وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)

ترجمہ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔ (البقرۃ،280)

 تفسیر صراط الجنان:وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر مقروض تنگدست ہو: یعنی تمہارے قرضداروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر آپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور آخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا ۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۸۰، ۱ / ۲۱۸)

قرضدار کو مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل: اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔ احادیث میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں ، چنانچہ ا س کے5فضائل درجِ ذیل ہیں :

(1)حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ  ﷺ َ نے  ارشاد فرمایا:جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ  تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۵، الحدیث :  ۳۲(۱۵۶۳))

(2) حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم  ﷺ َ نے  ارشاد فرمایا :جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، ۳ / ۵۲، الحدیث: ۱۳۱۰)

(3) حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس  ﷺ َ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، ۲ / ۱۲، الحدیث: ۲۰۷۶ )

(4)حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم  ﷺ َ   نے  ارشاد فرمایا: گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔  اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، ۹ / ۹۸، الحدیث: ۲۳۴۱۳، مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۳، الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰))

(5)اور صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ  تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔    (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص۸۴۴، الحدیث: ۲۹(۱۵۶۰))


(1)  قرض كم كرنے کامطالبہ : اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : یارسولَ اللہ ﷺ !وہ میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد(3 ) حدیث نمبر(250)

(2)ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا :حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :ایک شخص لوگو ں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوکر کو اسے اس نے کہہ رکھا تھا کہ جب تو کسی تنگ دست کے پاس تقاضا کو جائے توا سے معاف کردے ہوسکتا ہے کہ اللہ ہم کو معافی دے دے فرمایا کہ وہ اللہ سے ملا تو رب نے اس سے در گزر فرمائی ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد(4) حدیث نمبر(2776)

(3) تنگدست پر آسانی کرنا:رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو کسی تنگدست پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخِرت میں اس پر آسانی فرمائے گا ۔ (ابن ماجہ جلد نمبر ( 3 ) صفحہ نمبر( 147) حدیث نمبر (2417 )

(4) آدھا قرض معاف کردیا :حضرت کعب ابن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مسجد میں ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا تقاضا کیا زمانہ نبوی ﷺ میں تو ان کی آوازیں کچھ اونچی ہوگئیں حتی کہ رسولاللہ ﷺ نے اپنے گھر سے سن لیا تو رسول اللہ ﷺ ان کی طرف تشریف لائے حتی کہ اپنے حجرہ شریف کا پردہ اٹھایا اور حضرت کعب ابن مالک کو پکارا فرمایا اے کعب عرض کیا حضور ( ﷺ ) حاضر ہوں آپ نے اپنے ہاتھ شریف سے اشارہ کیا کہ آدھا قرض معاف کردو،حضرت کعب نے کہا یارسول اللہ ﷺ میں نے کردیا فرمایا اُٹھو اب ادا کردو ۔

(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد(4) حدیث نمبر(2908)


نبی کریم  ﷺ نے ہمشہ مقروض پر نرمی فرماتے اور دوسروں کو بھی مقروض پر نرمی کرنے کا حکم ارشاد فرماتے اسی ضمن میں چند احادیث مبارکہ پیش خدمت ہے :

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ فَمَنْ أَخَّرَهُ كَانَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَة روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جس کا کسی شخص پر کوئی حق ہو وہ اسے مہلت دے دے تو اسے ہر دن کے عوض صدقہ کا ثواب ہوگا ۔ (مسند احمد)

شرح حدیث :حق میں قرض،دَین،مکان،دکان کا کرایہ،اپنے کام کی اجرت تمام حقوق داخل ہیں ۔ من فرما کر یہ اشارہ لیا کہ جو بھی مہلت دیدے یا دلوادے یا مہلت کا سبب بن جائے اسے ہر دن صدقہ کا ثواب ہے مثلًا یکم تاریخ کو کرایہ دار پر کرایہ ادا کرنا لازم ہےکسی نے سفارش کرکے اسے دو چار دن کی مالک مکان سے مہلت دلوادی کہ یہ تو بیچارہ غریب ہے ابھی اس کے پاس نہیں ہے،کچھ مہلت دے دو تو مالک مکان کو بھی اور اس سفارشی کو بھی ان دو چار دنوں میں ہر دن اتنے روپے خیرات کرنے کا ثواب ملے گا ۔ اس لیے اعلٰی حضرت قدس سرہ نے فرمایا کہ صدقہ دینے سے قرض دینا پھر مہلت دینا افضل ہے ۔ صدقہ تو غیر حاجت مند بھی لے لیتے ہیں مگر قرض حاجت مند ہی لیتا ہے ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:2927 )

اخلاقی و معاشرتی سبق:

1، مقروض کے ساتھ نرمی کرنا انسانیت، ہمدردی اور ایثار کا مظہر ہے ۔

2، جو شخص دنیا میں دوسروں کو مہلت دیتا ہے، اللہ تعالیٰ آخرت میں اسے اپنی رحمت کے سائے میں لے لیتا ہے ۔

3، قرض دار پر سختی کرنا ظلم کے زمرے میں آتا ہے، جب کہ نرمی کرنا صدقہ کے برابر اجر رکھتا ہے ۔

4، معاشرے میں اگر یہ سنت عام ہو جائے تو حسد، بغض اور دشمنی کی جگہ محبت، تعاون اور اخوت پیدا ہو گئے

