حضرت سیِّدُنا شقیق بلخی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃُ اللہِ علیہ کے ساتھ جا رہا تھا کہ ایک شخص آپ کو دیکھ کر چھپ گیا اور دوسرا راستہ اختیار کیا ۔ جب آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے اسے پکارا، وہ آیا تو پوچھا کہ تم نے راستہ کیوں بدل دیا؟ اور کیوں چھپ گئے؟ اس نے عرض کی: ”میں آپ کا مقروض ہوں، میں نے آپ کو دس ہزار درہم دینے ہیں جس کو کافی عرصہ گزر چکا ہے اور میں تنگدست ہوں، آپ سے شرماتا ہوں ۔ “ امام اعظم رحمۃُ اللہِ علیہ نے فرمایا: ”سُبْحٰنَ اللہ! میری وجہ سے تمہاری یہ حالت ہے، جاؤ! میں نے سارا قرض تمہیں معاف کر دیا ۔ میں نے اپنے آپ کو اپنے نفس پر گواہ کیا ۔ اب آئندہ مجھ سے نہ چھپنا،اور سنو جو خوف تمہارے دل میں میری وجہ سے پیدا ہوا مجھے وہ بھی معاف کر دو ۔ ( مناقب الامام الاعظم ، جلد نمبر 1 ، صفحہ نمبر : 273 ، مکتبہ نبویہ گنج بخش روڈ لاہور )

آئیے مقروض پر نرمی کرنے کی چند احادیث ملاحظہ کرتے ہیں ۔

( 1) مقروض کو مہلت دینا : فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کاقرض مُعاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن عَرْش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا کہ جس دن عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ۔ (جامع ترمذی شریف ، کتاب البیوع ، باب ماجاء فی انظار المعسر والرفق بہ ، جلد نمبر : 3 ، صفحہ نمبر : 52 ، حدیث نمبر : 1310 )

( 2 ) مقروض پر نرمی کرنا : رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو کسی تنگدست (مقروض) پر آسانی (نرمی)کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخِرت میں اس پر آسانی (نرمی) فرمائے گا ۔ (ابن ماجہ، جلد نمبر : 3 ، صفحہ نمبر : 147 ، حدیث نمبر : 2417 )

( 3 ) آخرت میں آسانیاں : جو دنیامیں تنگ دست کو آسانی فراہم کرےگا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ دنیا وآخرت میں اُس کے لئے آسانیاں پیدا فرمائے گا ۔ ( مسلم شریف : کتاب الذکر والدعا ، باب فضل الاجتماع علی تلاوةالقرآن ، صفحہ نمبر : 1447 ، حدیث نمبر : 2699 )

( 4 ) قرض معاف کردینا : نبیِّ کریم علیہ الصلوۃ و السَّلام نے ارشاد ہے: تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قَبْض کرنے فِرِشْتہ آیا تو اُس سے کہا گیاکہ کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا ۔ اس سے کہا گیا:غور تو کر اس نے کہا: اس کے سِوا اور کچھ نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو مُعاف کر دیتا پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں داخل فرما دیا ۔ (صحیح بخاری شریف ، جلد نمبر : 2 ،صفحہ نمبر: 460 ،حدیث نمبر : 3451 )

( 5 ) مقروض پر نرمی کرنے والا بخشا گیا : رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:ایک شخص نے کبھی کوئی نیک کام نہ کیا تھا، البتہ! وہ لوگوں کو قرض دیا کرتا اور اپنے نوکروں سے کہا کرتا:’’ مقروض کے لئے جتنا قرضہ ادا کرنا آسان ہو اتنا لے لینا اور جتنا ادا کرنا مشکل ہو اتنا چھوڑ دینا، اے کاش! ہمارا ربّ بھی ہم سے درگزر فرمائے ۔ “ جب اس کا اِنتقال ہوگیا تو اللہ پاک نے دریافت فرمایا:کیا تو نے کبھی کوئی نیکی بھی کی؟ اس نے عرض کی:نہیں، البتہ! میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور جب اپنے خادِم کو قرض کی وصولی کے لئے بھیجتا تو اسے کہا کرتا تھا کہ جتنا آسان ہو اتنا لے لینا جتنا مشکل ہو اتنا چھوڑ دینا، ہو سکتا ہے کہ اللہ پاک ہم سے بھی درگزر فرمائے ۔ “ تو اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:” میں نے تمہیں بخش دیا ۔ ( مسند امام احمد ، جلد نمبر : 3 ، صفحہ نمبر : 285 ، حدیث نمبر : 8738 )

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مَقْرُوض سے ہمیشہ نرمی اور حُسْنِ سُلوک سے پیش آناچاہئے ۔ ضَرورت مندوں کو قَرْض دینا اور قَرْض کی بہترین ادائیگی کرنا، اسلام میں جہاں اس کی ترغیب ہے وہیں تنگدَسْت مقروض سے شفقت و مہربانی اور نرمی سے پیش آنا بھی اسلامی تعلیمات کا روشن باب ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبین صلی اللہ علیہ والہ وسلم