اسلام ایک
ایسا پیارا اور محبت پھیلانے والا دین ہے جس میں ایک دوسرے کے ساتھ نرمی والا
برتاؤ کرنے کی تربیت کی جاتی ہے اور اس انداز کو پھیلانے والے کے لیے آخری نبی
محمّد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے بےشمار فضائل بیان فرمائے ہیں بالخصوص
مقروض پر نرمی کرنے کے حوالے سے کئی احادیث وارد ہیں جن میں سے چند احادیث مبارکہ کو
ہم بیان کرتے ہیں:
(1)تنگدست
مقروض کو معاف کرنے والے کی بخشش : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَكَانَ يَقُولُ
لِفَتَاهُ: إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ
يَتَجَاوَزَ عَنَّا، قَالَ: فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ ۔
ترجمہ
:روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک شخص لوگو ں کو قرض
دیا کرتا تھا اور اپنے نوکر کو اسے اس نے کہہ رکھا تھا کہ جب تو کسی تنگ دست کے پاس تقاضا کو جائے توا
سے معاف کردے ہوسکتا ہے کہ اللہ ہم کو
معافی دے دے فرمایا کہ وہ اللہ سے ملا تو رب نے اس سے در گزر فرمائی ۔ (مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، حدیث نمبر:2901)
(2)مقروض
پر نرمی کرنے والے کو بشارت: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ
اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ صَوْتَ خُصُومٍ بِالْبَابِ عَالِيَةٍ أَصْوَاتُهُمَا، وَإِذَا
أَحَدُهُمَا يَسْتَوْضِعُ الآخَرَ، وَيَسْتَرْفِقُهُ فِي شَيْءٍ، وَهُوَ يَقُولُ:
وَاللَّهِ لاَ أَفْعَلُ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيْنَ المُتَأَلِّي عَلَى اللَّهِ، لاَ يَفْعَلُ المَعْرُوفَ،
فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَهُ أَيُّ ذَلِكَ أَحَبَّ ،
اُمّ
المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ
حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز
سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی
چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا
۔ ‘‘ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا
: ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟‘‘
تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !وہ میں ہوں ، اور اب اِس
(مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین، جلد:3،لوگوں کے درمیان صلح کا بیان،حدیث نمبر:250)
(3)مقروض
پر نرمی کرنے والے کے لیے آخرت میں آسانی:حضور صلَّی اللہ تعالٰی
علیہ واٰلہٖ وسلَّم جو کسی تنگدست (مقروض) پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخِرت میں اس پر آسانی فرمائے
گا ۔ (ابن ماجہ،ج 3،ص147، حديث: 2417)
(4)مقروض
پر نرمی کرنے والا عرش کے سائے میں: جو کسی
تنگدست کو مہلت دے یا اس کاقرض مُعاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن عَرْش کے
سائے میں جگہ عطا فرمائے گا کہ جس دن عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا
۔ (ترمذی،ج3،ص 52، حديث:1310)
ان تمام
احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ جو شخص مقروض پر نرمی و آسانی کرتا ہے اللہ پاک اس
کی مغفرت فرماتا ہے، اور جس دن سوائے عرش کے سائے کے کوئی سایہ نہ ہوگا اسے اپنا
سایہ عطا فرمائے گا اور قیامت کے دن اس کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے گا ۔ اللہ پاک
سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے مقروضوں پر نرمی کرکے احادیث میں وارد فضائل کو حاصل کرنے
کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم
النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم
Dawateislami