اللہ پاک ہمیں دوسروں کو قرض میں نرمی اور معاف کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دوسروں کا قرض وقت پر لوٹانے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ 


مقروض پر نرمی کا مطلب ہے کہ قرض دینے والا قرض لینے والے کے ساتھ نرمی اور آسانی سے پیش آئے،

خاص طور پر جب وہ تنگی میں ہو ۔ اس میں تنگدست مقروض کو مہلت دینا یا قرض معاف کر دینا شامل ہے، اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا و آخرت میں نرمی اور اجر ملنے کی بشارت ہے ۔

1،مہلت دینا: اگر مقروض ادائیگی کے لیے مشکل میں ہے، تو اسے مزید مہلت دینا نرمی ہے ۔

2،قرض معاف کرنا: مکمل قرض معاف کر دینا نرمی کی ایک اعلیٰ شکل ہے، اور اس کا اجر بہت بڑا ہے ۔

3،آسانی پیدا کرنا: مقروض کے ساتھ سختی یا زیادتی کرنے کے بجائے، اس کی مجبوری اور حالات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے ۔

عرش کا سایہ: جو شخص مقروض پر نرمی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دنیا اور آخرت میں آسانی فرماتا ہے، اور اسے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا جب کوئی اور سایہ نہیں ہوگا ۔

غلط رویوں سے بچنا: مقروض کی بے عزتی کرنا، اسے بلیک میل کرنا، یا اس کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھانا سختی کی مثالیں ہیں اور ایسا کرنے سے بچنا چاہیے ۔ نبیِّ کریم علیہ الصلوۃ و السَّلام کاارشاد ہے: تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قَبْض کرنے فِرِشْتہ آیا تو اُس سے کہا گیاکہ کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔ اس سے کہا گیا:غور تو کر ۔ اس نے کہا: اس کے سِوا اور کچھ نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو مُعافی ۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں داخل فرما دیا ۔ (بخاری،ج2،ص460،حدیث:3451)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مَقْرُوض سے ہمیشہ نرمی اور حُسْنِ سُلوک سے پیش آناچاہئے ۔ ضَرورت مندوں کو قَرْض دینا اور قَرْض کی بہترین ادائیگی کرنا، اسلام میں جہاں اس کی ترغیب ہے وہیں تنگدَسْت مقروض سے شفقت و مہربانی اور نرمی سے پیش آنا بھی اسلامی تعلیمات کا روشن باب ہے ۔ قرض دینے کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ ضَرورت مند کی مَعاشی اور گھریلو پریشانیاں خَتْم ہوجائیں،اس سوچ کےتحت اچّھی اچّھی نیتوں کے ساتھ دیا جانے والاقرض ثواب کا ذریعہ بھی بنے گا ۔ مقروض پر نرمی کے طریقے نہایت آسان اور نَرْم شرائط رکھی جائیں ۔ ایسی کڑی شرائط رکھ دینا کہ مقروض پِس کے رہ جائے باہَمی اُلْفت کو ختم کرنے کا سبب بن سکتا ہے ۔ یَکْمُشْت ادائیگی نہ کر سکنے کی صورت میں قِسْطوں میں تقسیم کر دیجئے ۔ وُصُول کرتے ہوئے رَویہّ میں نَرْمی بہت ضَروری ہے، ادائیگی میں تاخیر پر خوامخواہ شور مچانا، باتیں سنانا مسئلہ کو حل کرنے کی بجائے مزید اُلجھا دےگا ۔ اگر قُدْرت ہو تو مکمل یا کچھ مُعاف کر دیجئے ۔ افسوس! آج کل ہمارے یہاں مقروض سے نرمی کا تصور ختم ہوتا جارہا ہے حالانکہ اس کے بہت فضائل ہیں ۔

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۸۰)

ترجمہ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ:اور اگر مقروض تنگدست ہو: یعنی تمہارے قرضداروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے ۔ (ابن ماجہ،ج 3،ص147، حديث: 2417)

جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کاقرض مُعاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن عَرْش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا کہ جس دن عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ (ترمذی،ج3،ص 52، حديث:1310)

مقروض سے زیادَتی کی مثالیں افسوس! ہمارے ہاں ایک تعداد سُودی قرضے دینے پر تو آمادہ نظر آتی ہے مگر بغیر نفع کےقرضِ حَسَنہ دیتے ہوئے ان کی جان جاتی ہے حالانکہ سُودی لین دین دنیا و آخرت کی تباہی کا سبب ہے ۔ بعض لوگ مقروض کی بے بسی کا فائدہ اس طرح سے اٹھاتے ہیں کہ اسے آپنا زَرخرید غلام سمجھ لیتے ہیں خصوصاً گاؤں گوٹھوں میں یہ صورتحال زیادہ ہے کہ مقروض کے پورے کنبے کو اپنا غلام تصور کیا جاتا ہے ۔ انہیں بلیک میل کرنا، ڈرانا دھمکانا عام ہے ۔ بعض لوگ مقروض کی عزّتِ نفس کو مَجْروح (Hurt) کرتے نظر آتے ہیں،اس طرح کہ ادائیگی میں تاخیر ہونے پر مقروض کی بے عزّتی کرنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتے ۔ مکان یا دکان کاکرایہ مانگتے ہوئے جان بوجھ کر شور مچاکر پڑوسیوں کو جمع کرتے ہیں اور پھر سب کے سامنے مقروض کی عزت کی دھجّیاں بَکھیرتے اور اِیذائےمسلم جیسے کبیرہ گناہ میں مُلَوَّث نظر آتے ہیں ۔ ایسوں کو بھی مقروض سے نرمی اور آسانی کا مُظاہرہ کرنا چاہئے ۔ اگر قرض دار مالدار ہے اور ادائیگی پر قادر ہونے کے باوجود قرض ادا نہ کرے تو قرض خواہ سختی کے ساتھ اپنے قرض کا مطالبہ کرسکتا ہے امام اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: جو دے سکتاہے اور بلاوجہ لیت ولعل کرے وہ ظالم ہے اور اس پر تشنیع وملامت جائز ۔ (فتاویٰ رضویہ ،ج 23،ص286)


