رضوان
مقبول قادری (درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور، پاکستان)
پیارے پیارے
اسلامی بھائیو! مَقْرُوض سے ہمیشہ نرمی اور حُسْنِ سُلوک سے پیش آناچاہئے ۔
ضَرورت مندوں کو قَرْض دینا اور قَرْض کی بہترین ادائیگی کرنا، احادیث میں جہاں اس
کی ترغیب ہے وہیں تنگدَسْت مقروض سے شفقت و مہربانی اور نرمی سے پیش آنا بھی نبوی تعلیمات کا روشن باب ہے ۔
قرض دینے کا بنیادی مقصد (Basic Purpose) یہ ہوتا ہے کہ ضَرورت مند کی
مَعاشی اور گھریلو پریشانیاں خَتْم ہوجائیں،اس سوچ کےتحت اچّھی اچّھی نیتوں کے
ساتھ دیا جانے والاقرض ثواب کا ذریعہ بھی بنے گا ۔ مقروض پر نرمی کے طریقے نہایت آسان اور نَرْم شرائط رکھی جائیں ۔ ایسی کڑی شرائط رکھ دینا کہ مقروض پِس کے رہ جائے باہَمی اُلْفت کو ختم
کرنے کا سبب بن سکتا ہے ۔ قرض وُصُول کرتے
ہوئے رَویہّ میں نَرْمی بہت ضَروری ہے، ادائیگی میں تاخیر پر خوامخواہ شور مچانا،
باتیں سنانا مسئلہ کو حل کرنے کی بجائے مزید اُلجھا دےگا ۔ اگر قُدْرت ہو تو مکمل یا
کچھ مُعاف کر دیجئے ۔ افسوس! آج کل ہمارے
یہاں مقروض سے نرمی کا تصور ختم ہوتا جارہا ہے حالانکہ اس کے بہت فضائل ہیں ۔
کثیر اَحادیث
میں غریب مقروض کو مہلت دینے،نرمی کرنے یا قرض معاف کردینے کی تعلیم دی گئی ہے
۔
احادیث میں
اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ اس کے 4 فضائل درجِ ذیل ہیں :
(1)حضرت
ابوہریرہ رضى الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِراً
أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ الله يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِهِ
يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّه یعنی جو شخص کسی تنگ دست (قرض دار) کو مہلت دے یا اس کا کچھ قرض معاف کر دے، تو اللہ اسے قیامت کے دن آپنے عرش
کے سایہ کے نیچے جگہ دے گا جس دن اس کے سایہ کے علاوہ کوئی اور سایہ نہ ہوگا ۔
(جامع ترمذی/کتاب: خرید وفروخت کا بیان/باب: تنگ
دست کے لئے قرض کی ادائیگی میں مہلت اور اس سے نرمی کرنا/حدیث
نمبر:1354/صفحہ:150/جلد: 3)
(2)حضرت حذیفہ
رضى الله عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
تَلَقَّتِ الْمَلَائِكَةُ رُوحَ رَجُلٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَقَالُوا:
أَعَمِلْتَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا؟ قَالَ: لَا، قَالُوا: تَذَكَّرْ، قَالَ:
كُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ فَآمُرُ فِتْيَانِي أَنْ يُنْظِرُوا الْمُعْسِرَ،
وَيَتَجَوَّزُوا عَنِ الْمُوسِرِ، قَالَ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: تَجَوَّزُوا
عَنْهُ یعنی تم میں سے پہلے لوگوں کی کسی روح کو فرشتے ملے اور اس سے کہنے لگے: کیا
تو نے کوئی نیک عمل کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں ۔ انھوں نے کہا: تو یاد کر ۔ اس نے
کہا: میں لوگوں کو قرض دیتا تھا ۔ میں
آپنے غلام کو حکم دیتا تھا کہ تنگ دست کو مہلت دینا اور معاف کردینا تو آپ ﷺ نے
فرمایا کہ اللہ نے فرمایا: تم اس سے درگزر کرو ۔
(سنن کبریٰ
للبیہقی/کتاب: خرید و فروخت کے مسائل و احکام/باب: تنگ دست کو ڈھیل اور معاف کردینے
کا بیان/حدیث نمبر: 10975/صفحہ: 583/جلد:5)
(3) حضرت
ابوقتادہ رضى الله عنہ بیان کرتے ہیں،
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ،
فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ، أَوْ يَضَعْ عَنْهُ یعنی جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اللہ اسے روزِ قیامت کی
تکلیفوں سے نجات دے دے تو وہ تنگدست کو مہلت دے یا اسے (قرض) معاف کر دے ۔ ‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح/کتاب: خرید و فروخت کا بیان/باب:
افلاس اور مہلت دینے کا بیان/حدیث نمبر: 2902/صفحہ: 877/جلد: 2)
(4)حضرت
ابوہریرہ رضى الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: َانَ الرَّجُلُ
يُدَايِنُ النَّاسَ، فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ: إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا
فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا، قَالَ: فَلَقِيَ
اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ یعنی ایک
آدمی لوگوں کو قرض دیتا تھا اور اپنے ملازم سے کہتا کہ جب تو کسی تنگ دست کے پاس
جائے تو اس سے درگزر کرنا شاید اللہ ہم سے درگزر کرے وہ اللہ سے ملا بعد از وفات
تو اللہ نے اس سے درگزر فرمایا اور بخش دیا ۔ (صحیح مسلم/کتاب: بیع کا بیان/باب:
تنگ دست کو مہلت دینے اور امیروغریب سے قرض کی وصولی میں درگزر کرنے کی فضلیت کے بیان
میں/حدیث نمبر: 3998/صفحہ: 33/جلد:5 )
افسوس!
ہمارے ہاں ایک تعداد سُودی قرضے دینے پر تو آمادہ نظر آتی ہے مگر بغیر نفع
کےقرضِ حَسَنہ دیتے ہوئے ان کی جان جاتی ہے حالانکہ سُودی لین دین دنیا و آخرت کی
تباہی کا سبب ہے ۔ بعض لوگ مقروض کی بے بسی
کا فائدہ اس طرح سے اٹھاتے ہیں ۔ کہ مقروض کے پورے کنبے کو اپنا غلام تصور کیا
جاتا ہے ۔ انہیں بلیک میل کرنا، ڈرانا دھمکانا عام ہے ۔ بعض لوگ مقروض کی عزّتِ نفس کو مَجْروح (Hurt) کرتے
نظر آتے ہیں،اس طرح کہ ادائیگی میں تاخیر ہونے پر مقروض کی بے عزّتی کرنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتے ۔ مکان یا دکان کاکرایہ مانگتے ہوئے جان بوجھ کر
شور مچاکر پڑوسیوں کو جمع کرتے ہیں اور پھر سب کے سامنے مقروض کی عزت کی دھجّیاں
بَکھیرتے اور اِیذائےمسلم جیسے کبیرہ گناہ میں مُلَوَّث نظر آتے ہیں ۔ ایسوں کو بھی مقروض سے نرمی اور آسانی کا
مُظاہرہ کرنا چاہئے ۔ اللہ پاک سے دعا ہے
کہ اللہ کریم ان احادیث کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین
بجاہ النبی الکریم ﷺ ۔
Dawateislami