وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)

ترجمہ کنزالایمان: اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔

قرضدار کو مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل:اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یا قرض کا کچھ حصہ یا پورا قرض معاف کر دینا اجر عظیم کا سبب ہے ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں، چند فضائل درج ذیل ہیں:

(1) حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا "جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے ۔ (مسلم، کتاب المساقاة والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص845، الحدیث:32 (1563))

(2) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا "جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالی قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر، 3 / 52، الحدیث: 1310)

(3) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السهولۃ والسماحۃ فى الشراء والبیع، 2 / 12، الحديث: 2076)

(4)حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالَى عَنْہ فرماتے ہیں، حضور اکرم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَیہ وَآلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: "گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنی کوئی اچھی چیز یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھی کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا: غور کر کے بتاؤ کہ دنیا میں لوگوں سے صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتے سے فرمایا: تم اس سے درگزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن اليمان، 9 / 98، الحديث: 23413، مسلم، کتاب المساقاة والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص 844 الحديث" (29) (1560)

(5) اور صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگ دست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا" میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حق دار ہوں، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم، کتاب المساقاة والمزارعۃ، باب بفضل انظار المعسر، ص 844، الحدیث:29(1560))

امام اعظم رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُ اور مجوسی قرضدار:امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَيْہِ فرماتے ہیں "منقول ہے کہ ایک مجوسی پر امام ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہ ِ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ مال قرض تھا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قرض کی وصولی کے لئے اس مجوسی کے گھر کی طرف گئے جب اس کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے جو تے پر نجاست لگ گئی ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے (نجاست جھاڑنے کی غرض سے) اپنے جو تے کو جھاڑا تو آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے اس عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اُڑ کر دیوار پر لگ گئی ۔ آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا کہ اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اس مجوسی کی دیوار خراب ہو رہی ہے اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی اُکھڑے گی ۔ اسی پریشانی کے عالم میں آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے دروازہ بجایا تو ایک لونڈی باہر نکل آئی ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ دروازے پر موجود ہے وہ مجوسی آپ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آیا اور اس نے یہ گمان کیا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قرض کا مطالبہ کریں گے، اس لئے اس نے آتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دیا ۔ امام ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں تو قرض سے بھی بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیوار پر نجاست لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی صورت کیا ہے؟ (یہ سن کر) اس مجوسی نے عرض کی: میں (دیوار کی صفائی کرنے کی) ابتدا میں اپنے آپ کو پاک کرنے سے کرتا ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا ۔ (تفسیر کبیر، الفصل الرابع فی تفسیر قوله: مالک یوم الدین، 1/ 204)

حضرت علی المرتضیٰ کرّمَ اللہ تعالیٰ وَجْہہُ اَلکَرِیم سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک مكاتب غلام آیا اور عرض کی اپنی كتابت (کامل) ادا کرنے سے عاجز آگیاہوں، میری کچھ مدد فرمائیے ۔ آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہہ الْکَرِیْم نے فرمایا کیا میں تجھے وہ کلمات نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سکھائے تھے (اور ان کلمات کی برکت یہ ہے کہ اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے ادا کرادے ۔ تم یہ پڑھا کرو "اَللّٰھُمَّ اَکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ" یعنی اے الله! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے تو کافی ہو جا، اور مجھ اپنی مہربانی سے آپنے سوائے بے پرواہ کر دے ۔ (ترمذی، احادیث شتی، 110-باب 5/ 329 الحدیث 3574)