(1) قرض معاف کرنا : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ: إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا، قَالَ: فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک شخص لوگو ں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوکر کو اسے اس نے کہہ رکھا تھا کہ جب تو کسی تنگ دست کے پاس تقاضا کو جائے توا سے معاف کردے ہوسکتا ہے کہ اللہ ہم کو معافی دے دے فرمایا کہ وہ اللہ سے ملا تو رب نے اس سے در گزر فرمائی ۔ ( مشکوٰۃ المصابیح ، جلد 1 ، کتاب البیوع ، باب الافلاس والانظار ،صفحہ 257 ، حدیث : 2772)

شرح: سارا قرض معاف کردے یا کچھ قرض یا مہلت دے دے کہ جلدی تقاضا نہ کرے،معافی میں یہ سب کچھ داخل ہے ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:2901)

(2) مقروض پر نرمی کرنا: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا، فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ، فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغُرَمَائِهِ: خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ، وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ،روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں کچھ پھلوں میں جو اس نے خریدے تھے گھاٹے میں پڑگیا تو اس پر بہت قرض ہوگیا رسول الله ﷺ نے فرمایا اس پر صدقہ کرو لوگوں نے اسے صدقہ دیا مگر صدقہ اس کے ادائے قرض تک نہ پہنچ سکا تب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا جو پاؤ وہ لے لو تو تمہیں اس کے سواء کچھ نہ ملے گا ۔ ( مشکوٰۃ المصابیح ، جلد 1 ، کتاب البیوع ، باب الافلاس والانظار ، ص :257 ، حدیث: 2771)

شرح : یعنی اس وقت زیادہ نہ ملے گا اور نہ تم مقروض کو قید و بند کرسکتے ہو،اسے مہلت دو جب اس کے پاس مال ہوجائے لے لو،یہ مطلب نہیں کہ اب تمہارا بقیہ قرض ملے گا ہی نہیں،مارا گیا یا معاف ہوگیا ۔ خیال رہے کہ اس مقروض کو قید کرایا جاسکتا ہے جس کے متعلق شبہ ہو کہ اس کے پاس مال تو ہے مگر چھپالیا ہے پھر جب اس کی ناداری معلوم ہوجائے تو اسے قید نہیں کیاجاسکتا ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:2900 )

(3) اللہ رحم فرمائے گا : حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، 2/ 12، الحدیث: 2076)

(4) عرش اعظم کا سایہ : وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْهُ أَظَلَّهُ اللّٰهُ فِي ظِلِّهٖ ،

روایت ہے حضرت ابوالیسر سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا کہ جو کسی تنگدست کو مہلت یا معافی دے تواللہ اسے اپنے سایہ میں جگہ دے گا ۔ (مشکوٰۃ المصابیح، جلد 1 ، کتاب البیوع ، باب الافلاس والانظار ، ص : 257 ، حدیث : 2775)

شرح: اپنے سایہ سے مراد عرش اعظم کا سایہ ہے کہ قیامت میں صرف اسی کا سایہ ہوگا،وہاں ہی دھوپ اور تپش سے امان ہوگی،مقروض پر آسانی کرنے والا تنہائی میں اپنے گناہ یاد کرکے رونے والا،گناہ کرنے کے ارادہ پر رب کو یاد کرکے ہٹ جانے والا وغیرہ اس کے سایہ میں ہوں گے ۔ ( کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 ، حدیث نمبر:2904 )

(5) موت کے وقت در گزر : حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو ۔

( مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص843، الحدیث: 26(1560))


پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک کا ہم پر لاکھ احسان ہے کہ اس نے ہیں مسلمان پیدا فرمایا ہے  ۔ اور مسلمانوں کو آپس میں نرمی اور محبت سے رہنے کا درس دیا ہے ۔ لیکن آج کے اس دور میں یہ دیکھا گیا ہے کہ آج کل لوگ مجبور وتنگدست قرض دار کے ساتھ بہت ہی نارَوا سلوک کرتے ہیں ، اس کے ساتھ نرمی کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہوتے ، وہ جہاں مل جائے اُس کی عزت پامال کرکے رکھ دیتے ہیں ، آئے دن اُس کے گھر کے چکر لگاتے ، دروازہ بجاتے ، گھر کے باہر کھڑے ہوکر اُسے باتیں سناتے ، بلکہ بعض بے باک لوگ تو گالیاں تک بَک جاتے اور اُس بے چارے ، لاچار ، غریب اور بے بس شخص کی عزت کا جنازہ نکالتے نظر آتے ہیں ۔ حالانکہ احادیث مبارکہ میں تنگدست ومجبور قرض دار کے ساتھ نرمی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔

