محمد
جمیل سلیم عطاری (درجۂ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،
پاکستان)
اسلام نے مالی معاملات میں عدل، نرمی اور
ہمدردی کی تعلیم دی ہے ۔ قرض خواہ کو حکم دیا گیا ہے کہ اگر مقروض تنگدست ہو تو
اُسے مہلت دے ۔ یہ عمل نہ صرف انسانی
ہمدردی ہے بلکہ اللہ کی رضا اور اجر کا باعث بھی ہے ۔ قرآن و حدیث میں ایسے شخص کے لیے جنت کی
خوشخبری دی گئی ہے آئیے اس حوالے سے کچھ ملاحظہ فرمائیں :
اللہ تعالیٰ
نے فرمایا: وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ
تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (۲۸۰)ترجمۂ کنز الایمان: اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک
اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لیے اور بھلاہے اگر جانو ۔ (سورۃ البقرۃ، آیت 280)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر
تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا
اجرِ عظیم کا سبب ہے ۔ قرضدار کو مہلت دینے
اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل:
(1)اللہ پاک کے عرش کا سایہ :حضرت ابو
ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’جس نے تنگ دست کو
مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں
رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی
انظار المعسر ۔ ۔ ۔ الخ،
3 / 52، الحدیث: 1310)
(2)بخش کا سبب:حضرت حذیفہ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’ گزشتہ زمانے میں
ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ آیا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا
کوئی اچھا کام یاد ہے؟ اس نے کہا، میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے ۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا ۔ اُس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں
سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا تھا، اگر مالدار بھی مہلت
مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا
۔ اللہ تعالیٰ نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم
اس سے در گزر کرو ۔ (مسند امام احمد، حدیث حذیفۃ بن الیمان، 9 / 98، الحدیث:
23413)
(3)اور صحیح
مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضر اُس معاف کرنے والے، مالدار پر آسانی کرنے
اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا
حقدار ہوں ، اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلم،کتاب المساقاۃ والمزارعۃ،
باب فضل انظار المعسر، ص844، الحدیث: 29(1560))
(4)بروز قیامت تکلیفوں سے نجات:حضرت ابو
قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا
ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن کی
تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مُفلِس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے ۔ (مسلم،کتاب
المساقاۃ والمزارعۃ، باب فضل انظار المعسر، ص845، الحدیث: 32(1563))
(5)اللہ تعالیٰ رحم
فرمائے :حضرت جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ
اقدس ﷺ نے فرمایا: ’اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے
اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں آسانی کرے ۔ (بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع، 2 / 12، الحدیث:
2076 )
امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا اہم واقع :امام فخر الدین رازی
رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’منقول ہے کہ ایک مجوسی پر امام ابو
حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کچھ مال قرض تھا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے قرض کی
وصولی کے لئے ا س مجوسی کے گھر کی طرف گئے ۔ جب اس کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) آپ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے جوتے پر نجاست لگ گئی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے (نجاست
چھڑانے کی غرض سے) اپنے جوتے کو جھاڑا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ا س
عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اڑ کر مجوسی کی دیوار کو لگ گئی ۔ یہ دیکھ کر آپ پریشان ہو گئے اور فرمایا کہ
اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اُس مجوسی کی دیوار خراب ہو رہی ہے
اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی اکھڑے گی ۔ اسی
پریشانی کے عالم میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دروازہ بجایا تو ایک
لونڈی باہر نکلی ۔ آپ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ نے اس سے فرمایا: اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ
دروازے پر موجود ہے ۔ وہ مجوسی آپ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آیا اور ا س نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنے قرض کا
مطالبہ کریں گے، اس لئے اس نے آتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دی ۔ امام ابو حنیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں تو قرض سے بھی بڑا معاملہ در پیش ہے، پھر آپ رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیوار پر نجاست لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار
صاف کرنے کی کیا صورت ہے؟ (یہ سن کر) اس مجوسی نے عرض کی :میں (دیوارکی صفائی کرنے
کی) ابتداء اپنے آپ کو پاک کرنے سے کرتا ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول
کر لیا ۔ (تفسیر کبیر، الفصل الرابع فی
تفسیر قولہ: مالک یوم الدین، 1 / 204)
قرض کی ادائیگی کے لئے دعا: حضرت علی
المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک
مکاتب غلام آیا اور عرض کی میں اپنی کتابت (کا مال) اداء کرنے سے عاجز آگیا ہوں ،
میری کچھ مدد فرمائیے ۔ آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا
کیا میں تجھے وہ کلمے نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ
وَسَلَّمَ نے سکھائے تھے (اور ان کلمات کی برکت یہ ہے کہ ) اگر تجھ پر پہاڑ برابر
بھی قرض ہو تو اللہ تعالیٰ تجھ سے ادا کرا دے ۔ تم یہ پڑھا کرو ’’اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ
بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ‘‘ یعنی اے
اللہ ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے تو کافی ہوجا، اورمجھے اپنی مہربانی
سے اپنے سوا سے بے پرواہ کردے ۔ (ترمذی، احادیث شتی، 110- باب، 5 / 329، الحدیث:
3574)
قرضدار پر
نرمی اور مہلت دینا اسلام کا عظیم اخلاقی درس ہے ۔ ایسا عمل دنیا و آخرت میں کامیابی اور اللہ کی
رحمت کے حصول کا ذریعہ بنتا ہے اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔
Dawateislami