک و احادیث مبارکہ میں تنگدست و غریب قرض دار کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔ اللہ تبارک و تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیْسَرَۃٍ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ

ترجمہ کنز الایمان : اور اگر قرض دار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلا ہے اگر جانو ۔ ( پارہ 3 سورۃ البقرہ 2 ،آیت 280 )

معلوم ہوا ایک قرضدار اگر تنگدست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یا قرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کر دینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔

عرش کا سایہ: جس دن ماں باپ اپنے بیٹوں سے اور بیٹے اپنے ماں باپ اولاد سے بھاگیں گے اور اس دن اللہ تعالی کے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا اس گھڑی میں اللہ تعالی کے عرش کے سائے میں مخصوص لوگ ہوں گے جن میں سے ایک قرض دار کو مہلت دینے والا اور قرضہ معاف کرنے والا بھی ہے ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے تنگدست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالی قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ ( ترمذی السنن ، کتاب البیوع ،باب ما جاء فی انظار المعسر والرق بہ،الحدیث 1360،ص 394 )

قیامت کی سختیوں سے محفوظ :حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو قرض دار کو مہلت دے یا قرض معاف کر دے تو اللہ تعالی اس کو قیامت کے دن کی سختیوں سے محفوظ رکھے گا۔ ( مسلم ،کتاب المساقاۃ،باب فضل انظار المعسر ،الحدیث 32 "1563" ص 650 )

اللہ تعالی کا درگزر فرمانا: حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے کے لیے فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا عمل یاد ہے ؟ اس نے کہا میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ۔ اس سے کہا گیا غور کر کے بتا اس نے کہا صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا اللہ تعالی نے ( فرشتے سے ) فرمایا تم اس سے درگزر کرو ۔ ( مسلم ،کتاب المساقاۃوالمزارعۃ،باب فضل انظار المعسر ،حدیث 26 "1560" ص 649 )

صدقے کا ثواب :حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس کا کسی شخص پر کوئی حق ہو وہ اسے مہلت دے تو اسے ہر دن کے عوض صدقے کا ثواب ملے گا ۔(مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب البیوع ،باب الافلاس والانظار ،الحدیث 2927 ،ج 2،ص 909)

امام اعظم کا کرم :حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی عادت کریم تھی کہ آپ حصول ثواب کے لیے کثرت سے لوگوں کو قرض دیا کرتے تھے اور آپ کا اپنے مقروضوں کے ساتھ اچھا سلوک بھی کمال کا تھا اس حُسن سلوک کی ایک داستان ملاحظہ فرمائیں: حضرت سیُّدُنا شقیق بن ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن حضرت سیدنا امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ گزر رہا تھا جبکہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کسی مریض کی عیادت کے لیے جا رہے تھے آپ رحمۃ اللہ علیہ نے دور سے ایک شخص کو آتا دیکھا لیکن اس نے فورا اپنے آپ کو حضرت سیُّدُنا امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے چھپاتے ہوئے راستہ بدل لیا آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نام لے کر پکارا اور فرمایا تم جس راستے پر ہو اسی پر چلتے آؤ دوسری راہ اختیار نہ کرو اس نے دیکھا کہ امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اسے پہچان لیا ہے اور بلا لیا ہے تو بہت شرمندہ ہوا اور وہیں رک گیا آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے پوچھا تم نے اپنا راستہ کیوں تبدیل کیا ؟ اس نے بتایا حضور آپ کا میرے ذمے دس (10) ہزار درہم قرض ہے اور اس بات کو عرصہ ہو چکا ہے مگر میں آپ کا قرض ادا نہ کر سکا تو مجھے آپ کو دیکھ کر بہت شرم محسوس ہوئی ( یعنی میں اس شرمندگی کی وجہ سے آپ کو منہ دکھانا نہیں چاہتا تھا ) آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے فرمایا سبحان اللہ عزوجل! تیرا معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ تم نے مجھے دیکھا تو مجھ سے ( قرض کے تقاضے کے خوف اور شرمندگی کی وجہ سے ) خود کو چھپا لیا جاؤ میں نے تمہیں اپنا تمام قرض معاف کیا اور میں خود اس پر گواہ ہوں آئندہ مجھ سے آنکھ نہ بچانا اور میری طرف سے جو چیز تمہارے دل میں داخل ہوئی ہے اس سے خود کو بری سمجھ کر مجھ سے ملا کرو حضرت سیدنا شقیق بن ابراہیم علیہ رحمۃ اللہ الکریم فرماتے ہیں کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا یہ حُسن سلوک دیکھ کر میں نے جان لیا کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ واقعی زاہد (یعنی دنیا سے بے رغبتی رکھنے والے ہیں ۔ ( مناقب امام اعظم ابی حنیفہ ، قصّہ ذید بن علی ۔ ۔ ۔ الخ، جزء اول ، ص 239 )