(1)مقروض پر نرمی کا درس دیا:اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ ‘‘ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟‘‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !وہ میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:250)

عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں قرض دار کے ساتھ نرمی برتنے ، اچھا سلوک کرنے اور قرضے میں کمی کرنے پر اُبھارا گیا ہے ۔ نیز اِس حدیث میں حضور ﷺ نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھانے سے منع فرمایا کیونکہ اِس میں بندے کا خود مختار اور اپنے اِرادے پربذاتِ خود قادر ہونے کا معنیٰ پایا جارہا ہے گویا کہ اُس نے حتمی طور پر فیصلہ کر لیا کہ میں یہ کام نہیں کروں گااور یہ فرقہ قدریہ کے عقائد کے مشابہ ہے جو کہ بندے کے خود مختار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں کہ بندہ آپنے اَفعال کے بارے میں خود مختار ہے ، اس لیے رسولُ اللہ ﷺ نے اُنہیں اِس پر تنبیہ فرمائی اور وہ فورا ًسمجھ گئے اور اپنی قسم سے رُجوع کرلیا اور کہا کہ اِس مقروض کے لیے وہی ہے جو یہ چاہےیعنی قرضے میں کمی اور نرمی(جو چاہے میں اُس کے لیے کردوں گا) ۔

(2) آخرت میں آسانیاں :جو دنیامیں تنگ دست کو آسانی فراہم کرےگا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ دنیا وآخرت میں اُس کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے گا ۔ (مسلم کتاب الذکر والدعا،باب فضل الاجتماع علی تلاوةالقرآن، ص1447،حدیث2699)

(3)عرش کے سائے میں جگہ:جس نے تنگد ست کو مہلت دی یااُس کے قرض میں کمی کی ، اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اُسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا جس دن اُس سائے کے علا وہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔

(ترمذی، کتاب البیوع، باب ماجاءفی انظار المعسروالرفق بہ3/52،حدیث1310)

(4) دو بار مال صدقہ کرنے کا ثواب :جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اُس کے لئے ہر روز اُس قرض کی مثل صدقہ کرنے کا ثواب ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے سرکارِ مدینہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : “ جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی تو اُسے روزانہ اتناہی مال دو مرتبہ صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا ۔ “ میں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !پہلے تو میں نے آپ کویہ فرماتے ہوئے سناتھا کہ جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی اُس کے لئے ہر روز اس قر ض کی مثل صدقہ کرنے کاثواب ہے پھر آپ ﷺ نے یہ فرمایاکہ جس نے کسی تنگد ست کو مہلت دی اُس کے لئے ہر روز اس قرض سے دوگنا صدقہ کرنے کا ثواب ہے ۔ ‘‘ آپ ﷺ نے ارشادفرمایا : اُسے روزانہ قر ض کی مقدار کے برابر مال صدقہ کرنے کا ثو اب تو قر ض کی ادا ئیگی کا وقت آنے سے پہلے ملے گااور جب ادائیگی کاوقت ہوگیا پھر اُس نے قرض دار کو مہلت دی تو اُسے روزانہ اتنا مال دو مرتبہ صدقہ کرنے کاثوا ب ملے گا ۔ (مسند احمد،حدیث بریداسلمی9/32،ح 23107)

ان چند احادیث کریمہ سے یہ معلوم ہو کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وسلم نے ہمیں مقروض پر نرمی کی تعلیم فرمائی ہے ۔ اے کاش کہ ہم پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور سنتوں پر عمل کرنے میں کامیاب ہو جائیں ۔ 


اسلام کا مقصد ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا ہے جہاں مقروض پر نرمی کرنا نہ صرف انسانی ہمدردی ہے بلکہ عرش الہی کے سائے کی ضمانت بھی ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ اس تعلیم نبوی  پر عمل کریں تاکہ دنیا میں سکون حاصل ہواور آخرت میں رنج نہ ہو چند فرامینِ نبی پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔

(1) بخشش کا ذریعہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اگلی امتوں میں ایک گنہگار شخص تھا جو لوگوں کو قرض معاف کر دیا کرتا تھا جب اس کا انتقال ہوا تو اللہ تعالی نے اس کو بخش دیا اور پروردگار عالم نے فرمایا جب وہ معاف کر دیا کرتا تھا تو میں اس سے زیادہ حقدار ہوں ۔ (جامع الاحادیث، جلد 3، ص 334 ،حدیث نمبر 1714)

(2)مقروض کو مہلت دینے کی فضیلت :روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جس کا کسی شخص پر کوئی حق ہو وہ اسے مہلت دے دے تو اسے ہر دن کے عوض صدقہ کا ثواب ہوگا ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ج 1 ، حدیث نمبر:2927 )

(3)عرش کا سایہ ملنے کا سبب:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جو اپنے قرضدار کو مہلت دی ہے یا قرض معاف کر دے وہ قیامت کے دن عرش کے سائے کے نیچے ہوگا ۔ (جامع الاحادیث ،حدیث نمبر ،1713جلد 3،صفحہ نمبر 333 )

(4)نیکی حاصل کرنے کا ذریعہ :ام المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ ‘‘ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟‘‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !وہ میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:250 )

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ان احادیث کو پڑھنے اور آگے پہچانے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین ﷺ ۔ 


