زین
العابدین (درجۂ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
اسلام کا
مقصد ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا ہے جہاں مقروض پر نرمی کرنا نہ صرف انسانی ہمدردی
ہے بلکہ عرش الہی کے سائے کی ضمانت بھی ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ اس تعلیم نبوی پر عمل کریں تاکہ دنیا میں سکون حاصل ہواور آخرت
میں رنج نہ ہو چند فرامینِ نبی پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔
(1) بخشش
کا ذریعہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی
اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اگلی امتوں میں ایک گنہگار شخص تھا جو
لوگوں کو قرض معاف کر دیا کرتا تھا جب اس کا انتقال ہوا تو اللہ تعالی نے اس کو
بخش دیا اور پروردگار عالم نے فرمایا جب وہ معاف کر دیا کرتا تھا تو میں اس سے زیادہ
حقدار ہوں ۔ (جامع الاحادیث، جلد 3، ص 334
،حدیث نمبر 1714)
(2)مقروض
کو مہلت دینے کی فضیلت :روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں فرمایا
رسول اللہ ﷺ نے جس کا کسی شخص پر کوئی حق ہو وہ اسے مہلت دے
دے تو اسے ہر دن کے عوض صدقہ کا ثواب ہوگا ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ج 1 ، حدیث نمبر:2927 )
(3)عرش کا
سایہ ملنے کا سبب:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جو اپنے قرضدار کو مہلت دی ہے یا قرض معاف کر دے وہ قیامت
کے دن عرش کے سائے کے نیچے ہوگا ۔ (جامع
الاحادیث ،حدیث نمبر ،1713جلد 3،صفحہ
نمبر 333 )
(4)نیکی
حاصل کرنے کا ذریعہ :ام المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی
ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دروازے کے باہر دو لڑنے والوں کی بلند آواز
سنی جن میں سے ایک دوسرے سے قرض کم کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا اور قرض میں نرمی
چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا آدمی کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا ۔ ‘‘ آپ ﷺ اُن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا
: ’’کون ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں
گا؟‘‘ تو اُن میں سے ایک نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ ﷺ !وہ
میں ہوں ، اور اب اِس (مقروض) کے لیے وہی ہے جو یہ چاہتا ہے ۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:250 )
اللہ تعالیٰ
سے دعا ہے کہ ہمیں ان احادیث کو پڑھنے اور آگے پہچانے کی توفیق عطا فرمائے آمین
بجاہ النبی الامین ﷺ ۔
Dawateislami