حضرت سیِّدُنا شقیق بلخی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃُ اللہِ علیہ کے ساتھ جا رہا تھا کہ ایک شخص آپ کو دیکھ کر چھپ گیا اور دوسرا راستہ اختیار کیا ۔ جب آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے اسے پکارا، وہ آیا تو پوچھا کہ تم نے راستہ کیوں بدل دیا؟ اور کیوں چھپ گئے؟ اس نے عرض کی: ”میں آپ کا مقروض ہوں، میں نے آپ کو دس ہزار درہم دینے ہیں جس کو کافی عرصہ گزر چکا ہے اور میں تنگدست ہوں، آپ سے شرماتا ہوں ۔ “ امام اعظم رحمۃُ اللہِ علیہ نے فرمایا: ”سُبْحٰنَ اللہ! میری وجہ سے تمہاری یہ حالت ہے، جاؤ! میں نے سارا قرض تمہیں معاف کر دیا ۔ میں نے اپنے آپ کو اپنے نفس پر گواہ کیا ۔ اب آئندہ مجھ سے نہ چھپنا،اور سنو جو خوف تمہارے دل میں میری وجہ سے پیدا ہوا مجھے وہ بھی معاف کر دو ۔ ( مناقب الامام الاعظم ، جلد نمبر 1 ، صفحہ نمبر : 273 ، مکتبہ نبویہ گنج بخش روڈ لاہور )

آئیے مقروض پر نرمی کرنے کی چند احادیث ملاحظہ کرتے ہیں ۔

( 1) مقروض کو مہلت دینا : فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کاقرض مُعاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن عَرْش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا کہ جس دن عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ (جامع ترمذی شریف ، کتاب البیوع ، باب ماجاء فی انظار المعسر والرفق بہ ، جلد نمبر : 3 ، صفحہ نمبر : 52 ، حدیث نمبر : 1310 )

( 2 ) مقروض پر نرمی کرنا : رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو کسی تنگدست (مقروض) پر آسانی (نرمی)کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخِرت میں اس پر آسانی (نرمی) فرمائے گا ۔ (ابن ماجہ، جلد نمبر : 3 ، صفحہ نمبر : 147 ، حدیث نمبر : 2417 )

( 3 ) آخرت میں آسانیاں : جو دنیامیں تنگ دست کو آسانی فراہم کرےگا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ دنیا وآخرت میں اُس کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے گا ۔ ( مسلم شریف : کتاب الذکر والدعا ، باب فضل الاجتماع علی تلاوةالقرآن ، صفحہ نمبر : 1447 ، حدیث نمبر : 2699 )

( 4 ) قرض معاف کردینا : نبیِّ کریم علیہ الصلوۃ و السَّلام نے ارشاد ہے: تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قَبْض کرنے فِرِشْتہ آیا تو اُس سے کہا گیاکہ کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔ اس سے کہا گیا:غور تو کر اس نے کہا: اس کے سِوا اور کچھ نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو مُعاف کر دیتا پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں داخل فرما دیا ۔ (صحیح بخاری شریف ، جلد نمبر : 2 ،صفحہ نمبر: 460 ،حدیث نمبر : 3451 )

( 5 ) مقروض پر نرمی کرنے والا بخشا گیا : رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:ایک شخص نے کبھی کوئی نیک کام نہ کیا تھا، البتہ! وہ لوگوں کو قرض دیا کرتا اور اپنے نوکروں سے کہا کرتا:’’ مقروض کے لئے جتنا قرضہ ادا کرنا آسان ہو اتنا لے لینا اور جتنا ادا کرنا مشکل ہو اتنا چھوڑ دینا، اے کاش! ہمارا ربّ بھی ہم سے درگزر فرمائے ۔ “ جب اس کا اِنتقال ہوگیا تو اللہ پاک نے دریافت فرمایا:کیا تو نے کبھی کوئی نیکی بھی کی؟ اس نے عرض کی:نہیں، البتہ! میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور جب اپنے خادِم کو قرض کی وصولی کے لئے بھیجتا تو اسے کہا کرتا تھا کہ جتنا آسان ہو اتنا لے لینا جتنا مشکل ہو اتنا چھوڑ دینا، ہو سکتا ہے کہ اللہ پاک ہم سے بھی درگزر فرمائے ۔ “ تو اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:” میں نے تمہیں بخش دیا ۔ ( مسند امام احمد ، جلد نمبر : 3 ، صفحہ نمبر : 285 ، حدیث نمبر : 8738 )

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مَقْرُوض سے ہمیشہ نرمی اور حُسْنِ سُلوک سے پیش آناچاہئے ۔ ضَرورت مندوں کو قَرْض دینا اور قَرْض کی بہترین ادائیگی کرنا، اسلام میں جہاں اس کی ترغیب ہے وہیں تنگدَسْت مقروض سے شفقت و مہربانی اور نرمی سے پیش آنا بھی اسلامی تعلیمات کا روشن باب ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبین صلی اللہ علیہ والہ وسلم


مقروض سے ہمیشہ نرمی اور حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے ضرورت مندوں کو قرض دینا اور قرض کی بہترین ادائیگی کرنا اسلام میں جہاں اس کی ترغیب ہے وہاں تنگدست مقروض سے شفقتوں مہربانی اور نرمی سے پیش آنا بھی اسلامی تعلیمات کا روشن باب ہے۔ اس سوچ کے تحت اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ دیے جانے والا قرض ثواب کا ذریعہ بنتا ہے مقروض پر نرمی کرنے کے بارے میں نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں چند احادیث پیش خدمت ہیں ۔

(1) قرض میں کمی کرنا: حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور پاک صاحب کو لاک، سیاح افلاک صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جس نے تنگدست کو مہلت دی یا اس کے قرض میں کمی کی، اللہ عز وجل اسے قیامت کے دن اپنے عرش کے سائےمیں جگہ دے گا جس دن اس سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا“ (ترمذی، کتاب البیوع ، باب ما جاء فی انظار المعسر ، رقم ۱۳۱۰، ج ۳ ص ۵۲)

(2)دوگنامال صدقہ کرنے کا ثواب:ایک روایت میں ہے کہ جس نے قرض کی ادائیگی کے وقت سے پہلے تنگدست کو مہلت دی اسے روزانہ اتنا مال صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا اور جس نے وقت ادائیگی کے بعد مہلت دی اسے روزانہ اس سے دُگنا مال صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا ۔ “ ( مجمع الزوائد، كتاب البيوع، باب فی من فرج عن معسر ، رقم ۲۶۷۶، ج ۴، ص ۲۴۲)

(3)تنگدست کو مہلت دینا : حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ شہنشاہ خوش خصال، پیکرِ حُسن و جمال، دافع رنج و ملال، صاحب جو دونوال، رسول بے مثال ، بی بی آمنہ کے لال صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو زمین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے، جس نے تنگدست کو مہلت دی یا اس کے قرض میں کمی کی اللہ عز وجل اسے جہنم کی گرمی سے بچائے گا ۔ ( مجمع الزوائد، كتاب البيوع ، باب فی من فرج عن معسر ، رقم ۶۶۶۶ ، جلد ۴، ص ۲۴۰ )

(4)قرض دینے کا انعام: سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سر ور، دو جہاں کے جانور، سلطان بحر و بر صلی اللہ علی علیہ والہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلی امتوں کے ایک شخص کی روح سے فرشتوں کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے اس سے پوچھا کیا تو نے کوئی اچھا کام کیا ہے؟ اس نے جواب دیا نہیں ۔ فرشتوں نے کہا، یاد کرو ۔ اس نے کہا میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے خادم سے کہہ دیا کرتا تاکہ تھا کہ تنگ دست کو مہلت دیا کرو اور اور مالدار سے چشم پوشی کروں توار تو اللہ عزوجل نے فرمایا ، اسے

معاف کر دو ۔ “(جنت میں لے جانے والے امال،ص، 247 حدیث 663)

(5) مقروض پر نرمی کے صدقے بخشش:ایک روایت میں ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا : ایک شخص جس نے کبھی کوئی اچھا عمل نہ کیا تھا، لوگوں کو قرض دیا کرتا تو اپنے قاصد سے کہا کرتا " قرض دار جو کچھ آسانی سے دے اسے لیا کرو اور جس میں قرضدار کو دشواری ہوا سے چھوڑ دیا کرو اور چشم پوشی کرو شاید اللہ عزوجل ہمیں معاف فرما فرمادے دے ۔ جب اس کا انتقال ہوا تو اللہ عزوجل نے اس سے فرمایا کیا تو نے کبھی کوئی اچھا عمل کیا ؟ تو اس نے عرض کیا نہیں، مگر میرا ایک غلام تھا اور میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا، جب میں اسے قرض کا تقاضا کرنے کے لئے بھیجا تو اسے کہتا جو آسانی سے ملے وہ لے لو اور جس میں قرضدار کو دشواری ہوا سے چھوڑ دو اور چشم پوشی ۔ کرو، شاید الله عز وجل ہم سے چشم پوشی فرمائے ۔ تو اللہ عزو جل نے اس سے فرمایا ” بے شک میں نے تجھے معاف کر دیا ۔ ( سنن النسائی، کتاب البیوع، باب حسن المعاملۃ والرفق فی المطالبۃ، ج ۷، رقم ۱۵۶۲ ص ۸۴۵)

اللہ تعالی ہمیں ان تمام احادیث مبارکہ پر عمل کرنے کی توفیق توفیق عطا فرمائے اور مقروض پر نرمی کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین ۔


اسلام ایک ایسا دین ہے جس نے معاشرتی تعلقات میں نرمی ،درگزر ، خیر خواہی اور اخلاق حسنہ کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ہے ۔ دنیا میں کوئی بھی شخص تنہا اپنی ضرورتیں پوری نہیں کر سکتا، اسی لیے لوگ ایک دوسرے سے لین دین کرتے ہیں، کوئی قرض دیتا ہے اور کوئی لیتا ہے ۔ مگر بعض اوقات حالات ایسے آ جاتے ہیں کہ مقروض اپنی استطاعت کے باوجود قرض ادا کرنے سے عاجز ہو جاتا ہے ۔ ایسے موقع پر اسلام ہمیں سختی یا بدکلامی کے بجائے نرمی، مہربانی اور آسانی کا حکم دیتا ہے ۔ بہت سی ایسی احادیث مبارکہ ہیں جن میں مقروض پر نرمی، آسانی اور قرض معاف کرنے کی تعلیم دی گئی ہے آئیے چند احادیث مبارکہ پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔

(1)سایہ رحمت پانے والا:جو شخص دنیا میں کسی مقروض پر آسانی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر اپنی خاص رحمت اور سایہ عطا فرمائے گا، جب کوئی اور سایہ نہ ہوگا ۔ جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، 3 / 52، الحدیث: 1310)

(2) قیامت کی تکالیف سے نجات پانے والا:مقروض کے قرض معاف کر دینے والا شخص قیامت کی تکالیف وہولناکیوں سے محفوظ ہوجاتا ہےجیساکہ حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ َ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص845 الحدیث:32(1563)

(3)دنیا و آخِرت کی آسانیاں پانے والا:مقروض پر جو شخص آسانیاں پیدا کر دیتا ہےیعنی اس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کرے تو اللہ عزوجل ایسے شخص پر دنیا و آخرت میں آسانیاں فرمائے گا ۔ جیساکہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:جو کسی تنگدست (مقروض) پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخِرت میں اس پر آسانی فرمائے گا ۔ (ابن ماجہ،ج 3،ص147، حديث: 2417)

(4)قرض کا ثواب: قرض واپس ملنے میں تاخیر پر قرض خواہ کو چاہئے کہ صبر کرے اور اس حدیث شریف میں بیان کردہ ثواب کا مستحق بنے ، چنانچہ رسول اکرم ﷺ َ نے ارشاد فرمایا : جب کسی کا دوسرے پر دَین (یعنی قرض )ہو اور اس کی مِیعاد گزر جائے تو ہر روز اسی قدر روپیہ کی خیرات کا ثواب ملتا ہے جتنا دَین (یعنی قرض) ہے ۔ (شعب الایمان7/538، حدیث : 11261)

(5)قرض معاف کرنے کا صلہ:جوشخص مقروض کا قرض معاف کر دیتا ہے تو اس شخص کے مرنے کے بعد اللہ عزوجل اس کو کیسا بدلہ عطاء فرمائے گا آئیے اس حدیث شریف میں پڑھتے ہیں ۔ حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، 98/9 الحدیث: 23413 مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص843، الحدیث: 26(1560)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو!مذکورہ بالا احادیث مبارکہ میں مقروض پر نرمی درگزر کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے جبکہ افسوس! ہمارے ہاں ایک تعداد سُودی قرضے دینے پر تو آمادہ نظر آتی ہے مگر بغیر نفع کےقرضِ حَسَنہ دیتے ہوئے ان کی جان جاتی ہے حالانکہ سُودی لین دین دنیا و آخرت کی تباہی کا سبب ہے ۔ بعض لوگ مقروض کی بے بسی کا فائدہ اس طرح سے اٹھاتے ہیں کہ اسے اپنا زَرخرید غلام سمجھ لیتے ہیں خصوصاً گاؤں وغیر ہ میں یہ صورتحال زیادہ ہے کہ مقروض کے پورے کنبے کو اپنا غلام تصور کیا جاتا ہے ۔ انہیں بلیک میل کرنا، ڈرانا دھمکانا عام ہے ۔ بعض لوگ مقروض کی عزّتِ نفس کو مَجْروح کرتے نظر آتے ہیں،اس طرح کہ ادائیگی میں تاخیر ہونے پر مقروض کی بے عزّتی کرنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتے ۔ مکان یا دکان کاکرایہ مانگتے ہوئے جان بوجھ کر شور مچاکر پڑوسیوں کو جمع کرتے ہیں اور پھر سب کے سامنے مقروض کی عزت کی دھجّیاں بَکھیرتے اور اِیذائےمسلم جیسے کبیرہ گناہ میں مُلَوَّث نظر آتے ہیں ۔ ایسوں کو بھی مقروض سے نرمی اور آسانی کا مُظاہرہ کرنا چاہئے ۔ برخلاف اگر قرض دار مالدار ہے اور ادائیگی پر قادر ہونے کے باوجود قرض ادا نہ کرے تو قرض خواہ سختی کے ساتھ آپنے قرض کا مطالبہ کرسکتا ہے امام اہلِ سنّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: جو دے سکتاہے اور بلاوجہ لیت ولعل کرے وہ ظالم ہے اور اس پر تشنیع وملامت جائز ۔ (فتاویٰ رضویہ ،ج 23،ص286)اللہ عزوجل ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین بجاہ خاتم النبین ۔


اسلام نے مالی معاملات میں عدل، نرمی اور ہمدردی کی تعلیم دی ہے ۔ قرض خواہ کو حکم دیا گیا ہے کہ اگر مقروض تنگدست ہو تو اُسے مہلت دے ۔ یہ عمل نہ صرف انسانی ہمدردی ہے بلکہ اللہ کی رضا اور اجر کا باعث بھی ہے ۔ قرآن و حدیث میں ایسے شخص کے لیے جنت کی خوشخبری دی گئی ہے آئیے اس حوالے سے کچھ ملاحظہ فرمائیں :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (۲۸۰)ترجمۂ کنز الایمان: اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔ (سورۃ البقرۃ، آیت 280)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔ قرضدار کو مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل:

(1)اللہ پاک کے عرش کا سایہ :حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم نے ارشاد فرمایا ’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ، 3 / 52، الحدیث: 1310)

(2)بخش کا سبب:حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’ گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، 9 / 98، الحدیث: 23413)

(3)اور صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص844، الحدیث: 29(1560))

(4)بروز قیامت تکلیفوں سے نجات:حضرت ابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص845، الحدیث: 32(1563))

(5)اللہ تعالیٰ رحم فرمائے :حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے فرمایا: ’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، 2 / 12، الحدیث: 2076 )

امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا اہم واقع :امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’منقول ہے کہ ایک مجوسی پر امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ مال قرض تھا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قرض کی وصولی کے لئے ا س مجوسی کے گھر کی طرف گئے ۔ جب اس کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جوتے پر نجاست لگ گئی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے (نجاست چھڑانے کی غرض سے) اپنے جوتے کو جھاڑا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ا س عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اڑ کر مجوسی کی دیوار کو لگ گئی ۔ یہ دیکھ کر آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا کہ اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس مجوسی کی دیوار خراب ہو رہی ہے اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی اکھڑے گی ۔ اسی پریشانی کے عالم میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دروازہ بجایا تو ایک لونڈی باہر نکلی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ دروازے پر موجود ہے ۔ وہ مجوسی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آیا اور ا س نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنے قرض کا مطالبہ کریں گے، اس لئے اس نے آتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دی ۔ امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں تو قرض سے بھی بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیوار پر نجاست لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی کیا صورت ہے؟ (یہ سن کر) اس مجوسی نے عرض کی :میں (دیوارکی صفائی کرنے کی) ابتداء اپنے آپ کو پاک کرنے سے کرتا ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا ۔ (تفسیر کبیر، الفصل الرابع فی تفسیر قولہ: مالک یوم الدین، 1 / 204)

قرض کی ادائیگی کے لئے دعا: حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک مکاتب غلام آیا اور عرض کی میں اپنی کتابت (کا مال) اداء کرنے سے عاجز آگیا ہوں ، میری کچھ مدد فرمائیے ۔ آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کیا میں تجھے وہ کلمے نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے سکھائے تھے (اور ان کلمات کی برکت یہ ہے کہ ) اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے ادا کرا دے ۔ تم یہ پڑھا کرو ’’اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ‘‘ یعنی اے اللہ ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے تو کافی ہوجا، اورمجھے اپنی مہربانی سے اپنے سوا سے بے پرواہ کردے ۔ (ترمذی، احادیث شتی، 110- باب، 5 / 329، الحدیث: 3574)

قرضدار پر نرمی اور مہلت دینا اسلام کا عظیم اخلاقی درس ہے ۔ ایسا عمل دنیا و آخرت میں کامیابی اور اللہ کی رحمت کے حصول کا ذریعہ بنتا ہے اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔


اللہ عزوجل نے جو دین اپنے محبوب آقائے دو جہاں مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو عطا فرمایا ہے اس میں مظلوموں، تنگدستوں غریبوں اور مقروضوں کی مدد کا حکم دیا گیا ہے تاکہ وہ بھی پر سکون زندگی گزار سکے ۔  آئیں اس کے متعلق حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی تعلیمات کا مطالعہ کرے ۔

عرش کا سایہ اور مقروض کو مہلت دینے والا :حضور جان عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کاقرض مُعاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن عَرْش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا کہ جس دن عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ (ترمذی، 3/ 52، حديث:1310)

یعنی جس دن سوائے عرش کے سائے کے کوئی سایہ نہیں ہوگا اور شدید گرمی کی حالت میں رب العالمین کے عرش کا سایہ ملنا رب العزت کا بہت بڑا فضل ہے جو چند لوگوں کو ہی ملے گا اب میں سے قرض دار کو مہلت دینے والا بھی ہے ۔

دنیا و آخرت کی آسانی :حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو کسی تنگدست (مقروض) پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخِرت میں اس پر آسانی فرمائے گا ۔ (ابن ماجہ،ج 3،ص147،رقم: 2417)

اس حدیث مبارکہ میں ہے کہ اللہ اس کی دنیا کی بھی اور آخرت کی بھی مشکلات کو دور فرمائے گا ۔

قرض میں مہلت اور بخشش:رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:ایک شخص نے کبھی کوئی نیک کام نہ کیا تھا، البتہ! وہ لوگوں کو قرض دیا کرتا اور اپنے نوکروں سے کہا کرتا مقروض کے لئے جتنا قرضہ ادا کرنا آسان ہو اتنا لے لینا اور جتنا ادا کرنا مشکل ہو اتنا چھوڑ دینا، اے کاش! ہمارا ربّ بھی ہم سے درگزر فرمائے ۔ جب اس کا اِنتقال ہوگیا تو اللہ پاک نے دریافت فرمایا:کیا تو نے کبھی کوئی نیکی بھی کی؟ اس نے عرض کی:نہیں، البتہ! میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور جب آپنے خادِم کو قرض کی وصولی کے لئے بھیجتا تو اسے کہا کرتا تھا کہ جتنا آسان ہو اتنا لے لینا جتنا مشکل ہو اتنا چھوڑ دینا، ہو سکتا ہے کہ اللہ پاک ہم سے بھی درگزر فرمائے ۔ تو اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: میں نے تمہیں بخش دیا ۔ (مسند امام احمد، 3/285، حدیث:8738)

ہمیں بھی چاہیے کہ اگر رب العالمین نے ہمیں مال و دولت دیا ہے تو اس سے لوگوں کی مدد کرے اور انھیں بغیر صود کے قرض دیں ۔ اگر کوئی قرض واپس کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تو اسے اللہ کی رضا کے لیے معاف کردے یا اس مہلت دیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خدمت خلق کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ یارب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ۔